Monthly Archives: جون, 2010

بچپن کی یادیں – 4


پرائمری اسکول سے نکلنے کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ گڑھی کپورہ کا ہائیر سیکنڈری اسکول پورے مردان ڈویژن کا پرانا اسکول ہے۔ ہمارے کچھ اساتذہ کے مطابق، اس کی تعمیر 1957 میں ہوئی تھی، اور اس وقت کے طلبہ نے اپنے کاندھوں پر پتھر لاد کر اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔ بعد میں اسی اسکول سے پڑھنے والے طلبہ میں سے کچھ اسکول ماسٹر بن کر وہاں پڑھاتے رہے۔

چھٹی جماعت میں ڈرائینگ اور پشتو اختیاری مضامین تھے۔ میں نے ڈرائینگ کا انتخاب کیا، کیونکہ پشتو کے استاد بہت سخت مزاج تھے۔ البتہ ڈرائینگ والے بہت اچھے تھے۔ نیز یہ بھی فائدہ تھا کہ کچھ زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا تھا ڈرائینگ کے پیریڈ میں۔ جبکہ پشتو کی کلاس تو بہت سنجیدہ قسم کی کلاس ہوتی تھی۔ پشتو کے استاد زرشید صاحب تھے، جو شاید پورے اسکول میں پشتو پڑھانے والے واحد استاد تھے۔

میں جتنا ان سے ڈرتا تھا، اتنا ہی ان کے زیرعتاب آیا۔ ہوا یوں کہ ایک بار ہمارے اردو کے استاد چھٹی پر تھے۔ ان کی جگہ زرشید صاحب پیریڈ اٹینڈ کرنے آئے۔ اس وقت ہماری کلاس میں استاد کے لئے میز نہیں تھی۔ بس ایک کرسی تھی۔ میں سب سے آگے والی قطار میں ٹھیک استاد کے سامنے بیٹھتا تھا۔ زرشید صاحب آئے تو کچھ دیر تک چپ رہنے کے بعد لڑکوں نے شور کرنا شروع کردیا۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا۔ چند لمحوں تک انتظار کرنے کے بعد جب ان کی صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، تو انہوں نے ڈنڈا اُٹھا کر زور سے مجھے رسید کیا، اور چلا کر کہنے لگے، خاموش!!!

لڑکے کچھ دیر تک خاموش رہتے۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور ہوکر پھرشور مچانے لگتے۔ زرشید صاحب پھر وہی طریقہ دہراتے۔ حالانکہ میں ان شور کرنے والوں میں شامل نہیں تھا۔ خیر، کلاس ختم ہونے تک میری درگت بن چکی تھی۔

ساتویں جماعت میں، میں نے ڈرائینگ کی جگہ پشتو کا انتخاب کیا۔ پشتو کی کلاس ہمارے لئے بڑی دلچسپ کلاس ہوتی تھی۔ کیونکہ زرشید صاحب سنجیدہ انداز میں بھی اس طرح پڑھاتے کہ لڑکے پوری توجہ دیتے۔ ان کا اپنا ایک اسٹائل تھا۔ مثلاً، غصے میں آتے تو مسواک سے مارتے۔ اس طرح آتے ہی بلیک بورڈ پر پشتو کے کچھ الفاظ لکھ کر اس کی معنی پوچھتے۔  ایک بار انہوں نے کچھ لفظ لکھ دیا، اور کہا، اس کے معنی بتاؤ۔ کسی نے کہا، اس کا مطلب ہے دادا۔ کسی نے کہا، دادی۔ غرض کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ۔ بعد میں انہوں نے ایک لمبی چوڑی تقریر کی، اور کہا، اس کا مطلب ہے ماموں۔

باقی اساتذہ کی طرح زرشید صاحب کو بھی کلاس میں شور بالکل پسند نہیں تھا۔ ایک بار سبق کے دوران کسی طالب علم نے ڈیسک کو زور سے دھکا دیا، جس سے ڈیسک کے کھسکنے سے آواز پیدا ہوئی۔ میں چونکہ کلاس کا مانیٹر تھا، اس لئے انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا، یہ کس نے کیا ہے؟ جلدی بتاؤ۔

میرا دھیان تو سبق کی طرف تھا، اس لئے میں نے کسی کو دیکھا نہیں تھا۔ میں نے ان سے کہہ دیا۔ انہوں نے کہا، یا تو بندے کا نام بتاؤ یا پھر خود سزا کے لئے تیارہوجاؤ۔ یہ سن کر میں تو بہت پریشان ہوگیا۔ اب جس سمت سے آواز آئی تھی، اس طرف دیکھ کر دو، تین طلبہ میں سے ایک کا نام بتا دیا کہ سر، اس نے کیا ہے۔

زرشید صاحب ڈنڈا لے کر اس کی طرف جانے لگے۔ اس بیچارے نے شور مچانا شروع کردیا، کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔ مسلسل احتجاج دیکھ کر زرشید صاحب کو بھی تھوڑا شک ہوا۔ انہوں نے مڑ کر میری طرف دیکھا۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ سوچا شامت آگئی ہے۔

کہنے لگے، ادھر آؤ۔ میں ان کے پاس گیا۔ کہا، اس بنچ پر بیٹھو۔ اور اس سے وہی آواز نکالو۔ میں بنچ پر بیٹھ گیا۔ دل ہی دل میں دعائیں کررہا ہوں کہ یا اللٰہ وہی آواز نکلے، ڈیسک کو بہت ہلایا، لیکن کچھ بھی آواز نہ نکلی۔ مجھے سردیوں میں پسینہ آگیا۔ ان سے کہا، سر، اس ڈیسک سے تو آواز نہیں نکل رہی۔ انہوں نے کچھ لمحوں تک مجھے گھورنے کے بعد کہا، ٹھیک ہے۔ اپنی بنچ پر جاؤ۔

ہماری کلاس میں دو تین لڑکے نعت خوانی کرتے تھے۔ ایک لڑکے گلزار شاہ کی آواز بہت اچھی تھی، لیکن وہ پڑھائی میں کچھ تیز نہیں تھا۔ اکثر دوسرے اساتذہ اس کو نعت پڑھنے کو کہتے۔ بہت اچھی آواز تھی اس کی۔ لیکن زرشید صاحب کو وہ بالکل پسند نہیں تھا۔ ہمیں چونکہ اس بات کا اندازہ تھا، اس لئے کبھی کبھار ان سے کہتے، سر، گلزار شاہ ایک نعت پڑھ لیں؟ یہ سن کر وہ جلدی سے کہتے، نہیں بالکل نہیں، اس کو کہو جا کر مسجد میں نعت پڑھے۔

ہمارے عربی کے استاد تھے، کفایت اللٰہ صاحب۔ بہت اچھے آدمی تھے۔ زرشید صاحب اکثر ان کو تنگ کرنے کے لئے ہمیں بھیج کر ان سے کچھ نہ کچھ الفاظ کا پشتو میں ترجمہ پوچھتے۔ ایک بار مجھے بلا کر کہنے لگے، تم کفایت اللٰہ کو جانتے ہو؟ میں نے کہا، جی ہاں، وہ ہمیں عربی پڑھاتےہیں۔ کہنے لگے، جاؤ ان سے پوچھو کہ جیسے ہر لفظ کا ایک مہمل ہوتا ہے، جیسے مولی وولی، اس کا پشتو میں کیا ترجمہ ہوگا؟

میں نے ان کے پاس جا کر کہہ دیا۔ کفایت اللٰہ صاحب سن کر ہنسنے لگے۔ کہنے لگے، زرشید صاحب کو کہو، میں عربی پڑھاتا ہوں، پشتو نہیں۔

بچپن کی یادیں – 3


اسکول کی چھٹیاں ہوجاتیں تو ہم اپنے ننھیال جاتے۔ صوابی سے تھوڑا آگے ایک گاؤں ہے گاڑمنارہ، جو کہ دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ مجھے وہاں جانے کی بہت جلدی ہوتی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے کسی قید سے آزاد ہوکر کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع مل رہا ہے۔

چھٹیوں میں اپنے ماموں زاد بھائیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا۔ ہم اکثر کرکٹ کھیلتے، یا پھر آنکھ مچولی کھیلتے۔ بنٹے بھی کھیلتے۔ لیکن میں کھیل میں تیز نہیں تھا۔ خاص کر بنٹے تو بالکل نہیں کھیل پاتا، اور اکثر ہار جاتا۔

ایک بار گھر سے ایک روپیہ ملا تھا۔ میں نے اس سے بنٹے خریدے۔ اس وقت 1 روپے کے 16 بنٹے ملتے تھے۔ بہت خوشی ہورہی تھی۔ دکان سے واپس جاتے ہوئے کرکٹ گراؤنڈ میں کچھ ادھ جلا سا کاغذ کا ڈھیر نظر آیا۔ مجھے تجسس ہوئی۔ قریب جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ کسی نے تاش کے پتے جلائے ہیں۔ لیکن پورے جلے نہیں، صرف کچھ پتے جل گئے تھے۔ میں وہیں بیٹھ کر تاش کے پتے دیکھنے لگا۔ اتنے میں ساتھ والے گھر کا ایک لڑکا آیا، وہ لوگ مہمند ایجنسی سے یہاں شفٹ ہوگئے تھے۔ اس نے مجھے وہیں بیٹھا دیکھا تو پاس آکر وہ بھی بیٹھ گیا۔ میرے ہاتھ میں بنٹے دیکھ کر اس نے تاش کا ایک پتّا اٹھایا اور مجھے دے کر کہنے لگا، یہ لو اور ان بنٹوں میں سے ایک مجھے دیدو۔ میں نے دے دیا۔ اس نے کچھ دیر بعد پھر ایک پتّا اٹھایا اور پھر مجھے سے بنٹے مانگنے لگا۔ اس بار پھر میں نے ایک بنٹا دے دیا۔

اس طرح کرتے کرتے اُس نے 12 بنٹے لے لئے۔ وہ بھی پیچھا چھوڑنے والا نہیں تھا، پھر وہی کھیل دہرانے لگا۔ ایک تاش کے پتے کے بدلے ایک بنٹے کی مانگ۔ لیکن جب میں نے اپنی مٹھی میں باقی بنٹے دیکھے تو مجھے ہوش آیا۔ اور جلدی سے اس کو تاش کے پتے واپس کرکے کہا، مجھے نہیں چاہیئے یہ تاش کے پتے۔ مجھے بنٹے واپس کردو۔ یہ سنتے ہی وہ بنٹے لے کر بھاگ گیا۔ میں نے کچھ دور تک اس کا پیچھا کیا، لیکن وہ بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ اور میں روتا ہوا گھر جانے لگا۔ بعد میں یہ واقعہ یاد کرکے اکثر ہنسی آتی تھی۔

گرمیوں میں دریا کے کنارے لوگوں کا کافی رش ہوتا تھا۔ پورے ضلع صوابی سے لوگ پکنک منانے یہاں آتے۔ دریا کے کنارے ایک گراؤنڈ تھا، جس میں اکثر فٹبال ٹورنامنٹ منعقد ہوتے۔ کبھی کبھار کرکٹ بھی کھیلی جاتی۔ دریا کے اگلے کنارے کامرہ شہر واقع ہے۔ جہاں پر پاکستان ائیرفورس کی بیس ہے۔ دریا کے بیچ میں جزیروں کی شکل میں کچھ ٹکڑے ہیں زمین کے، جہاں پر لڑاکا طیارے نشانہ بازی کی مشق کرتے تھے۔ اب بھی یہی چل رہا ہے۔

جتنی خوشی اپنے ننھیال میں آنے پر ہوتی تھی، اتنا ہی دکھ واپس جاتے ہوئے ہوتا تھا۔ دل کرتا تھا کہ ہمیشہ یہاں رہوں۔ دریا کے کنارے بیٹھ کر پانی کا نظارہ بہت دلکش ہوتا تھا۔ خیر، واپس جاکر پھر اسکول جانے کی تیاری ہوتی۔ میں پڑھائی میں تیز تھا، اس لئے استاد کے ڈنڈوں سے محفوظ رہتا تھا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد اپنی کلاس کا مانیٹر بنادیا گیا۔ استاد نے میری ذمہ داری لگائی تھی، کہ صبح آنے کے بعد اردو کی کتاب سے ایک صفحہ پڑھ کر باقی طلبہ کو سنایا کروں۔ اس طرح انہیں باقی اساتذہ کے ساتھ بیٹھ کر ملکی حالات پر تبصرہ کرنے کا موقع مل جاتا۔

جاری ہے

بچپن کی یادیں – 2


عید کے موقع پر بچوں کی خوشی قابلِ دید ہوتی ہے۔ ٹھیک کہتے ہیں، عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ چاند رات کا استقبال ہمارے ہاں الگ طریقے سے ہوتا تھا۔ سارے بچے گلی میں جمع ہوکر مختلف کھیل کھیلتے تھے۔ اکثر موم بتی کے چھوٹے چھوٹے حصے کر کے کاغذ کی کشتی میں رکھ کر اسے پانی میں چھوڑ دیتے تھے۔ جس کی کشتی زیادہ دیر تک پانی میں چلتی، وہ جیت جاتا۔ موم بتی کے علاوہ پلاسٹک کے تھیلے جلا کر بھی یہ کام کیا جاتا تھا۔

لڑکیاں مختلف گیت گا کر چاند رات کا استقبال کرتیں۔ ایک پشتو گیت جو بہت مقبول تھا بچوں میں، اس کے بول کچھ یوں تھے،

اے چاند رات، تجھے کون بہلائے گا؟
لڑکیاں چلیں اپنے سسرال، تجھے کون بہلائے گا؟
اے چاند رات، تجھے کون کِھلائے گا؟

اس کے علاوہ بھی بہت سارے کھیل تھے، جو چاند رات کی رونقیں بڑھادیتے۔ ہم سے بڑی عمر کے لڑکے اکثر ٹولی بنا کر پورے گاؤں میں ساری رات گھومتے پھرتے، شرارت میں اکثر گھروں کے باہر اسٹریٹ لائٹس کو غلیل سے نشانہ مشق بناتے۔ کبھی کبھار مالک مکان باہر نکل کر کسی نہ کسی کو پکڑ بھی لیتے۔ اس بیچارے کی پھر خوب پٹائی ہوتی۔ باقی لڑکے بھاگ جاتے۔

تقسیمِ ہند سے قبل مردان میں بہت سارے ہندو خاندان بھی آباد تھے۔ تجارت پر ان کی ہی اجارہ داری تھی۔ ہم مردان کے مشرق میں واقع گاؤں گڑھی کپورہ میں رہتے تھے، جہاں تقسیم سے پہلے ہندو کمیونٹی کے کافی سارے لوگ آباد تھے۔ ان کے مقامی لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ لوگ بھارت منتقل ہوگئے۔ ان کے مکانات اور دکانیں مقامی لوگوں کے درمیان تقسیم ہوگئیں۔ ایک دھرم شالہ بھی تھا، جس میں اب لڑکیوں کا پرائمری اسکول ہے۔ اس کے سامنے ہی ہمارا اسکول تھا۔

اسکول کا ماحول بھی عجیب تھا۔ ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ بچے اکثر باہر جاکر کھیلتے رہتے۔ ریسس کے دوران ہم اسی گرلز اسکول کے سامنے گلی میں کھیلتے۔ اس اسکول کی بیرونی دیوار پر ہندی میں کچھ تحریر لکھی ہوئی تھی۔ اس کے متعلق بچوں میں یہ مشہور تھا کہ اسکول کے اندرایک خزانہ چھپا ہوا ہے۔ جو بھی اس تحریر کو پڑھنےمیں کامیاب ہوگا، وہ خزانے کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ بھوت پریت کی بہت ساری کہانیاں بھی اس اسکول سے منسوب تھیں۔

جاری ہے


بچپن کی یادیں – 1


بچپن کا زمانہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں سب سے زیادہ معصومیت کا دور ہوتا ہے۔ کوئی فکر نہیں ہوتی کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ زندگی کے ہنگاموں سے الگ تھلگ ایک خیالی دنیا ہوتی ہے۔ مجھے اسکول کے ٹائم سے ہی لکھنے کا شوق تھا، اور اس شوق کو پورا کرنے کے لئے الٹا سیدھا کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ پھر ایک روز خیال آیا کہ کیوں نہ اہم واقعات کو قلمبند کروں۔ اب میں کوئی بڑا آدمی تو ہوں نہیں، پھر کیونکر میرے شب وروز میں کسی کو دلچسپی محسوس ہوگی؟ یہ سوچ کر رک جاتا۔ لیکن پھر یہ سوچ کر ہمت بندھی کہ یہ تو میری ذاتی ڈائری ہے اور میں کسی کو دکھانے کے لئے تھوڑی لکھ رہا ہوں۔ صرف اپنا شوق پورا کرنے کی خاطر لکھنا کوئی بری بات تو نہیں۔

پھر اپنےمشاہدات لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن لکھنا شائد اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا نظر آتا ہے۔ بمشکل ایک سے دو صفحے لکھ پاتا تھا۔ پھر کچھ ماہ بعد وہ بھی چھوڑ دیا۔ کچھ روز پہلے شاہد بھائی کے مشاہدات اور بچپن کی یادیں پڑھ کر پھر سے لکھنے کی خواہش دل میں جاگی۔ اب ان کی طرح لکھنا تو مجھے نہیں آتا، لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ کہیں پڑھا تھا کہ لکھنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اپنے بچپن کی کچھ یادیں آپ لوگوں سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے میری اس کوشش کو شاہد بھائی کی نقل نہیں سمجھا جائے گا۔

والد صاحب نے مجھے سائیکل لا کر دی تھی۔ محلے میں اکثر لڑکے میرے دوست تھے۔ ہم سائیکل پر سوار ہو کر گلی میں چکر لگاتے۔ چونکہ سائیکل میری تھی، اس لئے میں اپنی من مانی کرتا تھا۔ خود سائیکل پر بیٹھ جاتا تھا، اور ان لوگوں سے دھکا لگانے کو کہتا۔ ایک لڑکا کنڈیکٹر بن جاتا تھا، باقی تین چار لڑکے سواریوں کی شکل میں سائیکل کی پچھلی سیٹ کو پکڑ کر ساتھ ساتھ دوڑتے رہتے۔ کبھی کبھار محلے کا کوئی شرارتی لڑکا آکر میری سائیکل کو اتنی زور سے دھکا دیتا کہ مجھے سائیکل کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایسی صورتحال میں مجھے زور زور سے رونے کے علاوہ کوئی اور مؤثر طریقہ نظر نہیں آتا تھا، کیونکہ اس طرح وہ لڑکے مجھے چھوڑ کر بھاگ جاتے تھے۔

میرے اس شوق کی حد صرف اپنے گھر کے سامنے واقع مسجد تک ہی تھی۔ اس سے آگے جانے کی اجازت تھی نہ مجھ میں اتنی ہمت تھی۔ ایک بار دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ تھوڑا آگے جاکر دیکھوں۔ پہلے تو ہمت نہیں ہوئی، لیکن پھر کچھ سوچ کر چل پڑا۔ ہمارے محلے کی مسجد سے 300 گز کے فاصلے پر دوسری مسجد تھی، جو کہ گلی کے اگلے کونے پر تھی۔ میں اسی سمت میں جا رہا تھا۔ اس مسجد کے سامنے پہنچ کر فاتحانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔

پانچ سال کی عمر تک پہنچنے پر نماز کا سبق اور قرآن مجید کی تعلیم شروع ہوئی۔ نماز کا سبق یاد کرتے وقت الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ذہن میں کچھ اشکال بھی بنتی تھیں۔ مثلاً جب التحیات پڑھتا تو ذہن میں ایک کرسی کی تصویر بن جاتی، آگے والصلوٰات پڑھتا تو ایک مولوی صاحب کی تصویر بن جاتی جو مٹھی میں حلوہ لے کر دوسرے ہاتھ کی انگلی اس میں یوں ڈالتا جیسے نوٹ گن رہے ہوں۔ میں اکثر یہ بات کہہ بھی دیتا تھا، گھر میں سب لوگ سن کر ہنسنے لگتے تھے۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے نقوش ذہن میں بنتے تھے۔

باقاعدہ نماز شروع کرنے سے بہت پہلے ہی والد صاحب کے ساتھ مسجد جاتا تھا۔ نماز پڑھنا تو نہیں آتا تھا لیکن باقی لوگوں کو دیکھ کر ان کی نقل کر لیتا تھا، لیکن جب سب لوگ سجدے میں چلے جاتے تو ادھر ادھر دیکھ کر جلدی سے لیٹ جاتا۔ اکثر دوسرے ہم عمر لڑکے بھی مسجد میں آجاتے۔ نماز میں ہی ایک دوسرے کو کہنی مارنا، دھکا دینا جو کبھی کبھار باقاعدہ لڑائی میں بدل جاتا، ہم لوگوں کا مشغلہ تھا- پھر امام صاحب نماز کے فوراً بعد ہم سب کی پٹائی کرنا لازم سمجھتے تھے۔ اس لئے ان کے سلام پھیرنے سے قبل ہی اکثر لڑکے بھاگ جاتے تھے۔

میں ووٹ نہیں دیتا۔


“آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کوئی بھی حکومت آتی ہے، عوام کا جینا حرام کردیتی ہے۔” کریم چاچا حقے سے شغل کرتے ہوئے کہنے لگے۔ وہ اکثر حالات حاضرہ پر اپنی عالمانہ گفتگو سے ہمیں متاثر کرکے داد وصول کرتے تھے۔ ان باتوں میں ان سے کوئی جیت نہیں سکتا تھا، اس لئے سب لوگ کوشش کرتے تھے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ ایسی بات بھی نہیں تھی کہ وہ اچھی بحث نہیں کرسکتے تھے، بلکہ لوگ ان کی مدلل گفتگو کا جواب نہیں دے سکتے تھے۔ چاروناچار قائل ہونا ہی پڑتا تھا۔

voting

“جی، آپ سچ کہتے ہیں۔” میں نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔ حجرے میں بیٹھ کر مفت کا اخبار پڑھنا ہو، تو موصوف کی ہاں میں ہاں ملانا ایک مجبوری تھی۔

“اب دیکھو نا، آٹے کی کتنی پریشانی ہے عوام کو۔ لائنوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کے گریبان پھاڑ رہے ہیں، صرف آٹے کی خاطر۔ یہ دن بھی دیکھنا تھا۔” مجھے وہ بہت غصے میں لگ رہے تھے۔ اس بار میں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

“کبھی آٹا نہیں، تو کبھی بجلی نہیں۔ اوپر سے یہ تلقین کی جاتی ہے کہ بجلی کی بچت کرو۔ ارے خاک بچت کریں ہم! بجلی ہوگی تو بچت کریں گے نا۔ پتا نہیں کب سدھریں گے ہمارے حالات۔ کب جان چھوٹے گی ایسے حکمرانوں سے؟” انہوں نے حقے کا دھواں ہوا میں اڑا کر کہا۔ میں اخبار پڑھنے میں مشغول تھا، اس لئے انجان بننے کی کوشش کی۔ ان کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔ کہنے لگے، “ارے میاں، تم کہاں کھوگئے ہو اخبار میں؟”

“ارے نہیں تو، میں آپ کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔ آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ حکمران ہی سارے مسائل کی جڑ ہیں۔” میں سوچ رہا تھا، اتنا تبصرہ کافی ہوگا۔ لیکن انہوں نے میری بات کو آگے بڑھایا۔

“یہی بات تو میں بھی کررہا ہوں۔ اب دیکھو نا برخوردار، چینی کی قلت ہوگئی۔ بعد میں پتا چلا کہ اکثر شوگر ملیں تو ہمارے سیاستدانوں کی ہیں۔ لعنت ہے ایسے لوگوں پر۔”

“اب کیا کرسکتے ہیں، ہمیں بہتری کی امید رکھنی چاہیئے۔ حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔” میں نے ان کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے کہا۔

“ارے خاک ٹھیک ہونگے حالات۔ مجھے تو کوئی امید نہیں کہ یہ لوگ ہمارے حالات ٹھیک کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔” انہوں نے بھی قسم کھا لی تھی، کہ مجھے اخبار پڑھنے نہیں دیں گے۔

“ارے نہیں جناب۔ اتنی بھی مایوسی اچھی نہیں۔ ہم کوشش کریں تو آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔” میں چاہتا تھا کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو، تا کہ میں آرام سے اخبار پڑھ سکوں۔

“مجھے تو ایسا نہیں لگ رہا۔ کوئی بھی حکومت آتی ہے، عوام کو قربانی کا بکرا بنادیتی ہے۔ اب ایک تو بجلی نہیں، اوپر سے ہر دو تین مہینے بعد بجلی کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں۔ اس طرح عوام کو مجبور کیا جاتا ہے کہ احتجاج کریں۔” انہوں نے چپ نہ ہونے کی قسم کھائی تھی شائد۔ “اب ہمارے گاؤں کے حالات دیکھو، تیل کی قیمتیں بڑھنے سے لوگوں کو کتنی پریشانی ہورہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔ غریب آدمی کی دیہاڑی کا آدھا حصہ تو کرایوں کی نذر ہوجاتا ہے۔”

مجھے لگ رہا تھا کہ آج اخبار پڑھنے کا ارادہ ملتوی کرنا پڑے گا۔ لیکن مجبوری تھی، کیونکہ سیاست سے دلچسپی کی وجہ سے مجھے خبریں پڑھنے کے بغیر سکون نہیں ملتا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ خبریں زیادہ تر قتل وغارت، لڑائی فساد اور سیاست دانوں کی آپس میں کُشتی کے بارے میں ہی ہوتی تھیں، لیکن پھر بھی میں حجرے میں جا کر اخبار ضرور پڑھتا تھا۔ ابھی میں اٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا، کہ انہوں نے پھر وہی دکھڑا رونا شروع کیا۔

“ پتا ہے وہ اپنا نذیرا ہے نا، روزانہ شہر جاتا ہے، کارخانے میں‌کام کرنے کے لئے۔ 140 روپے دیہاڑی ملتی ہے اسے۔ لیکن بسوں کے کرائے میں ہی 60 روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں غریب آدمی کس طرح گزارا کر سکتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں وہ لوگ بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ایسے حکمرانوں کو حکومت کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔”

“چاچا، یہ تو ٹھیک ہے۔ آپ بتائیے حالات کی بہتری کا کیا طریقہ ہے؟ ہم کس طرح اس بحران سے نکل سکتے ہیں؟” میں بھی چاروناچار ان کے ساتھ بحث کرنے کے لئے مجبور ہوگیا۔

“ارے میاں، یہ سوچنا ہمارا کام نہیں۔ یہ کام ہم کریں گے تو حکمرانوں کے کرنے کے لئے کیا کام رہ جائے گا؟” انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔

“ اچھا یہ بتائیے، آپ نے پچھلی مرتبہ کس کو ووٹ دیا تھا؟” میں توقع کر رہا تھا کہ وہ حکمران پارٹی کا نام لیں گے، اور مجھے بحث کے لئے ایک موقع مل جائے گا۔

“میں ووٹ ہی نہیں دیتا۔ میرے ووٹ سے کیا فرق پڑے گا؟ میں نے آج تک کسی کو بھی ووٹ ہی نہیں‌ دیا۔” انہوں نے میری توقع کے خلاف جواب دیا۔

میں نے اخبار کو تہہ کرکے چارپائی کے سامنے رکھے میز پر رکھ دیا، چارپائی سے اتر کر جوتے پہن لئے اور حجرے سے نکل آیا۔

سیانا سیاستدان


پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر قانون جناب رانا ثناءاللٰہ کا بیان پڑھا کہ سیانے سیاستدان کو ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ واقعی یہ بات ہم لوگوں کے ذہن میں پہلے کیوں نہیں آئی۔ سیانے سیاستدان کو بہت ساری چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اپنے سیانے پن سے وہ ایسے شعبدے دکھاتے ہیں کہ ضروریات خود بہ خود پوری ہوجاتی ہیں۔سیاستدانوں کو عوام کی ضرورت نہیں ہے، ان کو پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ عوام پر تو ان کا احسان ہے کہ ان کی ڈوبتی ناؤ کو منجدھار سے نکالنے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کو یقین ہے کہ عوام ان کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر پارلیمنٹ کے دروازے تک پہنچاکر ہی دم لیں گے۔

سیاستدان پیدائشی سیانا ہوتا ہے۔ اسکول میں دیکھیں، کالج میں دیکھیں، گلی محلے میں دیکھ لیں، ہر شعبے میں ایک نہ ایک سیاستدان بیٹھا ہوا ہے۔ جو اپنی مملکت پر راج کرکے اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ اور تو اور، مساجد میں بھی مولوی صاحبان کے علاوہ ایک سیاستدان ضرور ہوگا، جو مسجد کے انتظامی امور کو بجا لاتے ہوئے بھی راجہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سارے لوگ سیاستدان ہی تو ہیں۔

سیاستدان سیانا اس لئے ہوتا ہے، کہ عوام کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہمیں بے وقوف بنارہا ہے لیکن اس کے باوجود بے وقوف بنے چلے جاتے ہیں۔ انسان کسی سے جان کر بھی بے وقوف دو طرح کے حالات میں ہوتاہے۔ یا تو وہ سامنے والے سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی اس ادا پر دل و جان سے فدا ہوتا ہے، یا پھر وہ واقعی بے وقوف ہوتا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ ہم لوگ پہلی قسم میں آتے ہیں یا دوسری قسم کے لوگوں میں۔

بچپن میں اکثر ٹافیاں خریدتے ہوئے ساتھ میں کچھ عجیب قسم کی پینٹنگز والی اسٹکرز بھی ملتی تھیں۔ ان میں سے ایک اسٹکر پر ایک نوجوان کی تصویر بنی ہوتی تھی، جس کو اگر الٹا کر کے دیکھا جاتا تو ایک بوڑھے آدمی کی تصویر میں بدل جاتی تھی۔ سیاستدان کی مثال بھی اس اسٹکر پر بنی ہوئی تصویرجیسی ہے۔ عوام جب ان کے کرتوتوں سے تنگ آکر مزید بے وقوف بننے سے انکار کرکے ان کو الٹا لٹکانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اسٹکر والے چہرے کی طرح الٹا ہونے کی بجائے ایک نئے چہرے کے ساتھ آجاتے ہیں۔ کچھ عرصے تک تو یہ نیا چہرہ لوگوں کے دلوں کو بہلا دیتا ہے۔ لیکن جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے، تو پھر عوام ان کا بھی وہی حال کرنے کی کوشش کرتی ہے، جو پچھلوں کے ساتھ کرچکی ہوتی ہے۔ نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے۔پچھلی تصویر پھر آجاتی ہے۔( مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو دیکھ لیں۔ مثال واضح ہوجائے گی۔)البتہ اس کھیل میں عوام کی کھوپڑی ضرور الٹ جاتی ہے۔

سیانے سیاستدان کی کچھ خوبیاں‌ہوتی ہیں جو کہ دوسرے لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ مثلاً سیانا سیاستدان جھوٹ نہیں بولتا۔ جی ہاں———— اگر وہ دن کو رات کہیں تو یہ بھی سچ ہے۔ کیونکہ ایسا وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں بولتے ہیں۔ کل اگر رات کو دن کہہ لیں تو یہ بھی کچھ غلط نہیں ہوگا۔ قوم کامفاد سب سے پہلے ہے۔

کچھ لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ ہر کام میں قوم کے مفاد ہی کو کیوں ترجیح دی جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی غلط بات تو نہیں۔ اب دیکھیں نا، سیاستدان بھی تو اس قوم کے افراد ہیں۔ تو ان کا مفاد قوم کا مفاد ہے۔ اس لئے کسی کو ان کی نیت پر شبہ کرنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیئے کہ بدگمانی اچھی بات نہیں ہے۔ حسن ظن بہت اچھی عادت ہے۔ اس لئے حسن ظن سے کام لیں، اور قوم کے مفاد کی خاطر سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنا بند کردیں!

سیانے سیاستدانوں کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ہر قسم کے حالات میں اپنے سیانے پن سے کام لیتے ہوئے حکومت سے چپکے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ کل جس پارٹی کی مخالفت کررہے تھے، آج اس کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ایسے سیاستدانوں کو آپ سدابہار سیاستدان کہہ سکتے ہیں۔ کچھ یار لوگ اپنے بغض کی وجہ سے ان کو لوٹے کہہ کر ان کا توہین کرتے ہیں، جو کہ ان کے خدمات کی توہین کے مترادف ہے۔

دوسری قسم ان سیاستدانوں کی ہے جو بظاہر تو اصول پسندی کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات خربوزے کی طرح دوسرے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑلیتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، لیکن اپنی غلطیوں اور غیر مستقل مزاجی کی بدولت ملک کی کشتی کو بیچ منجدھار میں ہی ڈبو دیتے ہیں۔ ان کو آپ موڈی سیاستدان بھی کہہ سکتے ہیں۔ صبح پریس کانفرنس کریں گے، لوگوں کو بھڑکا کر ان کے جذبات سے کھیل کر سڑکوں پر لے کر آئیں گے۔ لیکن جب لوگوں کا احتجاج کچھ قابو سے باہر ہوجاتا ہے، یا پھر ان کو اوپر سے ڈنڈا دکھایا جاتا ہے، تو اسی وقت 180 درجے کی یوٹرن لے کر پیچھے ہٹ جاتےہیں۔ اس عمل کو سیاسی مفاہمت کہتے ہیں۔ جس میں ان سیاستدانوں کے لئے بھی فائدہ ہوتا ہے اور ملک کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ رہی عوام کی بات، تو ان کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہوجاتی ہے، جو نہ گھر کا ہو نہ گھاٹ کا!

سیاستدانوں کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں۔ میں نہ مانوں والی سیاست کرتے ہیں۔ اپنے اس طرز عمل کو یہ لوگ اصول پسندی کا نام دیتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ زمانے کی دوڑ کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ یہ ہر الیکشن میں ناکام رہتے ہیں۔ عوام ان کی تقاریر پر سر دھنتی ہے، لیکن ان کو ووٹ بالکل نہیں دیتی۔ کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہر وقت اصول کی مالا جپتے ہیں، پتا نہیں کب جوش میں آکر استعفیٰ دے کر بوریا بستر گول کرلیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ایسے سر پھروں کو حکومتی معاملات سے دور ہی رکھا جائے۔ یہ سیاستدان اگر چہ بذات خود بہت مطمئن ہوتے ہیں،لیکن ان میں سیاستدانوں کی خصوصیات بالکل نہیں ہوتی۔ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے، اور آٹے میں کتنا ہی نمک کیوں نہ ڈالا جائے، آٹا آٹا ہی کہلائے گا۔ اس لئے اس تیسری قسم کو سیاستدان نہیں کہا جاسکتا۔

فیس بک پر پابندی


سماجی رابطوں کی ویب سائٹس آج کل نوجوان طبقے میں بہت مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ فیس بک، ٹوٹر، یوٹیوب وغیرہ آج کے دور میں ایک پسندیدہ مشغلے کے علاوہ کاروباری طبقے کے لئے بھی کشش رکھتی ہیں، جہاں پر وہ اپنے مصنوعات کی تشہیر کرسکتے ہیں۔ آج کی دنیا پچھلی دہائی کی دنیا سے بہت مختلف ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں، رابطے بڑھ گئے ہیں، انٹرنیٹ کی بدولت مختلف ممالک، نسلوں اور مذاہب کے افراد ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں، معلومات شئیر کرتے ہیں، اور بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں یا سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کی ویب سائٹس پر ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے کسی کے نسل ، زبان، مذہب کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس بات کے لئے ہر سائٹ پر ایڈمنسٹریٹر اور موڈریٹر کام کرتے ہیں، جو کہ ویب سائٹ کی پالیسی کی خلاف ورزی پر ایکشن لے کر استعمال کنندہ پر پابندی بھی لگاسکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں فیس بک پر حضرت محمد صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے لئے مختلف خاکوں کے مقابلے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شمولیت کی آخری تاریخ 20 مئی 2010 تھی۔ فیس بک پر کئی ملین مسلمان رجسٹرڈ ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کے جذبات مجروح ہوئے اور انہوں نے ایسے صفحات کی نشاندہی کی، جو کہ مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، فیس بک کی انتظامیہ نے وہ صفحات حذف کرنے سے انکار کردیا۔
ردعمل میں کچھ مسلم نوجوانوں نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے صفحات فیس بک پر بنائے، جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پابندی لگائی گئی، اور ایسے افراد کا اکاؤنٹ معطل کردیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ درایں اثناء مختلف اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں فیس بک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں فیس بک پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ اور فیس بک انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر معافی مانگے۔ پاکستان نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر فیس بک اور بعد میں یوٹیوب پر پابندی لگادی۔ بعد میں بنگلہ دیش میں بھی اسلامی جماعتوں کے مطالبے پر فیس بک پر پابندی لگادی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فیس بک پر پابندی ایک درست اقدام تھا؟ کیا مسلمانوں کو فیس بک سے ہمیشہ کے لئے ناتا توڑ لینا چاہیئے؟ یا اس عمل سے ہم باقی دنیا سے الگ تھلگ ہوجائیں گے؟ کچھ حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر خاصی تنقید ہوئی اور اس پابندی کو بھی مولوی حضرات اور جماعت اسلامی کے کھاتے میں ایک جرم کے طور پر ڈال دیا گیا۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ہم کسی ویب سائٹ پر پابندی لگا کر اس پر جاری گستاخیوں کو روک نہیں سکتے ، اوردعوت اور مکالمے کا ایک بہتر ین موقع بھی ضائع کردیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی رائے رکھنے والوں کے فیس بک پیجز اس کی الٹ ہی کہانی بیان کررہی ہوتی ہے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ باہمی مکالمہ اور بات چیت ہی ہر مسئلے کا حل ہے، لیکن ایسی صورت حال میں جہاں ہمارے پیارے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جارہی ہو اور ہم مصلحت اور رواداری کےنام پر اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کریں، کسی بھی صورت ایک مسلمان کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوگا۔ ہم وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ایمانی قوت کھو چکے ہیں، اور اس طرح کی گرم جوشی نہیں رہی کہ اسلام کے دفاع کے لئے سینہ سپر ہوکر میدان میں اتر پڑیں۔ لیکن اگر فیس بک کا اکاؤنٹ بند کرنے سے ہم کم از کم اپنی ناپسندیدگی اور غصے کا اظہار کرسکتے ہیں تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیئے۔
فیس بک پر پابندی ہمارے خیال میں ایک درست اقدام تھا۔ کیونکہ فیس بک کی انتظامیہ نے ان گستاخانہ خاکوں کا صفحہ حذف نہ کرکے اپنی غیرجانبداری مشکوک بنادی۔ فیس بک کی انتظامیہ کے اس متعصبانہ فیصلے کے خلاف ہم اپنے فیس بک اکاؤنٹ بند کرکے اپنے حصے کا کام کرسکتے ہیں۔ یہ ایک خاموش پیغام ہوگا کہ مسلمان چاہے کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو، اپنے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضایہی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنا احتجاج پہنچایا جائے، تاکہ اگلی دفعہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوچے۔
اس پورے واقعے میں ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء بات یہ سامنے آئی کہ تعلیم یافتہ طبقہ، جس پر لبرل اور آزاد خیال ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، ان کی طرف سے بھر پور ردعمل سامنے آیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

%d bloggers like this: