بچپن کی یادیں – 3


اسکول کی چھٹیاں ہوجاتیں تو ہم اپنے ننھیال جاتے۔ صوابی سے تھوڑا آگے ایک گاؤں ہے گاڑمنارہ، جو کہ دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ مجھے وہاں جانے کی بہت جلدی ہوتی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے کسی قید سے آزاد ہوکر کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع مل رہا ہے۔

چھٹیوں میں اپنے ماموں زاد بھائیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا۔ ہم اکثر کرکٹ کھیلتے، یا پھر آنکھ مچولی کھیلتے۔ بنٹے بھی کھیلتے۔ لیکن میں کھیل میں تیز نہیں تھا۔ خاص کر بنٹے تو بالکل نہیں کھیل پاتا، اور اکثر ہار جاتا۔

ایک بار گھر سے ایک روپیہ ملا تھا۔ میں نے اس سے بنٹے خریدے۔ اس وقت 1 روپے کے 16 بنٹے ملتے تھے۔ بہت خوشی ہورہی تھی۔ دکان سے واپس جاتے ہوئے کرکٹ گراؤنڈ میں کچھ ادھ جلا سا کاغذ کا ڈھیر نظر آیا۔ مجھے تجسس ہوئی۔ قریب جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ کسی نے تاش کے پتے جلائے ہیں۔ لیکن پورے جلے نہیں، صرف کچھ پتے جل گئے تھے۔ میں وہیں بیٹھ کر تاش کے پتے دیکھنے لگا۔ اتنے میں ساتھ والے گھر کا ایک لڑکا آیا، وہ لوگ مہمند ایجنسی سے یہاں شفٹ ہوگئے تھے۔ اس نے مجھے وہیں بیٹھا دیکھا تو پاس آکر وہ بھی بیٹھ گیا۔ میرے ہاتھ میں بنٹے دیکھ کر اس نے تاش کا ایک پتّا اٹھایا اور مجھے دے کر کہنے لگا، یہ لو اور ان بنٹوں میں سے ایک مجھے دیدو۔ میں نے دے دیا۔ اس نے کچھ دیر بعد پھر ایک پتّا اٹھایا اور پھر مجھے سے بنٹے مانگنے لگا۔ اس بار پھر میں نے ایک بنٹا دے دیا۔

اس طرح کرتے کرتے اُس نے 12 بنٹے لے لئے۔ وہ بھی پیچھا چھوڑنے والا نہیں تھا، پھر وہی کھیل دہرانے لگا۔ ایک تاش کے پتے کے بدلے ایک بنٹے کی مانگ۔ لیکن جب میں نے اپنی مٹھی میں باقی بنٹے دیکھے تو مجھے ہوش آیا۔ اور جلدی سے اس کو تاش کے پتے واپس کرکے کہا، مجھے نہیں چاہیئے یہ تاش کے پتے۔ مجھے بنٹے واپس کردو۔ یہ سنتے ہی وہ بنٹے لے کر بھاگ گیا۔ میں نے کچھ دور تک اس کا پیچھا کیا، لیکن وہ بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ اور میں روتا ہوا گھر جانے لگا۔ بعد میں یہ واقعہ یاد کرکے اکثر ہنسی آتی تھی۔

گرمیوں میں دریا کے کنارے لوگوں کا کافی رش ہوتا تھا۔ پورے ضلع صوابی سے لوگ پکنک منانے یہاں آتے۔ دریا کے کنارے ایک گراؤنڈ تھا، جس میں اکثر فٹبال ٹورنامنٹ منعقد ہوتے۔ کبھی کبھار کرکٹ بھی کھیلی جاتی۔ دریا کے اگلے کنارے کامرہ شہر واقع ہے۔ جہاں پر پاکستان ائیرفورس کی بیس ہے۔ دریا کے بیچ میں جزیروں کی شکل میں کچھ ٹکڑے ہیں زمین کے، جہاں پر لڑاکا طیارے نشانہ بازی کی مشق کرتے تھے۔ اب بھی یہی چل رہا ہے۔

جتنی خوشی اپنے ننھیال میں آنے پر ہوتی تھی، اتنا ہی دکھ واپس جاتے ہوئے ہوتا تھا۔ دل کرتا تھا کہ ہمیشہ یہاں رہوں۔ دریا کے کنارے بیٹھ کر پانی کا نظارہ بہت دلکش ہوتا تھا۔ خیر، واپس جاکر پھر اسکول جانے کی تیاری ہوتی۔ میں پڑھائی میں تیز تھا، اس لئے استاد کے ڈنڈوں سے محفوظ رہتا تھا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد اپنی کلاس کا مانیٹر بنادیا گیا۔ استاد نے میری ذمہ داری لگائی تھی، کہ صبح آنے کے بعد اردو کی کتاب سے ایک صفحہ پڑھ کر باقی طلبہ کو سنایا کروں۔ اس طرح انہیں باقی اساتذہ کے ساتھ بیٹھ کر ملکی حالات پر تبصرہ کرنے کا موقع مل جاتا۔

جاری ہے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: