داتا دربار پر حملہ


داتا دربار لاہور کی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں‌ پر دن رات زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔ نذر و نیاز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر طبقے کے لوگ وہاں آتے ہیں۔ داتا دربار بریلوی مکتبہ فکر کے لئے ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے بعض مبصرین داتا دربار پر حملے کو فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا ایک حربہ سمجھتے ہیں۔

کل رات کو داتا دربار پر خودکش حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ خبر سن کر پیروں تلے جیسے زمین نکل گئی۔ شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی کی دعا کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے وطن پاکستان کی سلامتی کی دعا بھی لبوں پر تھی۔ مختلف مکاتب فکر کا اختلاف اپنی جگہ، لیکن سید علی ہجویری رحمۃ اللٰہ علیہ سارے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ اس خطے میں اسلام کی اشاعت میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ان کے مزار کو اس طرح نشانہ بنانا ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں خودکش حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔ ہر حملے کے بعد رٹا ہوا ایک بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، کہ حملہ آوروں کے سر مل گئے ہیں۔ تفتیش شروع کی گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ بعد میں یہ تفتیش بھی فائلوں کا پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے لاہور کو جس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، اس کے پیچھے بہت سارے عوامل اور بڑی طاقتوں کا مفاد ہے۔

کچھ عرصے سے میڈیا پر تواتر کے ساتھ یہ خبریں پھیلائی جارہی ہیں، کہ جنوبی پنجاب طالبان کا مرکز بن چکا ہے۔ آپریشن کے خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔ اگر چہ یہ خبریں بھی وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کی سیاسی چپقلش میں دب کر رہ جاتی ہیں، لیکن وقفے وقفے سے خودکش حملے اس ایشو کو دوبارہ میڈیا میں زندہ کردیتے ہیں۔

موجودہ حملے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتی ہے۔ شاید پنجاب کی حکومت کو اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں آپریشن شروع کرے۔ اس کے بہت دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ پہلے ہی آپریشنز کے ردعمل کی آگ میں جل رہا ہے، اب پنجاب کو بھی اس آگ میں دھکیلنے کی تیاریاں ہیں۔ جنوبی پنجاب میں آپریشن سے ملک کو کچھ فائدہ ہو نہ ہو، پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لئے ایک اور ثبوت ضرور ہوگا۔ بدامنی پہلے ہی سارے ملک کی معیشت کو تباہ کررہی ہے۔ اب نئے آپریشن کے لئے ایسے حالات پیدا کرنا پاکستان کی کمر توڑ دینے کے مترادف ہوگا۔

حملہ آور چاہے طالبان ہوں یا بلیک واٹر کے لوگ (ایک عام تاثر ہے)، حملے کے لئے جس مقام کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ بہت ساری باتیں صاف کردیتا ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر کو طالبان کا مخالف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ طالبان کی اکثریت کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے۔ اس لئے داتا دربار پر حملہ کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دیوبندی طالبان داتا دربار پر ہونے والے محافل کو روکنے کے لئے حملہ کررہے ہیں۔ اس طرح ملک کے دو بڑے مکاتب فکر کے لوگوں کو آپس میں لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ ان دونوں مکاتبِ فکر کے اکابرین پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو اپنی پرانی رنجشوں اور اختلافات کی بھڑکتی ہوئی آگ میں تیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں، یا پھر اس موقع کو آپس میں اتحاد اور یگانگت کے لئے استعمال کرتےہیں۔ یہ ان دونوں مکاتب فکر کے رہنماؤں کی بصیرت کا امتحان ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: