سیانا سیاستدان


پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر قانون جناب رانا ثناءاللٰہ کا بیان پڑھا کہ سیانے سیاستدان کو ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ واقعی یہ بات ہم لوگوں کے ذہن میں پہلے کیوں نہیں آئی۔ سیانے سیاستدان کو بہت ساری چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اپنے سیانے پن سے وہ ایسے شعبدے دکھاتے ہیں کہ ضروریات خود بہ خود پوری ہوجاتی ہیں۔سیاستدانوں کو عوام کی ضرورت نہیں ہے، ان کو پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ عوام پر تو ان کا احسان ہے کہ ان کی ڈوبتی ناؤ کو منجدھار سے نکالنے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کو یقین ہے کہ عوام ان کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر پارلیمنٹ کے دروازے تک پہنچاکر ہی دم لیں گے۔

سیاستدان پیدائشی سیانا ہوتا ہے۔ اسکول میں دیکھیں، کالج میں دیکھیں، گلی محلے میں دیکھ لیں، ہر شعبے میں ایک نہ ایک سیاستدان بیٹھا ہوا ہے۔ جو اپنی مملکت پر راج کرکے اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ اور تو اور، مساجد میں بھی مولوی صاحبان کے علاوہ ایک سیاستدان ضرور ہوگا، جو مسجد کے انتظامی امور کو بجا لاتے ہوئے بھی راجہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سارے لوگ سیاستدان ہی تو ہیں۔

سیاستدان سیانا اس لئے ہوتا ہے، کہ عوام کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہمیں بے وقوف بنارہا ہے لیکن اس کے باوجود بے وقوف بنے چلے جاتے ہیں۔ انسان کسی سے جان کر بھی بے وقوف دو طرح کے حالات میں ہوتاہے۔ یا تو وہ سامنے والے سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی اس ادا پر دل و جان سے فدا ہوتا ہے، یا پھر وہ واقعی بے وقوف ہوتا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ ہم لوگ پہلی قسم میں آتے ہیں یا دوسری قسم کے لوگوں میں۔

بچپن میں اکثر ٹافیاں خریدتے ہوئے ساتھ میں کچھ عجیب قسم کی پینٹنگز والی اسٹکرز بھی ملتی تھیں۔ ان میں سے ایک اسٹکر پر ایک نوجوان کی تصویر بنی ہوتی تھی، جس کو اگر الٹا کر کے دیکھا جاتا تو ایک بوڑھے آدمی کی تصویر میں بدل جاتی تھی۔ سیاستدان کی مثال بھی اس اسٹکر پر بنی ہوئی تصویرجیسی ہے۔ عوام جب ان کے کرتوتوں سے تنگ آکر مزید بے وقوف بننے سے انکار کرکے ان کو الٹا لٹکانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اسٹکر والے چہرے کی طرح الٹا ہونے کی بجائے ایک نئے چہرے کے ساتھ آجاتے ہیں۔ کچھ عرصے تک تو یہ نیا چہرہ لوگوں کے دلوں کو بہلا دیتا ہے۔ لیکن جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے، تو پھر عوام ان کا بھی وہی حال کرنے کی کوشش کرتی ہے، جو پچھلوں کے ساتھ کرچکی ہوتی ہے۔ نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے۔پچھلی تصویر پھر آجاتی ہے۔( مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو دیکھ لیں۔ مثال واضح ہوجائے گی۔)البتہ اس کھیل میں عوام کی کھوپڑی ضرور الٹ جاتی ہے۔

سیانے سیاستدان کی کچھ خوبیاں‌ہوتی ہیں جو کہ دوسرے لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ مثلاً سیانا سیاستدان جھوٹ نہیں بولتا۔ جی ہاں———— اگر وہ دن کو رات کہیں تو یہ بھی سچ ہے۔ کیونکہ ایسا وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں بولتے ہیں۔ کل اگر رات کو دن کہہ لیں تو یہ بھی کچھ غلط نہیں ہوگا۔ قوم کامفاد سب سے پہلے ہے۔

کچھ لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ ہر کام میں قوم کے مفاد ہی کو کیوں ترجیح دی جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی غلط بات تو نہیں۔ اب دیکھیں نا، سیاستدان بھی تو اس قوم کے افراد ہیں۔ تو ان کا مفاد قوم کا مفاد ہے۔ اس لئے کسی کو ان کی نیت پر شبہ کرنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیئے کہ بدگمانی اچھی بات نہیں ہے۔ حسن ظن بہت اچھی عادت ہے۔ اس لئے حسن ظن سے کام لیں، اور قوم کے مفاد کی خاطر سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنا بند کردیں!

سیانے سیاستدانوں کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ہر قسم کے حالات میں اپنے سیانے پن سے کام لیتے ہوئے حکومت سے چپکے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ کل جس پارٹی کی مخالفت کررہے تھے، آج اس کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ایسے سیاستدانوں کو آپ سدابہار سیاستدان کہہ سکتے ہیں۔ کچھ یار لوگ اپنے بغض کی وجہ سے ان کو لوٹے کہہ کر ان کا توہین کرتے ہیں، جو کہ ان کے خدمات کی توہین کے مترادف ہے۔

دوسری قسم ان سیاستدانوں کی ہے جو بظاہر تو اصول پسندی کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کی ہمدردیاں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات خربوزے کی طرح دوسرے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑلیتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، لیکن اپنی غلطیوں اور غیر مستقل مزاجی کی بدولت ملک کی کشتی کو بیچ منجدھار میں ہی ڈبو دیتے ہیں۔ ان کو آپ موڈی سیاستدان بھی کہہ سکتے ہیں۔ صبح پریس کانفرنس کریں گے، لوگوں کو بھڑکا کر ان کے جذبات سے کھیل کر سڑکوں پر لے کر آئیں گے۔ لیکن جب لوگوں کا احتجاج کچھ قابو سے باہر ہوجاتا ہے، یا پھر ان کو اوپر سے ڈنڈا دکھایا جاتا ہے، تو اسی وقت 180 درجے کی یوٹرن لے کر پیچھے ہٹ جاتےہیں۔ اس عمل کو سیاسی مفاہمت کہتے ہیں۔ جس میں ان سیاستدانوں کے لئے بھی فائدہ ہوتا ہے اور ملک کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ رہی عوام کی بات، تو ان کی حالت دھوبی کے کتے جیسی ہوجاتی ہے، جو نہ گھر کا ہو نہ گھاٹ کا!

سیاستدانوں کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر حال میں اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں۔ میں نہ مانوں والی سیاست کرتے ہیں۔ اپنے اس طرز عمل کو یہ لوگ اصول پسندی کا نام دیتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ زمانے کی دوڑ کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ یہ ہر الیکشن میں ناکام رہتے ہیں۔ عوام ان کی تقاریر پر سر دھنتی ہے، لیکن ان کو ووٹ بالکل نہیں دیتی۔ کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ یہ ہر وقت اصول کی مالا جپتے ہیں، پتا نہیں کب جوش میں آکر استعفیٰ دے کر بوریا بستر گول کرلیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ایسے سر پھروں کو حکومتی معاملات سے دور ہی رکھا جائے۔ یہ سیاستدان اگر چہ بذات خود بہت مطمئن ہوتے ہیں،لیکن ان میں سیاستدانوں کی خصوصیات بالکل نہیں ہوتی۔ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے، اور آٹے میں کتنا ہی نمک کیوں نہ ڈالا جائے، آٹا آٹا ہی کہلائے گا۔ اس لئے اس تیسری قسم کو سیاستدان نہیں کہا جاسکتا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: