بچپن کی یادیں – 4


پرائمری اسکول سے نکلنے کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ گڑھی کپورہ کا ہائیر سیکنڈری اسکول پورے مردان ڈویژن کا پرانا اسکول ہے۔ ہمارے کچھ اساتذہ کے مطابق، اس کی تعمیر 1957 میں ہوئی تھی، اور اس وقت کے طلبہ نے اپنے کاندھوں پر پتھر لاد کر اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔ بعد میں اسی اسکول سے پڑھنے والے طلبہ میں سے کچھ اسکول ماسٹر بن کر وہاں پڑھاتے رہے۔

چھٹی جماعت میں ڈرائینگ اور پشتو اختیاری مضامین تھے۔ میں نے ڈرائینگ کا انتخاب کیا، کیونکہ پشتو کے استاد بہت سخت مزاج تھے۔ البتہ ڈرائینگ والے بہت اچھے تھے۔ نیز یہ بھی فائدہ تھا کہ کچھ زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا تھا ڈرائینگ کے پیریڈ میں۔ جبکہ پشتو کی کلاس تو بہت سنجیدہ قسم کی کلاس ہوتی تھی۔ پشتو کے استاد زرشید صاحب تھے، جو شاید پورے اسکول میں پشتو پڑھانے والے واحد استاد تھے۔

میں جتنا ان سے ڈرتا تھا، اتنا ہی ان کے زیرعتاب آیا۔ ہوا یوں کہ ایک بار ہمارے اردو کے استاد چھٹی پر تھے۔ ان کی جگہ زرشید صاحب پیریڈ اٹینڈ کرنے آئے۔ اس وقت ہماری کلاس میں استاد کے لئے میز نہیں تھی۔ بس ایک کرسی تھی۔ میں سب سے آگے والی قطار میں ٹھیک استاد کے سامنے بیٹھتا تھا۔ زرشید صاحب آئے تو کچھ دیر تک چپ رہنے کے بعد لڑکوں نے شور کرنا شروع کردیا۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا۔ چند لمحوں تک انتظار کرنے کے بعد جب ان کی صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، تو انہوں نے ڈنڈا اُٹھا کر زور سے مجھے رسید کیا، اور چلا کر کہنے لگے، خاموش!!!

لڑکے کچھ دیر تک خاموش رہتے۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور ہوکر پھرشور مچانے لگتے۔ زرشید صاحب پھر وہی طریقہ دہراتے۔ حالانکہ میں ان شور کرنے والوں میں شامل نہیں تھا۔ خیر، کلاس ختم ہونے تک میری درگت بن چکی تھی۔

ساتویں جماعت میں، میں نے ڈرائینگ کی جگہ پشتو کا انتخاب کیا۔ پشتو کی کلاس ہمارے لئے بڑی دلچسپ کلاس ہوتی تھی۔ کیونکہ زرشید صاحب سنجیدہ انداز میں بھی اس طرح پڑھاتے کہ لڑکے پوری توجہ دیتے۔ ان کا اپنا ایک اسٹائل تھا۔ مثلاً، غصے میں آتے تو مسواک سے مارتے۔ اس طرح آتے ہی بلیک بورڈ پر پشتو کے کچھ الفاظ لکھ کر اس کی معنی پوچھتے۔  ایک بار انہوں نے کچھ لفظ لکھ دیا، اور کہا، اس کے معنی بتاؤ۔ کسی نے کہا، اس کا مطلب ہے دادا۔ کسی نے کہا، دادی۔ غرض کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ۔ بعد میں انہوں نے ایک لمبی چوڑی تقریر کی، اور کہا، اس کا مطلب ہے ماموں۔

باقی اساتذہ کی طرح زرشید صاحب کو بھی کلاس میں شور بالکل پسند نہیں تھا۔ ایک بار سبق کے دوران کسی طالب علم نے ڈیسک کو زور سے دھکا دیا، جس سے ڈیسک کے کھسکنے سے آواز پیدا ہوئی۔ میں چونکہ کلاس کا مانیٹر تھا، اس لئے انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا، یہ کس نے کیا ہے؟ جلدی بتاؤ۔

میرا دھیان تو سبق کی طرف تھا، اس لئے میں نے کسی کو دیکھا نہیں تھا۔ میں نے ان سے کہہ دیا۔ انہوں نے کہا، یا تو بندے کا نام بتاؤ یا پھر خود سزا کے لئے تیارہوجاؤ۔ یہ سن کر میں تو بہت پریشان ہوگیا۔ اب جس سمت سے آواز آئی تھی، اس طرف دیکھ کر دو، تین طلبہ میں سے ایک کا نام بتا دیا کہ سر، اس نے کیا ہے۔

زرشید صاحب ڈنڈا لے کر اس کی طرف جانے لگے۔ اس بیچارے نے شور مچانا شروع کردیا، کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔ مسلسل احتجاج دیکھ کر زرشید صاحب کو بھی تھوڑا شک ہوا۔ انہوں نے مڑ کر میری طرف دیکھا۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ سوچا شامت آگئی ہے۔

کہنے لگے، ادھر آؤ۔ میں ان کے پاس گیا۔ کہا، اس بنچ پر بیٹھو۔ اور اس سے وہی آواز نکالو۔ میں بنچ پر بیٹھ گیا۔ دل ہی دل میں دعائیں کررہا ہوں کہ یا اللٰہ وہی آواز نکلے، ڈیسک کو بہت ہلایا، لیکن کچھ بھی آواز نہ نکلی۔ مجھے سردیوں میں پسینہ آگیا۔ ان سے کہا، سر، اس ڈیسک سے تو آواز نہیں نکل رہی۔ انہوں نے کچھ لمحوں تک مجھے گھورنے کے بعد کہا، ٹھیک ہے۔ اپنی بنچ پر جاؤ۔

ہماری کلاس میں دو تین لڑکے نعت خوانی کرتے تھے۔ ایک لڑکے گلزار شاہ کی آواز بہت اچھی تھی، لیکن وہ پڑھائی میں کچھ تیز نہیں تھا۔ اکثر دوسرے اساتذہ اس کو نعت پڑھنے کو کہتے۔ بہت اچھی آواز تھی اس کی۔ لیکن زرشید صاحب کو وہ بالکل پسند نہیں تھا۔ ہمیں چونکہ اس بات کا اندازہ تھا، اس لئے کبھی کبھار ان سے کہتے، سر، گلزار شاہ ایک نعت پڑھ لیں؟ یہ سن کر وہ جلدی سے کہتے، نہیں بالکل نہیں، اس کو کہو جا کر مسجد میں نعت پڑھے۔

ہمارے عربی کے استاد تھے، کفایت اللٰہ صاحب۔ بہت اچھے آدمی تھے۔ زرشید صاحب اکثر ان کو تنگ کرنے کے لئے ہمیں بھیج کر ان سے کچھ نہ کچھ الفاظ کا پشتو میں ترجمہ پوچھتے۔ ایک بار مجھے بلا کر کہنے لگے، تم کفایت اللٰہ کو جانتے ہو؟ میں نے کہا، جی ہاں، وہ ہمیں عربی پڑھاتےہیں۔ کہنے لگے، جاؤ ان سے پوچھو کہ جیسے ہر لفظ کا ایک مہمل ہوتا ہے، جیسے مولی وولی، اس کا پشتو میں کیا ترجمہ ہوگا؟

میں نے ان کے پاس جا کر کہہ دیا۔ کفایت اللٰہ صاحب سن کر ہنسنے لگے۔ کہنے لگے، زرشید صاحب کو کہو، میں عربی پڑھاتا ہوں، پشتو نہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: