جمہوریت کا حسن


آج اسکول نہیں جا سکا۔ ہڑتال کی وجہ سے ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔ اکا دکا گاڑیاں چل رہی تھیں لیکن اکثر سواریوں سے خالی، کیونکہ کوئی بھی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا تھا۔ چھٹی کا بھی اپنا مزہ ہوتا ہے۔ چھٹی سے لطف اندوز ہونے کے لئے لڑکے کرکٹ کھیلتے ہیں، دریا میں تیراکی کرتے ہیں، لیکن میرا معاملہ تھوڑا الگ ہے۔ وہ کہتے ہیں نا، مُلّا کی دوڑ مسجد تک، تو میری دوڑ حجرے تک۔ میں فارغ وقت میں حجرے جاکر اخبارپڑھتا ہوں، اور کریم چاچا کے فاضلانہ تبصروں پر سر دھنتا ہوں۔

آج بھی حسب معمول کریم چاچا حجرے کے برآمدے میں چارپائی پر بیٹھے، حقے سے شغل کررہے تھے۔ میں نے جا کر سلام کیا۔ اور دوسری چارپائی پر بیٹھ کر چپ چاپ اخبار پڑھنے لگا۔ حسب معمول انہوں نے موقع غنیمت جان کر حالات حاضرہ پر اپنی ماہرانہ رائے دینے کا ارادہ کیا، لیکن میں نے پہل کرتے ہوئے خود ہی ابتداء کی۔

‘کریم چاچا، آج اسکول نہیں جاسکا۔ ہڑتال کی وجہ سے گاڑیاں بہت کم نظر آرہی ہیں۔’ میں ابھی مزید کچھ کہنے کا سوچ رہا تھا، کہ کریم چاچا نے بولنا شروع کیا۔

‘ہاں بھئی مجھے بھی کچھ کام تھا، لیکن کیا کریں ان کم بختوں کا، ہر مسئلے کا حل ہڑتال میں ڈھونڈتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا ٹیکسی میں جاؤں، لیکن کوئی رسک لینے کے موڈ میں نہیں۔ کیونکہ آج کل ہڑتال کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں بھی اکثر جلا دی جاتی ہیں۔’

‘ ہاں، مجھے بھی گھر سے منع کردیا گیا، کہ آج اسکول نہ جاؤ۔ امتحانات بھی سر پر ہیں۔ بہت نقصان ہوجاتا ہے، اس طرح کی چھٹیوں سے۔’ میں نے ان کے دل میں اپنے لئے ہمدردی پیدا کرنے کے لئے کہا، حالانکہ میرا دل کرتا تھا کہ ہر ہفتے کسی نہ کسی بہانے اسکول سے چھٹی ہو۔ پچپن اور لڑکپن تو کھیلنے کودنے کا دور ہوتا ہے۔ بعد میں تو انسان پیسے کے پیچھے بھاگتے بھاگتے سیدھا قبر میں جا پہنچتا ہے۔

‘ارے بیٹا، تم گھر پر رہ کر بھی ہوم ورک کرسکتے ہو نا۔ خیر، تم خود سمجھدار ہو۔ یقین کرو میرا بس چلے تو ان سیاستدانوں کو اکٹھا کرکے سمندر میں پھینک آؤں۔ جب بھی دیکھو ہنگامہ آرائی اور ہڑتال۔ معیشت کا ستیاناس کردیا ہے ان لوگوں نے۔’ غلطی کسی کی بھی ہو، کریم چاچا اپنا غصہ ہمیشہ سیاستدانوں پر نکالتے تھے۔

‘لیکن چاچا، آج کی ہڑتال تو ٹرانسپورٹروں کی طرف سے ہے، اس میں سیاستدانوں کا کیا کام؟’ مجھے پتا تھا اب کریم چاچا سیاستدانوں کی شان میں اپنے مخصوص اسٹائل میں قصیدے پڑھنا شروع کردیں گے۔

‘ارے تم کیا جانو، یہ سیاست بھی بہت عجیب کھیل ہے۔ تمہیں معلوم ہی نہیں کہ کس طرح سیاسی رویے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔’ کریم چاچا حقے میں تمباکو بھرتے ہوئے کہنے لگے۔ ان کو حقے سے بہت لگاؤ تھا۔ میں بچپن ہی سے ان کو حقہ پیتے ہوئے دیکھتا چلا آرہا ہوں، اور حقے سے نکلنے والے دھویں کو پکڑنے کی کوشش میں ادھر ادھر چھلانگیں لگاتا تھا۔ ایک بار ان سے پوچھا، آپ ہر وقت حقہ کیوں پیتے ہیں؟ کہنے لگے، یہ فکر اور غموں کو پھونکوں میں‌ اڑانے کا بہترین طریقہ ہے۔ اس دن کے بعد میں نے حقے سے نکلنے والے دھویں کا تعاقب چھوڑ دیا۔ اپنے غم کچھ کم نہیں تھے کہ ان کے غم بھی اپنے سر لیتے۔

‘میں سمجھا نہیں۔ سیاست دانوں کے رویے معاشرے پر کیسے اثرانداز ہوتے ہیں؟’ میں واقعی ان کی بات سن کر الجھ گیا تھا۔

‘ارے بہت آسان بات ہے۔ لاؤ، یہ اخبار مجھے دے دو۔’ میں نے اخبار ان کو دے دیا۔ انہوں نے دو تین صفحے الٹ پلٹ کر دیکھے، پھر مجھے کہنے لگے،

‘یہ دیکھو، تازہ خبر ہے۔ اساتذہ کا اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج۔ طلبہ گروہوں میں تصادم، لڑائی کے بعد روڈ بلاک، گاڑیوں پر پتھراؤ۔ ڈاکٹروں کا ہسپتال انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔ دیرینہ دشمنی کی بناء پر دو گروہوں میں‌تصادم، 4 افراد ہلاک، مرنے والوں کے لواحقین نے میتیں سڑک پر رکھ کر ٹریفک بلاک کردی۔ اس کے علاوہ یہ خبر دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’ اتنی ساری خبریں سن کر میں ان کے ساتھ بحث نہیں کرسکتا تھا، اس لئے مجبوراً ان کو بیچ میں‌روکنا پڑا،

‘کریم چاچا، لیکن یہ تو جمہوریت کا حسن ہے۔’ میں نے کسی جگہ پر پڑھا ہوا ایک جملہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ موقع کی مناسبت سے استعمال کیا۔

‘گرگٹ کے رنگ بدلنے کو اگر حسن کہا جائے تو ایسا کہنے والوں کی عقل پر افسوس کے سوا اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔’ کریم چاچا شاید میری عقل پر افسوس کررہے تھے، حالانکہ یہ جملہ میرا اپنا نہیں تھا، بلکہ کسی جگہ سے مستعار لیا گیا تھا۔

‘مجھے تو ایک بات سمجھ نہیں آتی، کیا ہر مسئلے کا حل احتجاج میں ہی رکھا ہے؟ میں مانتا ہوں، کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں، جب بحیثیت قوم ہمیں دنیا کے سامنے اپنی آواز اٹھانے کے لئے ریلیوں اور جلوسوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ لیکن ہر چھوٹے بڑے معاملے کے لئے ہڑتال اور جلوس نکالنا ملک اور قوم کے نقصان کے علاوہ اور کچھ نہیں۔’ کریم چاچا آج کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے تھے، میں سوچ رہا تھا، شاید ان کو کچھ زیادہ ہی اہم کام تھا، جو ہڑتال کی وجہ سے ادھورا رہ گیا تھا۔ اس کا غصہ اب وہ نکال رہے تھے۔

‘ ویسے چاچا، یہ ہڑتال کے دوران ٹائر جلانے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟’ میں نے اپنی الجھن ان کے سامنے رکھی۔

‘ارے تمہیں یہ بھی نہیں‌معلوم؟ ارے شہر میں اپنے رشید کی دکان ہے اسکریپ کی۔ اس کے پاس پرانے ٹائر اچھی خاصی تعداد میں ہوتے ہیں۔ اس کا کاروبار آج کل بہت اچھا چل رہا ہے۔ کہیں پر بھی ہڑتال اور مظاہرے ہوں، اس کی دکان سے پرانے ٹائر لے کر جلائے جاتے ہیں۔’ کریم چاچا شاید مذاق کے موڈ میں تھے۔

‘اچھا، یہ تو مجھے معلوم نہیں تھا۔ لیکن ان ہڑتالوں اور مظاہروں سے کچھ فائدہ بھی ہوتا ہے؟’

‘ہاں، فائدے بھی ہیں، لیکن اس کے لئے معاشرہ پوری طور پر جمہوری ہونا چاہیئے۔ ہم نے جمہوری معاشروں سے صرف منفی پوائنٹس لئے ہیں۔ ان کی اچھی باتیں قبول نہیں کی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے بہت ساری اچھی باتیں انہوں نے ہمارے دین سے ہی لی ہیں۔ ہم صرف ان لوگوں کی خراب عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ مظاہرے وہ بھی کرتے ہیں، لیکن ہماری طرح نہیں، کہ اپنے ہی لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا کر اپنے غصے کا اظہار کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’ کریم چاچا مجھے پوری طرح تفصیل سے سمجھانے لگ گئے تھے۔

میں بھی کریم چاچا کے ساتھ بحث میں پڑ کر اخبار پڑھنا بھول گیا تھا۔ دوبارہ ان سے اخبار لے کر پڑھنا شروع کیا، لیکن وہ اپنا تبصرہ شاید پورا کرنے کے موڈ میں تھے۔ ان کی باتیں ایک بار شروع ہوجائیں تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں‌ لیتی۔ شاید ان کی اس عادت کی وجہ سے لوگ ان کے پاس زیادہ دیر تک بیٹھنے سے گریز کرتے ہیں۔

‘ویسے میرا بس چلے تو ان مظاہرے کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دلواؤں۔ میرا شہر جانا بہت ضروری تھا، کم بختوں‌کو آج کے روز ہی ہڑتال یاد آئی۔’ کریم چاچا کو آج شہر جانے کی پڑی تھی، ہڑتال نے ان کا شہر جانا مشکل کردیا تھا۔ اب اسکا غصہ وہ ان لوگوں کو کوس کر اتار رہے تھے۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا، اور اخبار رکھ کر چپکے سے حجرے سے نکل آیا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: