میں ووٹ نہیں دیتا۔


“آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کوئی بھی حکومت آتی ہے، عوام کا جینا حرام کردیتی ہے۔” کریم چاچا حقے سے شغل کرتے ہوئے کہنے لگے۔ وہ اکثر حالات حاضرہ پر اپنی عالمانہ گفتگو سے ہمیں متاثر کرکے داد وصول کرتے تھے۔ ان باتوں میں ان سے کوئی جیت نہیں سکتا تھا، اس لئے سب لوگ کوشش کرتے تھے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ ایسی بات بھی نہیں تھی کہ وہ اچھی بحث نہیں کرسکتے تھے، بلکہ لوگ ان کی مدلل گفتگو کا جواب نہیں دے سکتے تھے۔ چاروناچار قائل ہونا ہی پڑتا تھا۔

voting

“جی، آپ سچ کہتے ہیں۔” میں نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔ حجرے میں بیٹھ کر مفت کا اخبار پڑھنا ہو، تو موصوف کی ہاں میں ہاں ملانا ایک مجبوری تھی۔

“اب دیکھو نا، آٹے کی کتنی پریشانی ہے عوام کو۔ لائنوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کے گریبان پھاڑ رہے ہیں، صرف آٹے کی خاطر۔ یہ دن بھی دیکھنا تھا۔” مجھے وہ بہت غصے میں لگ رہے تھے۔ اس بار میں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

“کبھی آٹا نہیں، تو کبھی بجلی نہیں۔ اوپر سے یہ تلقین کی جاتی ہے کہ بجلی کی بچت کرو۔ ارے خاک بچت کریں ہم! بجلی ہوگی تو بچت کریں گے نا۔ پتا نہیں کب سدھریں گے ہمارے حالات۔ کب جان چھوٹے گی ایسے حکمرانوں سے؟” انہوں نے حقے کا دھواں ہوا میں اڑا کر کہا۔ میں اخبار پڑھنے میں مشغول تھا، اس لئے انجان بننے کی کوشش کی۔ ان کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔ کہنے لگے، “ارے میاں، تم کہاں کھوگئے ہو اخبار میں؟”

“ارے نہیں تو، میں آپ کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔ آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ حکمران ہی سارے مسائل کی جڑ ہیں۔” میں سوچ رہا تھا، اتنا تبصرہ کافی ہوگا۔ لیکن انہوں نے میری بات کو آگے بڑھایا۔

“یہی بات تو میں بھی کررہا ہوں۔ اب دیکھو نا برخوردار، چینی کی قلت ہوگئی۔ بعد میں پتا چلا کہ اکثر شوگر ملیں تو ہمارے سیاستدانوں کی ہیں۔ لعنت ہے ایسے لوگوں پر۔”

“اب کیا کرسکتے ہیں، ہمیں بہتری کی امید رکھنی چاہیئے۔ حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔” میں نے ان کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے کہا۔

“ارے خاک ٹھیک ہونگے حالات۔ مجھے تو کوئی امید نہیں کہ یہ لوگ ہمارے حالات ٹھیک کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔” انہوں نے بھی قسم کھا لی تھی، کہ مجھے اخبار پڑھنے نہیں دیں گے۔

“ارے نہیں جناب۔ اتنی بھی مایوسی اچھی نہیں۔ ہم کوشش کریں تو آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔” میں چاہتا تھا کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو، تا کہ میں آرام سے اخبار پڑھ سکوں۔

“مجھے تو ایسا نہیں لگ رہا۔ کوئی بھی حکومت آتی ہے، عوام کو قربانی کا بکرا بنادیتی ہے۔ اب ایک تو بجلی نہیں، اوپر سے ہر دو تین مہینے بعد بجلی کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں۔ اس طرح عوام کو مجبور کیا جاتا ہے کہ احتجاج کریں۔” انہوں نے چپ نہ ہونے کی قسم کھائی تھی شائد۔ “اب ہمارے گاؤں کے حالات دیکھو، تیل کی قیمتیں بڑھنے سے لوگوں کو کتنی پریشانی ہورہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔ غریب آدمی کی دیہاڑی کا آدھا حصہ تو کرایوں کی نذر ہوجاتا ہے۔”

مجھے لگ رہا تھا کہ آج اخبار پڑھنے کا ارادہ ملتوی کرنا پڑے گا۔ لیکن مجبوری تھی، کیونکہ سیاست سے دلچسپی کی وجہ سے مجھے خبریں پڑھنے کے بغیر سکون نہیں ملتا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ خبریں زیادہ تر قتل وغارت، لڑائی فساد اور سیاست دانوں کی آپس میں کُشتی کے بارے میں ہی ہوتی تھیں، لیکن پھر بھی میں حجرے میں جا کر اخبار ضرور پڑھتا تھا۔ ابھی میں اٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا، کہ انہوں نے پھر وہی دکھڑا رونا شروع کیا۔

“ پتا ہے وہ اپنا نذیرا ہے نا، روزانہ شہر جاتا ہے، کارخانے میں‌کام کرنے کے لئے۔ 140 روپے دیہاڑی ملتی ہے اسے۔ لیکن بسوں کے کرائے میں ہی 60 روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں غریب آدمی کس طرح گزارا کر سکتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں وہ لوگ بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ایسے حکمرانوں کو حکومت کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔”

“چاچا، یہ تو ٹھیک ہے۔ آپ بتائیے حالات کی بہتری کا کیا طریقہ ہے؟ ہم کس طرح اس بحران سے نکل سکتے ہیں؟” میں بھی چاروناچار ان کے ساتھ بحث کرنے کے لئے مجبور ہوگیا۔

“ارے میاں، یہ سوچنا ہمارا کام نہیں۔ یہ کام ہم کریں گے تو حکمرانوں کے کرنے کے لئے کیا کام رہ جائے گا؟” انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔

“ اچھا یہ بتائیے، آپ نے پچھلی مرتبہ کس کو ووٹ دیا تھا؟” میں توقع کر رہا تھا کہ وہ حکمران پارٹی کا نام لیں گے، اور مجھے بحث کے لئے ایک موقع مل جائے گا۔

“میں ووٹ ہی نہیں دیتا۔ میرے ووٹ سے کیا فرق پڑے گا؟ میں نے آج تک کسی کو بھی ووٹ ہی نہیں‌ دیا۔” انہوں نے میری توقع کے خلاف جواب دیا۔

میں نے اخبار کو تہہ کرکے چارپائی کے سامنے رکھے میز پر رکھ دیا، چارپائی سے اتر کر جوتے پہن لئے اور حجرے سے نکل آیا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: