بچپن کی یادیں – 1


بچپن کا زمانہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں سب سے زیادہ معصومیت کا دور ہوتا ہے۔ کوئی فکر نہیں ہوتی کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ زندگی کے ہنگاموں سے الگ تھلگ ایک خیالی دنیا ہوتی ہے۔ مجھے اسکول کے ٹائم سے ہی لکھنے کا شوق تھا، اور اس شوق کو پورا کرنے کے لئے الٹا سیدھا کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ پھر ایک روز خیال آیا کہ کیوں نہ اہم واقعات کو قلمبند کروں۔ اب میں کوئی بڑا آدمی تو ہوں نہیں، پھر کیونکر میرے شب وروز میں کسی کو دلچسپی محسوس ہوگی؟ یہ سوچ کر رک جاتا۔ لیکن پھر یہ سوچ کر ہمت بندھی کہ یہ تو میری ذاتی ڈائری ہے اور میں کسی کو دکھانے کے لئے تھوڑی لکھ رہا ہوں۔ صرف اپنا شوق پورا کرنے کی خاطر لکھنا کوئی بری بات تو نہیں۔

پھر اپنےمشاہدات لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن لکھنا شائد اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا نظر آتا ہے۔ بمشکل ایک سے دو صفحے لکھ پاتا تھا۔ پھر کچھ ماہ بعد وہ بھی چھوڑ دیا۔ کچھ روز پہلے شاہد بھائی کے مشاہدات اور بچپن کی یادیں پڑھ کر پھر سے لکھنے کی خواہش دل میں جاگی۔ اب ان کی طرح لکھنا تو مجھے نہیں آتا، لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ کہیں پڑھا تھا کہ لکھنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اپنے بچپن کی کچھ یادیں آپ لوگوں سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے میری اس کوشش کو شاہد بھائی کی نقل نہیں سمجھا جائے گا۔

والد صاحب نے مجھے سائیکل لا کر دی تھی۔ محلے میں اکثر لڑکے میرے دوست تھے۔ ہم سائیکل پر سوار ہو کر گلی میں چکر لگاتے۔ چونکہ سائیکل میری تھی، اس لئے میں اپنی من مانی کرتا تھا۔ خود سائیکل پر بیٹھ جاتا تھا، اور ان لوگوں سے دھکا لگانے کو کہتا۔ ایک لڑکا کنڈیکٹر بن جاتا تھا، باقی تین چار لڑکے سواریوں کی شکل میں سائیکل کی پچھلی سیٹ کو پکڑ کر ساتھ ساتھ دوڑتے رہتے۔ کبھی کبھار محلے کا کوئی شرارتی لڑکا آکر میری سائیکل کو اتنی زور سے دھکا دیتا کہ مجھے سائیکل کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایسی صورتحال میں مجھے زور زور سے رونے کے علاوہ کوئی اور مؤثر طریقہ نظر نہیں آتا تھا، کیونکہ اس طرح وہ لڑکے مجھے چھوڑ کر بھاگ جاتے تھے۔

میرے اس شوق کی حد صرف اپنے گھر کے سامنے واقع مسجد تک ہی تھی۔ اس سے آگے جانے کی اجازت تھی نہ مجھ میں اتنی ہمت تھی۔ ایک بار دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ تھوڑا آگے جاکر دیکھوں۔ پہلے تو ہمت نہیں ہوئی، لیکن پھر کچھ سوچ کر چل پڑا۔ ہمارے محلے کی مسجد سے 300 گز کے فاصلے پر دوسری مسجد تھی، جو کہ گلی کے اگلے کونے پر تھی۔ میں اسی سمت میں جا رہا تھا۔ اس مسجد کے سامنے پہنچ کر فاتحانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔

پانچ سال کی عمر تک پہنچنے پر نماز کا سبق اور قرآن مجید کی تعلیم شروع ہوئی۔ نماز کا سبق یاد کرتے وقت الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ذہن میں کچھ اشکال بھی بنتی تھیں۔ مثلاً جب التحیات پڑھتا تو ذہن میں ایک کرسی کی تصویر بن جاتی، آگے والصلوٰات پڑھتا تو ایک مولوی صاحب کی تصویر بن جاتی جو مٹھی میں حلوہ لے کر دوسرے ہاتھ کی انگلی اس میں یوں ڈالتا جیسے نوٹ گن رہے ہوں۔ میں اکثر یہ بات کہہ بھی دیتا تھا، گھر میں سب لوگ سن کر ہنسنے لگتے تھے۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے نقوش ذہن میں بنتے تھے۔

باقاعدہ نماز شروع کرنے سے بہت پہلے ہی والد صاحب کے ساتھ مسجد جاتا تھا۔ نماز پڑھنا تو نہیں آتا تھا لیکن باقی لوگوں کو دیکھ کر ان کی نقل کر لیتا تھا، لیکن جب سب لوگ سجدے میں چلے جاتے تو ادھر ادھر دیکھ کر جلدی سے لیٹ جاتا۔ اکثر دوسرے ہم عمر لڑکے بھی مسجد میں آجاتے۔ نماز میں ہی ایک دوسرے کو کہنی مارنا، دھکا دینا جو کبھی کبھار باقاعدہ لڑائی میں بدل جاتا، ہم لوگوں کا مشغلہ تھا- پھر امام صاحب نماز کے فوراً بعد ہم سب کی پٹائی کرنا لازم سمجھتے تھے۔ اس لئے ان کے سلام پھیرنے سے قبل ہی اکثر لڑکے بھاگ جاتے تھے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: