Monthly Archives: مارچ, 2010

سورۃ الفتح


بسم اللٰہ الرحمٰن الرحیم

1 إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًۭا مُّبِينًۭا

2 ‏لِّيَغْفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَطًۭا مُّسْتَقِيمًۭا ‎

3 ‏وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا ‎

4 ‏هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ فِى قُلُوبِ ٱلْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوٓا۟ إِيمَنًۭا مَّعَ إِيمَنِهِمْ ۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَوَتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا ‎

5 ‏لِّيُدْخِلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَتِ جَنَّتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَرُ خَلِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَلِكَ عِندَ ٱللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًۭا ‎

#6 ‏وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَفِقِينَ وَٱلْمُنَفِقَتِ وَٱلْمُشْرِكِينَ وَٱلْمُشْرِكَتِ ٱلظَّآنِّينَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًۭا ‎

7 ‏وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَوَتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ‎

8 ‏إِنَّآ أَرْسَلْنَكَ شَهِدًۭا وَمُبَشِّرًۭا وَنَذِيرًۭا ‎

9 ‏لِّتُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةًۭ وَأَصِيلًا ‎

10 ‏إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَهَدَ عَلَيْهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا ‎

11 ‏سَيَقُولُ لَكَ ٱلْمُخَلَّفُونَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَآ أَمْوَلُنَا وَأَهْلُونَا فَٱسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًۢا ۚ بَلْ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۢا ‎

12 ‏بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهْلِيهِمْ أَبَدًۭا وَزُيِّنَ ذَلِكَ فِى قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًۢا بُورًۭا ‎

13 ‏وَمَن لَّمْ يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ فَإِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَعِيرًۭا ‎

14 ‏وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَوَتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ‎

15 ‏سَيَقُولُ ٱلْمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا۟ كَلَمَ ٱللَّهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَلِكُمْ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا۟ لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا ‎

16 ‏قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ تُقَتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا۟ يُؤْتِكُمُ ٱللَّهُ أَجْرًا حَسَنًۭا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا ‎

17 ‏لَّيْسَ عَلَى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْأَعْرَجِ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْمَرِيضِ حَرَجٌۭ ۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَرُ ۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًۭا ‎

18 ‏ لَّقَدْ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَبَهُمْ فَتْحًۭا قَرِيبًۭا ‎

19 ‏وَمَغَانِمَ كَثِيرَةًۭ يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًۭا ‎

20 ‏وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةًۭ تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِۦ وَكَفَّ أَيْدِىَ ٱلنَّاسِ عَنكُمْ وَلِتَكُونَ ءَايَةًۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَطًۭا مُّسْتَقِيمًۭا ‎

21 ‏وَأُخْرَىٰ لَمْ تَقْدِرُوا۟ عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرًۭا ‎

22 ‏وَلَوْ قَتَلَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوَلَّوُا۟ ٱلْأَدْبَرَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا ‎

23 ‏سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبْدِيلًۭا ‎

24 ‏وَهُوَ ٱلَّذِى كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنۢ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ‎

25 ‏هُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَٱلْهَدْىَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُۥ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌۭ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَآءٌۭ مُّؤْمِنَتٌۭ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَـُٔوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍۢ ۖ لِّيُدْخِلَ ٱللَّهُ فِى رَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا۟ لَعَذَّبْنَا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ‎

26 ‏إِذْ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلْجَهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ ٱلتَّقْوَىٰ وَكَانُوٓا۟ أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا ‎

27 ‏لَّقَدْ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءْيَا بِٱلْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا۟ فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَلِكَ فَتْحًۭا قَرِيبًا ‎

28 ‏هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۭا ‎

29 ‏مُّحَمَّدٌۭ رَّسُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًۭا سُجَّدًۭا يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَنًۭا ۖ سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ۚ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّلِحَتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةًۭ وَأَجْرًا عَظِيمًۢا

اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی (1) تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے در گزر فرماۓ (2) اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے (3) اور تمہیں سیدھا راستہ دکھاۓ(4) اور تم کو زبردست نصرت بخشے (5)۔وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی(6) تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں (7) ۔ زمین اور آسمانوں کے سب لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے(8)۔ (اس نے یہ کام اس لیے کیا ہے)تاکہ مومن مردوں اور عورتوں (9)کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرماۓ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے(10)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان منافق مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں(11)۔برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آ گۓ(12)، اللہ کا غضب ان پر ہوا اور اس نے ان پر لعبت کی اور ان کے لیے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے(13)۔

اے نبیؐ، ہم نے تم کو شہادت دینے والا(14)، بشارت دینے والا اور خبر دار کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے تاکہ اے لوگو، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کا ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو(16)۔

اے نبیؐ،جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے (17) وہ در اصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا(18)۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا، اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نےاللہ سے کیا ہے (19)، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرماۓ گا۔ع

اے نبیؐ، بدوی عربوں(20) میں سے جو لوگ پیچھے جھوڑ دیے گۓ تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ ’’ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں‘‘۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں(21)۔ ان سے کہنا ’’اچھا، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے(22)۔ (مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہر گز پلٹ کر نہ آ سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوںکو بہت بھلا لگا (23) اور تم نے بہت برے گمان کیسے اور تم سخت بد باطن(24) لوگ ہو‘‘۔

اللہ اور اس کے رسول پر جو لوگ ایمان نہ رکھتےہوں ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتے ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے(25)۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے۔ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور و رحیم ہے(26)۔

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو(27)۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں(28)۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ ’’ تم ہر گز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے(29)‘‘۔ یہ کہیں گے کہ ’’ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو‘‘۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے۔) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں ۔ ان کے پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ ’’عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جاۓ گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہو جائیں گے(30)۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گۓ جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو درد ناک سزا دے گا۔ اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لیے نہ آۓ تو کوئی حرج نہیں (31)۔ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا‘‘۔

اللہ مومنوں سےخوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے(32)۔ ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی(33)، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی، اور بہت سامال غنیمت انہیں عطا کر دیا جسے وہ (عنقریب) حاصل کریں گے(34)۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ اللہ تم سے بکثرت اموال غنیمت کا وعدہ کرتا ہے جنہیں تم حاصل کرو گے(35)۔ فوری طور پر تو یہ فتح اس نے تمہیں عطا کر دی(36) اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیے(37)، تا کہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جاۓ(38) اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے(39)۔ اس کے علاوہ دوسرے اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی تک قادر نہیں ہوۓ ہو اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے(40)، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یہ کافر لوگ اگر اس وقت تم سے لڑ گۓ ہوتے تو یقیناً پھیر جاتے اور کوئی حامی و مدد گار نہ پاتے(41)۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے(42) اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ۔ وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، حالانکہ وہ ان پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو ان کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا(43)۔ اگر (مکہ میں ) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے،اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آۓ گا(تو جنگ نہ روکی جاتی۔ روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کر لے ۔ وہ مومن الگ ہو گۓ ہوتے تو (اہل مکہ میں سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے (44)۔ (یہی وجہ ہے کہ ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی(45) تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی(46) اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ع

فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے (47)مطابق تھا۔ (48)ان شاء اللہ تم ضرور مسجد حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہو گے(49) ، اپنے سر منڈواؤ گے اور بال ترشواؤگے(40)، اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا۔ وہ اس بات کو جانتا تھا جسے تم نہ جانتے تھے اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی۔

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے(51)۔ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت (52) اور آپس میں رحیم ہیں (53)۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے ۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں (54)۔ یہ ہے ان کی صفت توراۃ میں (55)۔ اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی (56) ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی ،پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لاۓ ہیں اور جنہوں نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا(57)ہے ۔ ع

یومِ پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں


بسم اللٰہ الرحمٰن الرحیم

23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک میں قراردادِ لاہور پیش کی گئی تھی، جو بعد میں‌ قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس دن آل انڈیا مسلم لیگ نے اے-کے فضلِ حق، جو بنگال کے وزیراعلیٰ تھے، کی پیش کردہ قرارداد منظور کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ اب متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندؤوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے۔ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا تصور تو علامہ محمد اقبال نے پیش کیا تھا، لیکن مسلم لیگ نے اس قرارداد کو منظور کرکے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا، جو 7 سال بعد قیامِ پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔

کیا عہد کیا گیا تھا؟

قرارداد پاکستان اس بات کا عہد تھا، کہ مسلمانان ہند کے لئے ایک علیحدہ مملکت قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے گی، جہاں پر وہ اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ واضح رہے کہ یہ قرارداد اس شخص کی موجودگی میں‌ پاس ہورہا تھا، جو کسی زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کا بہت بڑا حامی تھا۔ یہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے، جن پر ہندوؤں کی ذہنیت اور مکاری آشکار ہوگئی تھی، اور انہوں نے ہندوؤں کے ساتھ ساتھ برصغیر کے قوم پرست مسلمان علماء کا بھی مقابلہ کیا جو قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ ایسے ہی حالات کی طرف علامہ محمد اقبال نے اشارہ کیا تھا:

ملا کو ہے جو ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں‌ کہ ہم نے اس عہد کو بھلا دیا ہے جس کو پورا کرنے کی خاطر ہمارے آباؤاجداد نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی تھی۔ جس کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنے گھر، کاروبار اور جانیں تک قربان کردی تھیں۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا کہ سیکولر؟ کسی نے یہ نہیں‌ پوچھا تھا کہ فیڈریشن ہونا چاہیئے کہ کنفیڈریشن؟ کسی نے اپنے برانڈ کے اسلام کی نفاذ کی بات نہیں‌ کی تھی۔ یہ سارے سوال ہی بے محل اور غیر ضروری تھے۔ ان کے سامنے تو ایک ہی مقصد اور منزل تھی، اور وہ منزل تھی، ”مسلمانان ہند کے لئے الگ مملکت کا قیام“۔ سیکولر اور اسلامی ریاست کے بحث سے قطع نظر، ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کسی سیاسی نعرے کی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ ایک واضح اور متعین نصب العین تھا کہ ایسی جگہ جہاں‌ پر وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اگر صرف نماز، روزہ ہی کافی تھا، تو اس کی اجازت تو متحدہ ہندوستان میں بھی تھی۔

اس وقت ایک جذبہ تھا، ایک لگن تھی، ایک آرزو تھی، کہ کسی طرح مسلمانوں کو آزادی مل جائے اور وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس جدوجہد میں‌ علماء بھی تھے، انگریزی تعلیمی اداروں سے پڑھے ہوئے لوگ بھی تھے، نوکر پیشہ لوگ بھی تھے اور کھیتوں میں‌ کام کرنے والے بھی۔ ان سب نے مل کر اپنا کل، ہمارے آج پر قربان کردیا، تا کہ ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے سکیں۔

ہمارے موجودہ رویے

لیکن ہماری حالت کیا ہے؟ پتہ نہیں‌ کیوں 23 مارچ 1940ء کی تصاویر دیکھتے ہوئے مجھے 16 دسمبر 1971ء یاد آجاتا ہے، اور وہ تصویر جس میں‌ پاک فوج کے کمانڈر ہندوستانی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ ہندوستانی فوجیوں کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ ہے، اور ہمارے جوانوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ جس دوقومی نظریہ کی بات ہم نے 23 مارچ 1940ء کو کی تھی، اس کا بدلہ انہوں نے ہم سے لے لیا۔ کتنی جلدی ہم نے اپنے آباؤاجداد کی محنت پر پانی پھیر دیا؟ کتنی آسانی سے ہم نے ” ادھر تم، ادھر ہم“ کے نعرے میں آدھے پاکستان کو کھو دیا؟

تھوڑا آگے چلیں تو پے درپے فوجی آمریتوں نے وطن عزیز کو جیسے مفلوج کرکے رکھ دیا۔ مانا کہ جممہوری آمر بھی کچھ کم نہ تھے، صرف وردی کا فرق تھا، لیکن بنیادی طور پر قائداعظم کے پاکستان کو جتنا نقصان آمریت نے پہنچایا ہے، اتنا جمہوریت نے نہیں دیا۔ کیونکہ ہم بطورِ قوم، سیاسی طور پر بالغ نہ ہوسکے۔ آج کل کی نوزائیدہ جمہوریت کی بچکانہ حرکتیں انہی آمریتوں کا شاخسانہ ہیں۔

ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو جمہوری حکومت کے ادوار میں سیاسی پارٹیوں کی آپس کی چپقلش ہو، یا فوجی حکمرانوں کے دور میں‌ امریکہ نوازی کی بات ہو، نقصان پاکستان کا ہی ہوا ہے۔ ہم نے ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگا کر سب سے پہلے پاکستان ہی کو داؤ پر لگا دیا۔ ایک طرف قائد اعظم تھے، جو مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے امریکی صدر پر دباؤ ڈالتے ہیں، اور ایک طرف ہم ہیں کہ ایک ہی فون کال پر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔

رہی موجودہ حالات کی بات، تو جہاں پر یہ معلوم نہ ہو کہ دشمن کون ہے اور دوست کون؟ اس سے ابتر صورتحال کیا ہوسکتی ہے؟ کل تک جو دشمن تھے، ان کے لئے امن کی آشائیں ہیں، اور جو واقعی بلا معاوضہ سپاہی اور دوست تھے، ان کی لاشوں پر بیٹھ کر ہم اپنے ملک کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ جلتی پر تیل کا کام پاکستانی طالبان نے کیا، جو آئے روز معصوموں کی جان لے کر پتہ نہیں کونسے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں؟

پس چہ باید کرد؟

اتنے گھمبیر اور پیچیدہ حالات میں اس عہد کو کیسے یاد رکھا جاسکتا ہے، جو پاکستان کے قیام کا باعث بنا۔ مایوس ہونا بہت آسان ہے، اور اس کے لئے کافی سارے وجوہات بھی ہیں۔ اس طرح کے تبصرے ہمیں‌ آئے روز سننے کو ملتے ہیں، کہ خاکم بدہن، اب پاکستان کا قائم رہنا مشکل ہے۔ لیکن کیا مایوس ہونے سے ہم ان مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے جن میں‌ ہم آج گھرے ہوئے ہیں؟علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:

خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تُو ہے

ہم ہر سال 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔ کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ آخر کیوں ہم اس دن کو مناتے ہیں؟ کیا گھر پر پاکستان کا پرچم لگا کر، فوجی پریڈ دیکھ کر اور دفتر سے چھٹی لے کر اس دن کا حق ادا ہوجاتا ہے؟ ہر گز نہیں۔

اگر ہم اس سال 23 مارچ کا دن ایک الگ طریقے سے منائیں، ایک مختلف انداز سے منائیں، جس میں سادگی بھی ہو اور وقار بھی ہو، امید کا پیغام بھی ہو اور دکھوں کا مداوا بھی، تو ہم اس مایوسی کی کیفیت سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم اگر اس دن کو عہد کریں کہ جس مقصد کی خاطر ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم مزید جدوجہد کریں گے۔وہ مقصد مسلمانوں کی ان کے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی سہولت تھی۔ جہاں‌ پر مذہب، مسلک، برادری اور علاقے کی بنیاد پر کسی سے کوئی برا سلوک نہ ہو۔ اس کام کے لئے کسی سیاسی تحریک کی ضرورت نہیں، کیونکہ سیاسی تحریکیں کچھ عرصے بعد اپنی موت آپ مر جاتی ہیں۔ اس کام کے لئے اخلاص، لگن اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم نے ہمیں ایمان، اتحاد، تنظیم جیسے رہنماء اصول دئے تھے، جن کو ہم نے ”سب سے پہلے پاکستان“ سے بدل دیا۔ آج ہمیں‌ پھر اپنے پرانے شناخت کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم کے بتائے ہوئے اصولوں کے بغیر پاکستان ادھورا ہے۔

آئیے ہم عہد کریں کہ

ہم پاکستان کو اپنے قائد کے دئے ہوئے راہنما اصولوں کی روشنی میں چلانے کی کوشش کریں گے۔
ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں‌ ایک اسلامی، فلاحی مملکت بنائیں گے۔
ہم پاکستان کو غیروں کی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد کریں گے اور پُرامن طریقوں سے اغیار کے غلام حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کریں‌ گے۔
ہم آپس کے اختلافات بھلا کر پہلے مسلمان، پاکستانی اور بعد میں‌ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ہونے کا عملی مظاہرہ کریں گے۔
ہم اپنی آنے والی نسلوں‌ کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینے کے لئے جدوجہد کریں‌ گے، تاکہ وہ اپنے دین کی پیروی کرتے ہوئے باقی اقوام سے ترقی کی دوڑ میں‌ بھی مسابقت کریں۔

اور آخر میں سب مل کر یہ دعا کریں کہ اے اللٰہ، ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھنا، ہمیں دوستوں اور دشمنوں میں‌ تمیز کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں‌ آپس کی لڑائیوں، اور نفاق سے بچا، ہمیں اسلام کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین


مقتول یقیناً مجرم تھا، کیوں سچائی سے پیار کیا؟


20 مارچ 2003ء کا دن بھی عجیب دن تھا۔ اس روز عراق پر دنیا کی نام نہاد سپر پاور نے اپنی پوری قوت کے ساتھ باقاعدہ حملہ کردیا تھا۔ اس حملے کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگوں نے مذہب، رنگ ونسل اور تعصبات کی پرواہ کئے بغیر احتجاج کیا۔ لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کے لوگوں کو ”آزاد“ کرنے کا تہیہ کرلیا تھا۔ یہ آزادی تھی، زندگی سے آزادی! اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

اس بازوئے قاتل کو چومو، کس شان سے کاری وار کیا
مقتول یقیناً مجرم تھا، کیوں سچائی سے پیار کیا

عراق پر حملے کے لئے جو گھسے پھٹے جواز پیش کئے گئے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ ان کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ سب سے بڑا الزام تو یہی تھا کہ عراق کے پاس Weapons of Mass Destruction ہیں۔ آج تک دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ عراق سے ایسے ہتھیار ملیں جن کی موجودگی کا دعویٰ جارح اتحادی افواج نے کیا تھا۔ سنا تھا جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، لیکن کم از کم عراق کے معاملے میں جھوٹ ابھی تک چل رہا ہے۔ جس جھوٹ کی بنیاد پر جارج بش اور اس کے اتحادیوں نے الزامات کی عمارت قائم کی تھی، وہ آج تک قائم ہے۔ آج ایسا کوئی بھی نہیں ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے پوچھ سکے کہ کس اخلاقی بنیاد پر تم لوگوں نے عراق پر حملہ کیا تھا؟

عراق پر حملہ کرنے کے وقت عراقی عوام کو جمہوریت کا تحفہ دینے کی خوشخبری دی گئی تھی۔ ان کو صدام حسین کے مظالم سے آزادی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ لڑنے والے بھلا اپنے وعدوں کا پاس کیا رکھیں گے۔ انہوں نے تو عراق کی عوام کو خانہ جنگی کا سوغات پیش کیا۔ اتنے لوگ صدام اپنی طویل دور حکومت میں بھی نہیں مار سکا جتنے جمہوریت پسند اتحادی افواج اور ان کے مقامی کارندوں نے مارے ہیں۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہہ رہے کہ صدام کے مظالم جائز تھے۔ وہ بھی اپنی جگہ قابل مذمت ہیں۔ لیکن ظلم کو ظلم سے ختم کرنا کونسا عقل مندوں والا کام ہے؟

صدام حکومت کو ختم کرنے کے لئے امریکی افواج نے طاقت کے ساتھ ساتھ Divide and Rule والی پالیسی کا استعمال بھی کیا۔ سنی اور شیعہ آبادی کو آپس میں لڑوا کر اپنے مفادات بہت آسانی سے حاصل کئے ہیں۔ اسی طرح کی حکمت عملی کا استعمال افغانستان میں بھی کیا گیا تھا، جب احمد شاہ مسعود کی شمالی اتحاد کو طالبان کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ عراق میں آئے روز سنی اور شیعہ اجتماعات پر حملے بھی اس کشیدگی کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بدنام زمانہ بلیک واٹر ایجنسی کی ”خدمات“ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

عراق پر حملے سے پہلے پاکستان میں بھی متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ یہاں پر اس بات کا بھی اشارہ تھا کہ پاکستانی عوام ایشوز کی سیاست پر زیادہ توجہ دیتی ہے، لیکن اس پیغام کو شائد متحدہ مجلس عمل کے رہنما سمجھ نہ سکے۔ اور ان کے آپس کے اختلافات ان کو قومی منظرنامے سے ہٹا کر لے گئے۔

پاکستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں جنگ مخالف مظاہرے اس بات کی نشاندہی تھی کہ ابھی بھی لوگوں کے اندر انسانیت کا جذبہ موجود ہے۔ یہ بات واقعی سوچنے کے قابل ہے کہ امریکہ کے اندر بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جنگ کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی۔ اس لئے ہمیں ہر غیر مسلم کو اپنا دشمن تصور کرنے کی بجائے ان تک اسلام کی آفاقی دعوت پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ ہم اگر اپنی آواز ان لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں تو یقیناً حالات میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔

پاکستان بھی آج کل کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار ہے۔ ایک طرف پاکستانی طالبان کے روپ میں بھارت کے ایجنٹ آئے روز معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ سرکار کی طرف سے Do More کا مطالبہ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت اور سیاسی رہنماؤں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپس کے اختلافات اپنی جگہ لیکن ملک کی سالمیت کے معاملے پر اتفاق رائے وقت کی ضرورت ہے۔ کراچی میں عاشورہ کے جلوس پر حملہ اور ابھی علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کسی سازش سے خالی نہیں۔ ہم جتنا آپس میں لڑیں گے، اتنا دشمن کے آگے کمزور ہوں گے۔


طالبان اور جمہوریت


حامد میر

صاحبان اختیار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح کے بار بار دعوے کررہے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سوات کو عسکریت پسندوں سے پاک کردیا گیا، جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی، باجوڑ میں 63سال کے بعد پاکستان کا پرچم لہرا دیا گیا۔ وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے ایک سے زائد مرتبہ کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ اس دعوے کی دیکھا دیکھی باجوڑ میں طالبان رہنما مولوی فقیر محمد اور قاری ضیاء کو مار دینے کا اعلان بھی کردیا گیا۔ جس کسی نے ان دعووں کی تصدیق کیلئے ثبوت کا تقاضا کیا اسے بڑی رعونت اور نفرت کے ساتھ ملک دشمنوں کا ساتھی قرار دیا گیا۔

اس دوران کراچی سے افغان طالبان کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری کی خبریں بھی آئیں اور افواج پاکستان کے بعض سینئر افسران کی مدت ملازمت میں توسیع بھی ہوگئی لیکن پھر اچانک خودکش حملوں کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہوگیا۔ پہلے ماڈل ٹاؤن لاہور اور پھر آر اے بازار لاہور میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان حملوں میں زیادہ نقصان بے گناہ عورتوں اور بچوں کا ہوا۔ ان حملوں کے ساتھ ہی حکیم اللہ محسود اور مولوی فقیر محمد نے میڈیا کے ساتھ رابطے شروع کردیئے اور اپنے زندہ ہونے کی خبریں دیں۔ حد تو یہ تھی کہ 12 مارچ کو جمعہ کی نماز سے پہلے اسلام آباد میں کچھ صحافیوں کو شمالی وزیرستان سے فون پر بتایا گیا کہ طالبان کی طرف سے نماز جمعہ کے بعد عوام کیلئے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جائے گا تاکہ حملوں میں ان کا کم سے کم نقصان ہو۔ اس دوران لاہور میں دو خوفناک خودکش حملے ہوئے اور ان حملوں کے تھوڑی دیر بعد طالبان نے فیکس کے ذریعہ تین صفحات پر مشتمل ہدایت نامہ جاری کردیا جس میں عوام سے کہا گیا کہ وہ فوج، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے دور رہیں، سیاستدانوں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات سے بھی دور رہیں، جلسے جلوسوں میں شرکت نہ کریں، فوج، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے میل جول اور لین دین نہ رکھیں، ایسے ہوٹلوں میں نہ جائیں جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لوگوں کا آنا جانا ہو اور اس کے علاوہ این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر سے بھی دور رہیں۔ اس ہدایت نامے کا فیکس کے ذریعہ میڈیا تک پہنچنا اس امر کا ثبوت تھاکہ طالبان کا نیٹ ورک بدستور قائم ہے اور ان کے موقف میں پہلے سے زیادہ شدت اور سختی پیدا ہوچکی ہے۔
طالبان نے اپنے ہدایت نامے میں حکومت اور فوج پر حملوں کی وجہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ڈرون حملوں کو قرار دیا۔ ہدایت نامے میں کہاگیا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی تھی لیکن پاکستان کی حکومت اور فوج اسلامی نظام کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس ہدایت نامے میں حکومت اور فوج کے ساتھ جنگ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جہاد کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جو بہت قابل غور ہے۔ ہدایت نامے کے اجراء سے پتہ چلتا ہے کہ خود طالبان کی قیادت کو بھی احساس ہے کہ خودکش حملوں میں زیادہ نقصان بے گناہ عورتوں اور بچوں کا ہورہاہے اور لفظ جنگ کے استعمال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خودکش حملوں کو جہاد کہنے سے بھی احتراز کیا جارہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ڈرون حملوں کا جواز پیش کرکے ایک انتقامی جنگ کا اعلان کیا گیا۔ اسی ہدایت نامے میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں اپنی ماؤں بہنوں کو فروخت کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے یا ان کی حفاظت کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔

اس ہدایت نامے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ طالبان خود کو پاکستانی ماؤں اور بہنوں کا محافظ سمجھتے ہیں۔ اگر وہ واقعی خود کو محافظ سمجھتے ہیں تو پھر قوم کی مائیں اور بہنیں ان سے یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہیں کہ ماڈل ٹاؤن لاہور اور آر اے بازار لاہور میں آپ کے حملوں کے باعث جو مائیں اور بہنیں ماری گئیں ان کا قاتل کون ہے؟ یہ عورتیں بھی اسی طرح بے گناہ اور مظلوم ہیں جس طرح شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملوں کے باعث اکثر اوقات بے گناہ عورتیں ماری جاتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ امریکی ڈرون میں بھی زیادہ تر بے گناہ مارے جارہے ہیں اور طالبان کے حملوں میں بھی بے گناہ مارے جارہے ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ کا حصہ بن کر پاکستان کو تباہی کے راستے پر ڈالا، اپنے ہم وطنوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے ہاتھ بیچ دیا اور امریکہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے پاکستان پر ڈرون حملے شروع کروادیئے لیکن مشرف کے جرائم کی سزا پاکستان کے مظلوم عوام کو نہیں ملنی چاہئے۔ ان مظلوم اور نہتے عوام نے 18فروری 2008ء کو خوف اور دہشت کی فضا میں گھروں سے نکل کر ووٹ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور مشرف نواز قوتوں کو مسترد کردیا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بہت کمزور ہے، سیاست دان کرپٹ ہیں لیکن مشرف کو پاکستان سے طالبان نے نہیں بلکہ اسی کمزور اور کرپٹ جمہوریت نے بھگایا۔ یقینا پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی تھی لیکن پاکستان بنانے والے بادشاہت کے نہیں جمہوریت کے قائل تھے۔ افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد وطن عزیز پر امریکہ کے گماشتے فوجی حکمرانوں کا قبضہ ہوگیا اور انہوں نے پاکستان کو شکست و ریخت کے سوا کچھ نہ دیا لیکن یہ تو مانیئے کہ اسلام کی خدمت اگر ہوئی تو جمہوری ادوار میں ہوئی۔ جمہوریت نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا، جمہوریت نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، جمہوریت نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور یہی جمہوریت پاکستان کو ایک مثالی فلاحی مملکت بھی بنا سکتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آج کی جمہوریت ڈرون حملے روکنے میں ناکام ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اقتدار طالبان کو مل جائے تو کیا وہ ڈرون حملے بند کروا سکتے ہیں؟ ڈرون حملے بند ہوسکتے ہیں لیکن اس کیلئے ہمیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ قومی یکجہتی اسی وقت ممکن ہے جب پوری قوم انصاف پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کے خودکش حملوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ڈرون حملوں کے خلاف بھی متحد ہوجائے۔ ہم سب کو مل جل کر جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے۔ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے پارلیمینٹ کی بالادستی ضروری ہے۔

پارلیمینٹ طاقتور ہوگی تو کسی حکومت اور فوج کو من مانی کا موقع نہیں ملے گا۔ پارلیمنٹ ڈرون حملے نہ روکنے کی صورت میں کراچی سے طور خم تک امریکہ اور نیٹو افواج کی سپلائی لائن روکنے کا حکم دے گی تو کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اس حکم کو نظرانداز کرے اور اسی طریقے سے ڈرون حملے بند ہوں گے۔ پاکستان سیاسی و جمہوری جدوجہد کی پیداوار ہے اور پاکستان کی بقا جمہوریت سے وابستہ ہے۔ طالبان کو چاہئے کہ وہ بندوق کے بجائے جمہوریت کا راستہ اختیار کریں اور جمہوریت کے ذریعہ پاکستان کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ترکی کے اسلام پسند جمہوریت کے ذریعہ سیکولر قوتوں کو شکست دے سکتے ہیں تو یہ پاکستان میں ممکن کیوں نہیں؟ آزمائش شرط ہے لیکن ذرا صبر کے ساتھ۔

باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ (حدیث 2(


حدثنا عبد الله بن يوسف قال: أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها: أن الحارث بن هشام رضي الله عنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، كيف يأتيك الوحي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس، وهو أشده علي، فيفصم عني وقد وعيت عنه ما قال، وأحيانا يتمثل لي الملك رجلا، فيكلمني فأعي ما يقول).
قالت عائشة رضي الله عنها: ولقد رأيته ينزل عليه الوحي في اليوم الشديد البرد، فيفصم عنه وإن جبينه ليتفصد عرقا.

ترجمہ: ہم کو عبد اللٰہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، ان کو مالک نے ہشام بن عروہ کی روایت سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے نقل کی، انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللٰہ عنھا سے نقل کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے آنحضرت صلی اللٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ حضور آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تومیرے دل و دماغ پر (اس فرشتے( کے ذریعے نازل شدہ وحی محفوظ ہوجاتی ہے اوار کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللٰہ عنہا کا بیان ہے کہ میں‌ نے سخت کڑاکے کی سردی میں‌آنحضرت صلی اللٰہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔

سلگتے سوالوں کے قرآنی جواب


السلام علیکم و رحمۃ‌اللہ و برکاتہ،
برقی اور طباعتی ذرائع ابلاغ پر بھانت بھانت کی بولیاں سن کر دل بے چین ہوا تو مسائل کو قرآن کریم سے سمجھنے کی کوشش کی۔ سوال اور جواب بغیر کسی تبصرے کے پیش خدمت ہیں۔ یہ کسی اینکر کا پراپیگنڈا یا دانشور کی دانشوری نہیں، اللہ کا کلام ہے اور اس میڈیا سے نشر ہونے والی ہر بات شک و شبہے سے بالا تر ہے۔
سوال: Do More کا سلسلہ کب تھمے گا؟
جواب:
وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ(البقرۃ 120)
"اور یہود و نصارٰی تم سے اس وقت راضی نہ ہوں گے جب تک تم (اسلام چھوڑ کر) ان کے دین پر نہ چلنے لگو، (ان سے کہو) ہدایت تو بے شک اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور اگر تم نے (اللہ کی طرف سے) اپنے پاس علم آ جانے کا بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں کوئی دوست اور مددگار نہ ہو گا”
سوال: کیا یہودی اور صلیبی ہمارے دوست اور خیر خواہ ہیں؟
جواب: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ (آل عمران 11
اے ایمان والو! تم غیروں کو (اپنا) راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری نسبت فتنہ انگیزی میں (کبھی) کمی نہیں کریں گے، وہ تمہیں سخت تکلیف پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں، بغض تو ان کی زبانوں سے خود ظاہر ہو چکا ہے، اور جو (عداوت) ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہے وہ اس سے (بھی) بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں واضح کر دی ہیں اگر تمہیں عقل ہو
سوال: ہمارے حقیقی دوست اور خیرخواہ کون ہیں؟
جواب: إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ (المائدۃ 55)
بیشک تمہارا (مددگار) دوست تو اﷲ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں
سوال: مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ کر کے اتحاد بنانے والے کون ہیں؟
جواب:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (المائدۃ 51)
اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
سوال: یہودی اور صلیبیوں سے دوستی کے لیے کون لوگ بے چین ہوتے ہیں؟
جواب: فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ (المائدۃ 52)
آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق اور ذہنوں میں غلامی کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصارٰی) میں (شامل ہونے کے لئے) دوڑتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی گردش (نہ) آجائے (یعنی ان کے ساتھ ملنے سے شاید ہمیں تحفظ مل جائے)، تو بعید نہیں کہ اﷲ (واقعۃً مسلمانوں کی) فتح لے آئے یا اپنی طرف سے کوئی امر (فتح و کامرانی کا نشان بنا کر بھیج دے) تو یہ لوگ اس (منافقانہ سوچ) پر جسے یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں شرمندہ ہوکر رہ جائیں گے
سوال: صلیبیوں کے جوتے چاٹنے والوں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں سے کون سا گروہ غالب رہے گا؟
وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ (المائدۃ 56)
اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کو دوست بنائے گا تو (وہی اﷲ کی جماعت ہے اور) اللہ کی جماعت (کے لوگ) ہی غالب ہونے والے ہیں
سوال: اللہ کی جماعت کون سی ہے؟
جواب: لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلۃ 22)
آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے
سوال شیطان کی جماعت کون سی ہے؟
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (المجادلۃ 14)
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ (المجادلۃ 19)

کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسی قوم (یعنی یہودیوں) کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا۔ (ایسے منافق) نہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں اور جھوٹی قَسمیں کھاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
اُن پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے سو اُس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے، یہی لوگ شیطان کی جماعت ہیں۔ جان لو کہ بیشک شیطانی جماعت کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں
سوال: دشمنی اور دوستی کا معیار کیا ہو ؟
جواب: قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَاؤُا مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ (الممتحنۃ 4)
بیشک تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور اُن کے ساتھیوں میں بہترین نمونۂ (اقتداء) ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور اُن سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو کلیتہً بیزار (اور لاتعلق) ہیں، ہم نے تم سب کا کھلا انکار کیا ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت و عناد ہمیشہ کے لئے ظاہر ہوچکا، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ،

جوابِ پرچہ حکومت


نام : حالات اور مفاد پر منحصر ہے۔ ایک نام نہیں۔

رول نمبر: 9211

کالج : قومی اور صوبائی اسمبلیاں

سوال نمبر 1: حکومت کرنے کے لیے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے یا نوٹوں کی جواب تفصیل سے لکھیں اور اگر ہو سکے تو ایک دو مثالیں بھی دیں۔

جواب: حکومت کرنے کے لئے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ووٹوں کے لئے نوٹوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر ٹھوس وعدے، ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تختیاں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

سوال نمبر 2: لوٹے کی تعریف کریں، نیز یہ بھی بتائیں کے لوٹے کی کتنی اقسام ہوتی ہیں

جواب: لوٹا وہ ہوتا ہے جو ضرورت پڑنے پر ”قوم کے وسیع تر مفاد میں“ اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر عوام کی ”خدمت“ کرتا ہے۔
لوٹے کے بہت سارے اقسام ہیں، لیکن مشہور اقسام 2 ہیں۔ پہلی قسم، بغیر پیندے کا لوٹا، یہ وہ لوٹا ہوتا ہے جو ہر الیکشن کے بعد لڑھکتا ہے۔ پھر اگر اس کو اپنی قلابازیوں کا مناسب اور منہ مانگا معاوضہ، جیسے کہ وزارت وغیرہ، نہ ملے تو اور اگلے الیکشن سے پہلے دوبارہ بھی لڑھک سکتا ہے۔

دوسری قسم، ان لوٹوں کی ہے، جو کسی اشد ضرورت کے تحت ہی لڑھکتے ہیں۔ اپنی اس طرز عمل کو وہ عوام کی خدمت کے لئے ایک کوشش کا نام دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوٹے اول الذکر لوٹے سے ذرا کم قیمت کے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کو سیاسی شعبدہ بازی میں وہ مہارت حاصل نہیں ہوتا جو اول الذکر لوٹے کو ہوتا ہے۔

سوال نمبر 3: اچھی سے اچھی وزارت حاصل کرنے کےلیے جیل جانا ضروری ہے یا مکھن لگانا، اگر جیل جانا ضروری ہے تو کتنی دفعہ اور اگر مکھن لگانا ضروری ہے تو کتنا

جواب: اچھی سے اچھی وزارت حاصل کرنے کے لئے مکھن لگانا جیل جانے سے زیادہ ضروری ہے۔ جیل جانے والے تو بے وقوف ہوتے ہیں جو سیاسی قیدی بن کر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مکھن لگانے کا ہنر وزارت حاصل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ مکھن کی مقدار کا تعین کرنا مشکل بھی ہے اور غیر ضروری بھی۔ جتنا زیادہ شکر ڈالوگے، چائے اتنی ہی میٹھی ہوگی۔

سوال نمبر 4: کسی صورت میں اگر حکومت ٹوٹ جائے تو سب سے پہلا فیصلہ کیاکرنا چاہے۔ وطن چھوڑ کر بھاگ جانا چاہے یاپھر وطن سے نکلنے کو ترجیح دینی چاہئے؟
جواب: حکومت ٹوٹنے کی صورت میں پہلی ترجیح تو یہ ہونی چاہییے کہ لوٹا کریسی کے ہنر سے کام لے کر نئے آنے والوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ وہ حضرات جن کی لوٹا بننے کی صلاحیت مضبوط نہ ہو، وہ ہرگز اس طریقے کو نہ آزمائیں۔ کیونکہ ناکامی کی صورت میں جیل میں چکی پیسنے کی نوبت آسکتی ہے۔ اس لئے ایسے حضرات پہلی فرصت میں بمعہ اپنے اہل وعیال کے، ملک سے بھاگنے کی کوشش کریں۔ اس صورت میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس فعل کو سیاسی جلاوطنی کا نام دے کر عوام کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ آم کے آم، گھٹلیوں کے دام۔

سوال نمبر 5: اپنی حکومت زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لیے کون سا ڈرامہ کرنا ضروری ہے؟

جواب: اپنی حکومت کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ایک ڈرامہ کافی نہیں۔ سیاستدان کو اداکاری کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیئے۔ اگر کسی مسئلے پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے، تو پہلے تو ان کو وعدوں کا لولی پاپ دے کر بہلانے کی کوشش کی جائے، جو اکثر اوقات کامیاب ہوجاتی ہے۔ اگر مسئلہ شدید نوعیت کا ہو، اور لولی پاپ سے کام نہ بنے تو پھر موجودہ مسئلے سے بڑا مسئلہ پیدا کرکے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرکے کہا جائے، ارے جناب، ہمارے ملک میں اس سے بڑے مسئلے بھی ہیں۔ امید ہے یہ حربہ کارگر ہوگا۔

سوال نمبر 6: چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نا جائے کی تعاریف کریں اور یہ بتائیں کہ اس سوال کا اس پرچے سے کیا تعلق ہے؟

جواب: یہ سوال ذرا ٹیڑھا ہے۔ اور جواب دینے کی صورت میں اندیشہ نقصِ امن کے تحت پرچہ نویس کو جیل کی ہوا کھانے کی نوبت آسکتی ہے۔ اس لئے معذرت۔

سوال نمبر 7: یہاں آپ کو اجازت دی جاتی ہے اپنی مرضی کا سوال لکھیں اور اپنی مرضی کا جواب لکھیں- سوالوں کے نمبر سیاست دان کی ذہانت کے مطابق وزارت کی شکل میں دیے جائیں گے۔

جواب: اس کے لئے میرا پسندیدہ سوال یہ ہوگا کہ
”کیا حکومت کے انتخاب کا طریقہ تبدیل ہونا چاہییے، اگر ہاں، تو آپ کے خیال میں متبادل طریقہ کیا ہونا چاہیئے؟“
میرا جواب یہ ہے، کہ ہم ہر 5 سال تو نہیں ۔۔۔۔ خیر، 3 سال بعد الیکشن پر خزانے کے اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ جو کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے ایک فضول خرچی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس اسراف سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک متبادل طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن سارے امیدواروں کو ایک میدان میں جمع کرکے ایک ٹرینڈ طوطے کو چھوڑ دے۔ طوطا جس کے سر پر بیٹھے گا، وہی وزیراعظم ہوگا۔ پھر وزیر اعظم اپنی کابینہ کی تشکیل کے لئے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر سارے امیدواروں کے اوپر جھاڑو کے تنکے پھینکے، جن لوگوں کے ہاتھ جتنے تنکے آئیں، ان کو الگ کرکے تنکوں کی تعداد کے لحاظ سے وزارتیں دی جائیں۔
نوٹ: اس طریقہ کار کے تحت الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کا کریمینل ریکارڈ اور سند یافتہ لوٹا ہونا ضروری ہے۔ شریف یعنی بدھو امیدواروں سے پیشگی معذرت۔

سوال نمبر 8: اپوزیشن میں رہ کر جس بات سے انکار کیا جاتا ہے حکومت میں آتے ہی اس بات کی حمایت کی جاتی ہے اس کی وجہ بیان کریں۔

جواب: اس کی وجہ آپ ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ حکومت ایک پہاڑی پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اپوزیشن زمین پر کھڑی ہے، اور عوام کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہے، اس لئے وہ ہوا میں معلق ہیں۔ اب اپوزیشن والوں کو عوام اپنے سے اوپر نظر آتے ہیں، تو ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے واویلا کرتے ہیں کہ دیکھو، کیا حالت کردی ہے عوام کی۔ جبکہ حکومت اوپر سے نیچے دیکھتی ہے تو اس کو عوام زمین پر ہی نظر آتی ہے۔ اس لئے اپوزیشن اور عوام کے احتجاج کو سیاسی کھیل قرار دیتی ہے۔

یہی سیاسی کھیل جب حکومت کا تختہ الٹ کر اسے اپوزیشن اور اپوزیشن کو حکومت بناتی ہے، تو وہی ہوتا ہے جو پہلے ہورہا ہوتا ہے۔ یعنی کل کی اپوزیشن آج کی حکومت ہوتی ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھی ہے۔ اب اس کو عوام زمین پر نظر آتی ہے۔ جبکہ کل کی حکومت جو آج کی اپوزیشن ہے، اس کو اب عوام ہوا میں معلق نظر آتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی واویلا کرتے ہیں۔

رہی عوام کی حالت، تو وہ پہلے بھی ناک سے آویزاں تھے، آج بھی ہیں۔

نوٹ: ناچیز بچپن سے ہی پڑھاکو واقع ہوا ہے۔ اس لئے ہر سوال کا جواب بہت تفصیل سے دینے کا عادی ہے۔ اگر ممتحن کے مزاج شریف کو ناگوار گزرے، تو ناک بھوں چڑھانے کی بجائے، اسے بندہ کی کمزوری سمجھ کر اچھے مارکس دئیے جائیں۔ نوازش ہوگی۔

باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟


حدثنا الحميدي عبد الله بن الزبير قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا يحيى بن سعيد الأنصاري قال: أخبرني محمد بن إبراهيم التيمي: أنه سمع علقمة بن وقاص الليثي يقول: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه علىالمنبر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرىء ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها، أو إلى امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه).

ترجمہ: ہم کو حمیدی نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ حدیث محمد بن ابراھیم تیمی سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس حدیث کو علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، ان کا بیان ہے کہ میں‌نے مسجد نبوی صلی اللٰہ علیہ وسلم میں منبر رسول صلی اللٰہ علیہ وسلم پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللٰہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرمارہے تھے کہ میں‌ نے جناب رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن( دولت دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لئے ہوگی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔

صحیح بخاری، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم۔

لا الہ الا اللہ


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا

فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند

بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری

نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

مینگورہ خودکش حملہ، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 13ہوگئی


سوات …ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر خود کش حملہ میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت13فراد جاں بحق اور متعددزخمی ہوگئے۔ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر ہونیوالے دھماکے کے بارے میں ڈی پی او سوات کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور رکشے میں سوار تھا،جس نے پیدل فوج اور پولیس کی چیک پوسٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کر دی۔ انہوں نے کہا کہ سخت سکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکا۔ ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کی ٹانگیں مل گئی ہیں۔ حملہ میں14کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ میں تین پولیس اہلکاروں،ایک سکیورٹی اہلکار سمیت13افراد جاں بحق ہوگئے۔دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا،دھماکے کے بعد متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور5گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ زخمیوں اور لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سیدو شریف پہنچادیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد علاقے کے تمام بازار اور دکانیں بند کر دی گئیں۔ دوسری جانب ایم ایس سیدو شریف اسپتال ڈاکٹر لال نور کا کہنا کہ پولیس اہلکار اور سویلین کی لاشیں لائی گئی ہیں،دھماکے میں شدید زخمی ہونیوالوں کو پشاورمنتقل کردیاگیا ہے۔ پچھلے ماہ22فروری کو مینگورہ شہر کے وسط میں فوجی قافلے پر خود کشحملہ کیا گیا تھا جس میں بھی 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

روزنامہ جنگ

%d bloggers like this: