فیس بک پر پابندی


سماجی رابطوں کی ویب سائٹس آج کل نوجوان طبقے میں بہت مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ فیس بک، ٹوٹر، یوٹیوب وغیرہ آج کے دور میں ایک پسندیدہ مشغلے کے علاوہ کاروباری طبقے کے لئے بھی کشش رکھتی ہیں، جہاں پر وہ اپنے مصنوعات کی تشہیر کرسکتے ہیں۔ آج کی دنیا پچھلی دہائی کی دنیا سے بہت مختلف ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں، رابطے بڑھ گئے ہیں، انٹرنیٹ کی بدولت مختلف ممالک، نسلوں اور مذاہب کے افراد ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں، معلومات شئیر کرتے ہیں، اور بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں یا سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کی ویب سائٹس پر ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے کسی کے نسل ، زبان، مذہب کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس بات کے لئے ہر سائٹ پر ایڈمنسٹریٹر اور موڈریٹر کام کرتے ہیں، جو کہ ویب سائٹ کی پالیسی کی خلاف ورزی پر ایکشن لے کر استعمال کنندہ پر پابندی بھی لگاسکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں فیس بک پر حضرت محمد صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے لئے مختلف خاکوں کے مقابلے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شمولیت کی آخری تاریخ 20 مئی 2010 تھی۔ فیس بک پر کئی ملین مسلمان رجسٹرڈ ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کے جذبات مجروح ہوئے اور انہوں نے ایسے صفحات کی نشاندہی کی، جو کہ مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، فیس بک کی انتظامیہ نے وہ صفحات حذف کرنے سے انکار کردیا۔
ردعمل میں کچھ مسلم نوجوانوں نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے صفحات فیس بک پر بنائے، جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پابندی لگائی گئی، اور ایسے افراد کا اکاؤنٹ معطل کردیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ درایں اثناء مختلف اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں فیس بک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں فیس بک پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ اور فیس بک انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر معافی مانگے۔ پاکستان نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر فیس بک اور بعد میں یوٹیوب پر پابندی لگادی۔ بعد میں بنگلہ دیش میں بھی اسلامی جماعتوں کے مطالبے پر فیس بک پر پابندی لگادی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فیس بک پر پابندی ایک درست اقدام تھا؟ کیا مسلمانوں کو فیس بک سے ہمیشہ کے لئے ناتا توڑ لینا چاہیئے؟ یا اس عمل سے ہم باقی دنیا سے الگ تھلگ ہوجائیں گے؟ کچھ حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر خاصی تنقید ہوئی اور اس پابندی کو بھی مولوی حضرات اور جماعت اسلامی کے کھاتے میں ایک جرم کے طور پر ڈال دیا گیا۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ہم کسی ویب سائٹ پر پابندی لگا کر اس پر جاری گستاخیوں کو روک نہیں سکتے ، اوردعوت اور مکالمے کا ایک بہتر ین موقع بھی ضائع کردیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی رائے رکھنے والوں کے فیس بک پیجز اس کی الٹ ہی کہانی بیان کررہی ہوتی ہے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ باہمی مکالمہ اور بات چیت ہی ہر مسئلے کا حل ہے، لیکن ایسی صورت حال میں جہاں ہمارے پیارے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جارہی ہو اور ہم مصلحت اور رواداری کےنام پر اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کریں، کسی بھی صورت ایک مسلمان کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوگا۔ ہم وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ایمانی قوت کھو چکے ہیں، اور اس طرح کی گرم جوشی نہیں رہی کہ اسلام کے دفاع کے لئے سینہ سپر ہوکر میدان میں اتر پڑیں۔ لیکن اگر فیس بک کا اکاؤنٹ بند کرنے سے ہم کم از کم اپنی ناپسندیدگی اور غصے کا اظہار کرسکتے ہیں تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیئے۔
فیس بک پر پابندی ہمارے خیال میں ایک درست اقدام تھا۔ کیونکہ فیس بک کی انتظامیہ نے ان گستاخانہ خاکوں کا صفحہ حذف نہ کرکے اپنی غیرجانبداری مشکوک بنادی۔ فیس بک کی انتظامیہ کے اس متعصبانہ فیصلے کے خلاف ہم اپنے فیس بک اکاؤنٹ بند کرکے اپنے حصے کا کام کرسکتے ہیں۔ یہ ایک خاموش پیغام ہوگا کہ مسلمان چاہے کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو، اپنے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضایہی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنا احتجاج پہنچایا جائے، تاکہ اگلی دفعہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوچے۔
اس پورے واقعے میں ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء بات یہ سامنے آئی کہ تعلیم یافتہ طبقہ، جس پر لبرل اور آزاد خیال ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، ان کی طرف سے بھر پور ردعمل سامنے آیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: