Monthly Archives: اگست, 2010

ایک نماز کا احوال


السلام علیکم،

شارجہ جاتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے جبل علی کی ایک مسجد گئے۔ مسجد درمیانی سائز کی تھی، جس میں مختلف ممالک کے لوگ نماز پڑھنے جوق در جوق آرہے تھے۔ پاکستانی، انڈین، بنگالی، مختلف عرب ممالک کے لوگ، غرض یہ کہ ایک عجیب سماں تھا، کچھ دیر کے لئے رنگ و نسل کی تفریق جیسے مٹ گئی تھی۔

ہم جب نماز کے لئے رکے تو اذانیں ہورہی تھیں۔ مسجد کے اندر بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی، باہر ٹینٹ لگا کر بہت لوگ بیٹھے تھے۔ ہم نے پہلے تو قسمت آزمائی کی کہ شائد اندر جگہ مل سکے۔ لیکن اندر ایک نگاہ دوڑائی تو کچھ ناممکن سا لگا، کہ اندر جگہ مل سکے۔ اس لئے باہر ہی بیٹھ گئے۔ ہماری طرح ہر کوئی آنے کے بعد مسجد کے اندر جانے کی کوشش کرتا، اگر کامیاب ہوتا تو ٹھیک، ورنہ ہمارے پاس ہی آکر بیٹھ جاتا۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ گرمی کا موسم اور رمضان المبارک کا مہینہ ہونے کی وجہ سے لوگ مسجد کے اندر بیٹھنے کی کوشش کررہے تھے، کیونکہ ساری مساجد کے اندر اے سی نصب ہیں۔

لوگوں کا تانتا بندھے دیکھ کر اچانک ایک خیال ذہن میں آیا۔ اگر یہ قیامت کا منظر ہوتا، کچھ لوگ اللٰہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں بیٹھے ہیں، کچھ لوگ وہاں جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو خوش قسمت ہیں، ان کو سائے میں جگہ ملتی ہے، جن کے اعمال اچھے نہیں، وہ تپتی دھوپ میں، ایسی دھوپ میں، جب سورج سوا نیزے پر ہو، بیٹھے ہوں۔ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی ہلکی سی دھوپ بھی برداشت نہیں ہورہی، اللٰہ جانے وہ کیسا منظر ہوگا۔

دوسری بات جو نوٹ کی، یہ تھی کہ مسجد کے اندر گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اندر دروازے کے پاس بھی لوگ بیٹھے تھے، جس کی وجہ سے دروازہ کھولنا بہت مشکل تھا۔ کچھ عربی لوگ اور کچھ پختون بھائی دروازے پر زورآزمائی کرتے، لیکن ناکام ہوکر واپس آجاتے۔ ایسا ہی منظر شائد قیامت کے روز ہو، جب کوئی بندہ اپنی نسل اور فخر کی بنیاد پر اللٰہ کی رحمت کا حقدار نہیں بن سکے گا، بلکہ وہ ہوگا، جو اللٰہ کی طرف بلائے جانے پر دوڑ کر اللٰہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف گیا ہو۔

امام صاحب لہجے سے ضعیف العمر معلوم ہورہے تھے، لیکن ان کی آواز میں تاثیر بہت تھی۔ آدھے گھنٹے پر مشتمل خطبہ امارات میں پہلی مرتبہ سنا تھا۔ لیکن لوگ خاموشی کے ساتھ سن رہے تھے۔

اس وقت دل کچھ خوشی اور غم کے جذبات کے درمیان کشمکش میں مبتلا تھا، جب امام صاحب نے عراق، فلسطین، افغانستان اور چیچنیا کے ساتھ پاکستان کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی۔ خوشی اس بات کی ہورہی تھی، کہ ہم جیسوں‌ کو دنیا کے مسلمان اپنی دعاؤں کے قابل سمجھ رہے ہیں۔ غم اس بات کا تھا، کہ ہم اپنے کرتوتوں کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کے کام آنے کی بجائے آپس میں نیم خانہ جنگی کا شکار ہوکر ان کی دعاؤں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم دینے والا ہاتھ بنتے، لیکن لینے والا ہاتھ بن گئے۔ اللٰہ جانے ہماری یہ حالت کب تک رہے گی؟

اے اللٰہ ہماری حالت پر رحم فرما، ہمیں اس آزمائش سے نکال کر دوسرے مسلمان بھائیوں کے کام آنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

کیا میرا بلاگ تبصرے کے قابل نہیں؟



جب سے بلاگ بنایا تھا، کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ اور ہر روز اپنا بلاگ چیک کرتا تھا کہ شائد کوئی تبصرہ آیا ہو۔ لیکن جب بھی دیکھتا تھا، یہی لکھا ہوا نظر آتا تھا کہ کوئی تبصرہ نہیں۔ بعد میں اردو بلاگز پر بھی اپنا بلاگ رجسٹر کروایا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

پھر سوچا شائد میرے لکھے ہوئے مراسلے تبصرے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس طرح دل کو تسلی دی، اور تبصروں کا انتظار چھوڑ دیا۔ کیونکہ انتظار سب سے مشکل کام ہے۔ ایک دن اردو نامہ فورمز پر شازل بھائی نے میری ایک تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرتے وقت کیپچا صحیح کام نہیں کررہا۔ میں نے جب چیک کیا تو واقعی وہی مسئلہ تھا، لیکن تکنیکی معلومات سے نا واقفیت کی بنا پر اس کو بھی حل نہیں کرپایا۔ اور عبدالقدوس بھائی سے مدد لی۔ اس طرح تبصروں کا یہ مسئلہ حل ہوا۔

آج اپنے بلاگ پر چند ساتھیوں کے کمنٹس دیکھ کر مجھے یقین ہوا کہ میرا بلاگ تبصرے کے قابل ہے!!!

جوتا گردی


دن بھر کی تازہ ترین خبروں کے ساتھ گلفام خان حاضر ہے۔ سب سے پہلے ایک نظر آج کی اہم ترین خبر پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج ایک پرہجوم جلسے کے دوران جناب لاچاری پر ایک جوتا کش حملہ ہوا، جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ حملہ آور، جس کی عمر تقریباً 50 سال بتائی جارہی ہے، سندھی ٹوپی پہنے ہوئے تھا، اور اس کی ہلکی سی داڑھی بھی تھی۔ اس حملے کے بعد انسداد جوتا گردی فورس فوراً حرکت میں آئی اور مجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اس خبر پر تبصرہ کرنے کے لئے ہمیں جوائن کیا ہے، وفاقی وزیر برائے انسداد جوتاگردی جناب پریشان ملک صاحب نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشان صاحب، کیا کہئے گا اس جوتا کش حملے پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘دیکھئے، ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا، کہ اس طرح کا بزدلانہ حملہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب دیکھئے نا، ہماری بات صحیح نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوتا گردوں نے اس بار بھی ایک پرامن محفل کو نشانہ بنایا۔۔۔۔ ہم اس معاملے کی مکمل تحقیقات اقوام متحدہ سے کروائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ جوتا گرد سن لیں۔۔۔۔۔۔۔وہ ہمیں ان ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم آخری سانس تک جوتا گردی کے خلاف لڑیں گے، کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم قربانیوں سے نہیں ڈرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے پہلے بھی بہت جوتے کھائے ہیں، ممم مطلب قربانیاں دی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری تاریخ ایسی قربانیوں‌ سے بھری پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ ہم نے ان جوتا گرد حملوں کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل سے پورے پاکستان میں اس حوالے سے خصوصی سرچ آپریشن کئے جائیں گے۔

‘پریشان ملک صاحب، کچھ تفصیل بتائیں گے، حکومت کیا اقدامات کرنے جارہی ہے اس حوالے سے؟

‘جی، اس حوالے سے انسدادِ جوتا گردی کمیٹی میں تین نکاتی لائحہ عمل پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے مرحلے میں ملک بھر سے رضاکارانہ طور پر جوتے اکٹھے کئے جائیں‌ گے، جو کہ غیر قانونی طور پر لوگوں کے پاس ہیں۔۔۔۔۔ اس کام کے لئے میڈیا پر عوام سے اپیل کی جائے گی، کہ وہ تحصیل کی سطح پر اس حوالے سے قائم کیمپوں میں اپنے زیرِ استعمال غیر قانونی جوتے جمع کروائیں۔ امید ہے، عوام اس سلسلے میں‌ ہم سے تعاون کرے گی، کیونکہ یہ ایک قومی اہمیت کا حامل ایشو ہے۔ اس مہم کے اختتام پر دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔ اس میں چھاپہ مار ٹیمیں غیر قانونی جوتوں کو اپنے قبضے میں لیں گی۔ نیز ماہر جوتا چوروں کی خصوصی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی، جو مسجدوں کے باہر سے بڑے پیمانے پر جوتے اکٹھے کرکے ملک کو ان غیرقانونی جوتوں سے نجات دلائیں گے۔ نیز قانون توڑنے والے کو بطورِ سزا بغیر جوتوں کے گھر جانا پڑے گا۔

‘ لیکن پریشان ملک صاحب، اس طرح تو لوگ جوتوں سے محروم ہوجائیں گے۔ آپ نے متبادل کا انتظام کیا ہے؟ یا پھر عوام بغیر جوتوں کے گھومتے پھریں گے؟ اس طرح تو ہم پتھر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معاف کیجئے گا، جنگلی دور میں‌ واپس چلیں جائیں گے۔

‘میرے بھائی، میڈیا والوں کی یہی خرابی ہوتی ہے۔ بات مکمل کرنے نہیں دیتے۔ میری بات سنیں۔ ہم نے پہلے ہی نادرا کا ایک ذیلی ادارہ تشکیل دیا ہے، جو لوگوں کو قانونی طور پر جوتے فراہم کرے گا۔ اس سلسلے میں چارسدہ اور کوہاٹ کے جوتا بنانے والے کاریگروں کا انتخاب جاری ہے۔۔۔۔۔۔ ہر شخص کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر ایک جوڑا جوتے کے لئے لائسنس فراہم کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد جوتا فراہم کیا جائے گا، جس میں‌ بار کوڈنگ کے ذریعے اس بندے کی تمام معلومات فیڈ کی جائیں گی۔۔۔۔۔ نیز اس میں‌ خفیہ سینسر بھی لگائے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی جوتا ہاتھ میں آئے گا، جوتے میں لگا سینسر اس تبدیلی کو نوٹ کرکے جوتے میں لگا ایک خفیہ الارم بجانا شروع کردے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح جوتا کش حملے بڑی حد تک روکے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ ایسی ٹیکنالوجی بھی زیرِ غور ہے، جس میں‌ جوتے سے پاؤں نکالتے ہی جوتے میں لگا الارم بجنا شروع ہوجائے، لیکن ابھی اس میں وقت لگے گا۔

‘پریشان صاحب، وہ تیسرا مرحلہ بھی بتادیں ہمارے ناظرین کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
‘تیسرے مرحلے میں غیرقانونی جوتے رکھنے والوں‌ کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھئے ہم سیاسی طور پر مسائل کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جہاں‌ پر‌حکومتی رِٹ کو چیلنج کیا جائے گا، وہاں جوتے کا جواب فوجی بُوٹ سے دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔

‘پریشان ملک صاحب، آپ کا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں اس معاملے پر حکومتی موقف سے آگاہ کیا۔’

ناظرین، اب وقت ہوا ہے ایک بریک کا، بریک کے بعد بات کریں گے ہمارے ایڈیٹر انوسٹی گیشن غمگسار عباسی سے، جو اس معاملے کو میڈیا میں کور کررہے ہیں۔

‘ویلکم بیک ناظرین، ہمارے ساتھ ایڈیٹر انوسٹی گیشن غمگسار عباسی صاحب موجود ہیں۔ غمگسار صاحب، کیا کہئے گا، آج کے تازہ ترین جوتا کش حملے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکومتی دعوؤں کے برعکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوتا گردی میں کمی نہیں آرہی۔۔۔ کیا وجہ ہے؟

‘ جی، میں تو پہلے سے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ حکومت ہی نکمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے پہننے کے جوتے اور ہیں نمائش کے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور، کھانے کے اور۔۔۔ انہوں نے ابھی تک کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی جوتا گردی کو ختم کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ پورے ملک میں غیر قانونی جوتے سر عام بک رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بنے گا اس ملک کا؟ خدا را ہوش کے ناخن لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کیا مستقبل دے رہیں اپنے بچوں کو؟

‘غمگسار صاحب، آپ کا بہت شکریہ، کہ آپ نے اپنے قیمتی خیالات ہم سے شئیر کئے۔

‘ناظرین، ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ انسداد جوتا گردی فورس نے کراچی میں ایک غیر قانونی جوتوں کی فیکٹری پر چھاپہ مار کر بڑی تعداد میں جوتے برآمد کئے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق، فیکٹری میں کام کرنے والے افراد کو حراست میں لے کر فیکٹری کو سیل کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کرنے کے لئے ہمارے ساتھ ٹیلی فون لائن پر لندن سے جناب بیتاب حسین صاحب موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیتاب صاحب، کراچی میں یہ کارروائی ہوئی ہے، آپ کا ردِ عمل کیا ہے؟’

‘دیکھئےےےےےے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس خطرے سے حکومت اور عوام کو بہت پہلے آگاہ کیا تھا، کہ کراچی جوتا گردوں کے قبضے میں‌ جارہا ہے، یہاں پر جوتا گردوں نے اپنے محفوظ ٹھکانے بنالئے ہیں، ان کو زیادہ تر خیبر پختونخواہ سے آنے والے لوگ پناہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہمیں الٹا تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج دیکھ لیں، ہماری بات سچ ثابت ہوئی نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سوٹ بوٹ والے شریف لوگ جوتا گردوں کے نرغے میں جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں جوتا گردی کے خلاف آپریشن کیا جائے، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔

‘ بیتاب حسین صاحب، آپ کا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں‌ اس حوالے سے کراچی کی نمائندہ تنظیم کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔’

ناظرین، اس کے ساتھ ہی ہمارے پروگرام کا وقت ختم ہوتا ہے۔ اپنا خیال رکھئے گا، اور آس پاس کے ماحول پر نظر رکھئے گا، اپنی حفاظت کیجئے اور جوتا گردی کے خلاف جنگ میں‌ اپنا حصہ ڈالئے۔ اپنے میزبان گلفام خان کو اجازت دیجئے۔

اللٰہ حافظ

نوٹ: اس مراسلے میں‌ بیان کئے گئے تمام کردار فرضی ہیں، کسی قسم کی مشابہت پڑھنے والے کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔ لکھنے والا اس سے بری الذمہ ہوگا۔

تیسرا ہاتھ


تیسرا ہاتھ آج کل بہت پریشان ہے۔ جسے دیکھو اسی کو ہی مطعون کئے جا رہا ہے۔ کہیں دھماکہ ہوتا ہے تو ذمہ داری تیسرے ہاتھ کی، لڑائی ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے، تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔ تیسرا ہاتھ بہت تیزی کے ساتھ مشہور ہوتا جارہا ہے۔ وہ حیران بھی ہے، کہ یار لوگ اپنی نیکیاں اس کے کھاتے میں کیوں ڈال رہے ہیں؟ ایسا تو کوئی فراخ دل انسان ہی کرسکتا ہے۔

میں نے جب تیسرے ہاتھ کے کارنامے سنے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ یہ تیسرا ہاتھ آپس میں لڑائی کرنے والے دو ہاتھوں کی لڑائی کا سبب ہوتا ہے۔ تیسرا ہاتھ ان لوگوں کی گاڑیاں جلاتا ہے، جو ہنگاموں کے دوران شہر کے سڑکوں پر ٹریفک جام میں محصور ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی بڑی بات ہے، کہ لوگوں‌ کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے تیسرے ہاتھ کی رحم دلی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ تیسرا ہاتھ بند دکانوں کو آگ لگاتا ہے۔ اگر دکانیں بند نہیں‌ ہوتیں تو تیسرا ہاتھ پہلے دکانوں کو بند کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کرتا ہے، پھر بھی کوئی نہ مانے تو ایک دو کو گولی مار کر باقی لوگوں کو طوعاً کرہاً دکانیں بند کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس طرح دکانیں جلنے کے دوران بہت ساری قیمتی انسانی جانیں بچ جاتی ہیں!!!

تیسرے ہاتھ کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ اپنے دفاع میں بول نہیں سکتا۔ اس لئے اکثر یار لوگ اپنے کارنامے اس کے حصے میں ڈال ثوابِ دارین کماتے ہیں۔ یار لوگ اس سلسلے میں بہت فراخ دل واقع ہوئے ہیں۔ یہ تیسرے ہاتھ کو اکثر نوازتے رہتے ہیں، جس کے لئے تیسرا ہاتھ ان کا بہت شکرگزار ہے، لیکن چونکہ وہ بول نہیں سکتا، نہ ہی میڈیا پر آکر صفائی دے سکتا ہے، اس لئے لوگ تیسرے ہاتھ سے بہت خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ ویسے تیسرا ہاتھ اپنی نجی محفلوں میں ان یار لوگوں کو دورِ جدید کا حاتم طائی کہتا ہے۔

تیسرا ہاتھ شرارتی بھی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ یار لوگ کرکے اس کے نام کرتے ہیں۔ بلکہ اکثر یہ بھی اپنی افتادِ طبع کے باعث پہلے اور دوسرے ہاتھ کو چکمہ دے کر موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ مثلاً پہلا اور دوسرا ہاتھ آپس میں دست و گریبان ہیں۔ تیسرے ہاتھ کو بھنک پڑتی ہے تو وہ موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لئے دوڑا دوڑا آتا ہے۔ اب یہاں آکر کیا دیکھتا ہے کہ پہلے ہاتھ نے دوسرے ہاتھ کو پکڑ کے رکھا ہے اور دوسرا ہاتھ اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے پہلے ہاتھ کو مار رہا ہے۔ جبکہ مال غنیمت دونوں‌ ہاتھوں کے سامنے پڑا ہوتا ہے۔ اب تیسرا ہاتھ چپکے سے آکر مال غنیمت لے کر چلا جاتا ہے۔ پہلے اور دوسرے ہاتھ کو اس کی بھنک بھی نہیں‌ پڑتی، کیونکہ تیسرا ہاتھ پھرتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس لئے اب دوسرا ہاتھ بھی پہلے ہاتھ کو خوب مارتا ہے۔ اس پر الزام لگاتا ہے کہ مال اس نے غائب کیا ہے۔ جبکہ پہلا ہاتھ اس کو دوسرے ہاتھ کی چال سمجھ کر اور بھی طیش میں آتا ہے۔ اس طرح لڑائی اور شدت اختیار کرجاتی ہے۔

اس کے بعد اکثر کچھ لوگ پہلے اور دوسرے ہاتھ کی صلح کروانے کے لئے سرگرمِ عمل ہوجاتے ہیں۔ پہلے پہل تو پہلا اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے سے ملنے کے بھی روادار نہیں ہوتے۔ لیکن ان کو بہت مشکل سے قائل کرکے مذاکرات کی میز پر آنے پر راضی کیا جاتا ہے۔ آپس میں اتفاق بڑھانے کی خاطر دونوں ہاتھوں کو ایک ہی میز پر بٹھایا جاتا ہے۔ اس سے مقصد یہی ہوتا ہے کہ آپس میں بیٹھ کر مسائل کو حل کیا جاسکے۔ لیکن تیسرا ہاتھ اس موقع پر بھی ہاتھ کر جاتا ہے۔ وہ اکثر میز کی ٹانگیں ایک طرف سے کاٹ دیتا ہے، جس سے پہلا ہاتھ میز سے نیچے گر جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو دانستہ طور پر مذاکرات کی میز پر بٹھا کر نیچے گرایا گیا ہے۔ اور مذاکرات کو منسوخ کرکے چلا جاتا ہے۔ دوسرا ہاتھ یہ سمجھتا ہے کہ پہلا ہاتھ ایویں ہی نخرے کر رہا ہے۔ اس لئے وہ بھی نفرت سے منہ پھیر کر چلا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہاتھ اس موقع پر تیسرے ہاتھ کی خدمات حاصل کرتے ہیں، جس کا ذکر نیچے آرہا ہے۔

تیسرا ہاتھ آج کل ترقی پذیر اور دہشت گردی کے شکار ممالک کی مدد کے لئے کچھ اسکیم شروع کرنے کا سوچ رہا ہے۔ آج کل دہشت گردی کی تفتیش بھی کچھ آسان کم نہیں۔ اس پر ان ممالک کے کروڑوں روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ پھر یہ بات بھی سوچنے کے قابل ہے کہ تفتیش کرنے سے دہشت گردی میں مرنے والے واپس تو نہیں آسکتے۔ اس لئے تیسرا ہاتھ ایک نئی اسکیم شروع کرنے کا سوچ رہا ہے۔ اس اسکیم میں‌ شامل ہونے کی فیس بہت کم ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ تیسرا ہاتھ اپنی ایک اسکیم شروع کررہا ہے، جس کا موٹو ہے، ”تیسرا ہاتھ ملوث ہے“۔ ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اس اسکیم میں‌ اپنے آپ کو رجسٹر کروا کر اس میں شامل تمام مراعات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اس اسکیم کا استعمال نہایت آسان ہے۔ کوئی دھماکہ ہو، ٹارگٹ کلنگ ہو، چوریاں ہوں، غرض کچھ بھی ایسی صورتحال ہو جس سے حکومت کو جوابدہی کرنا مشکل ہو، اس اسکیم کا اصول نمبر 1 استعمال کیا جائے۔ فوراً میڈیا پر آکر کہا جائے،

”ہم اس واقعے کی تفتیش کے لئے کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں، جلد ہی پتا چل جائے گا۔ دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک ضرور پہنچایا جائے گا۔“ یہ اصول اکثر کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اگر یہ اصول کارگر ثابت نہ ہو تو پھر اس اسکیم کا مرکزی اصول نمبر 2 استعمال کیا جائے۔

”ہمیں معلوم ہوا ہے، اس واقعے میں تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔“

اس بیان سے لوگ اکثر بہل جاتے ہیں۔ کیونکہ تیسرا ہاتھ پہلے ہی ان کے دلوں‌ میں‌ اپنی دہشت بٹھا چکا ہوتا ہے۔ اس طرح تفتیش پر آنے والی ممکنہ لاگت کو کسی دوسرے مفید کام، مثلاً حکومتی دوروں، عشائیوں، ظہرانوں، جلسوں اور جلوسوں، میں خرچ کی جاسکتی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ اصول نمبر 2 استعمال کرکے اصول نمبر 1 کو بھی جاری رکھا جائے۔ ان کمیٹیوں کی رپورٹیں ردی میں بیچنے کے کام آئیں گی۔ ردی بیچنے والوں کا بھلا ہوگا۔

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ تیسرا ہاتھ اب اس اسکیم میں مزید آپشنز شامل کرنے پر غور کر رہا ہے، جسے فی الحال پوشیدہ رکھا جارہا ہے۔

تیسرے ہاتھ کے کارنامے ابھی جاری ہیں۔ فی الحال اتنا ہی، باقی بریک کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

وہ جنہیں سرخ روشنائی سے منافق لکھا گیا!


السلام علیکم،

آج کل فورم پر مختلف اختلافی مسائل پر ہونے والی بحث دیکھ کر کچھ پرانے واقعات ذہن میں تازہ ہوگئے۔ یہ 1999ء کی بات ہے، اس وقت میں دسویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ اسکول کے بعد ترجمے کے لئے دیوبندی مسلک کے ایک عالم کے پاس جاتا تھا۔ جبکہ صبح کے ٹائم ایک بریلوی عالم دین سے فقہ پڑھنے کے لئے جاتا، جو کہ والد صاحب کے دوست بھی تھے۔

ایک ساتھ میں دو مختلف آراء والے اساتذہ کی تربیت کا کچھ اثر تو ہونا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر مسائل پر میں کنفیوژن کا شکار ہوگیا۔ اپنی اس الجھن کے حل کی خاطر میں اکثر اپنے اساتذہ سے سوالات پوچھتا تھا۔ یہ سلسلہ اتنا آگے بڑھا، کہ دونوں مکاتب فکر کے درمیان مناظرے کی نوبت آگئی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کا بنیادی سبب میرے سوالات ہی تھے۔

میں اس وقت نتائج سے بے خبر، ان اساتذہ کے درمیان مناظرے کی تیاریوں کو بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔ ان کے آپس کی پیغام رسانی کا کام میرے سپرد تھا۔ معاملہ صرف اس بات پر اٹکا ہوا تھا کہ مناظرے کے دوران اگر کچھ بد امنی کی صورتحال پیدا ہوجائے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ دونوں مکاتب فکر میں سے کوئی بھی یہ ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ میں اور میرا ایک دوست اس صورتحال میں ان اساتذہ اور ان کے مکاتب فکر کے لوگوں کے درمیان عملی طور پر پیغام رسان بن چکے تھے، کیا عجیب پیغام ہوتے تھے۔ یہ علماء کرام ایک دوسرے کو سرخ روشنائی سے منافق لکھنے کے پیغامات ہم سے بھجواتے تھے۔ ایک بار میں نے پوچھا، یہ آپ سرخ روشنائی کیوں کہتے ہیں؟ کہنے لگے، جس طرح اسکول میں استاد سرخ روشنائی سے غلط جواب کے گرد دائرہ کھینچ لیتا ہے، اسی طرح میں نے فلاں کے نام کے گرد منافق ہونے کا دائرہ کھینچا ہے، وہ منافق ہے۔

اس دوران والد صاحب کو اس معاملے کی بھنک پڑگئی۔ انہوں نے سختی سے منع کردیا کہ کسی بھی طرح کے مناظرہ بازی میں حصہ مت لینا، اور میرے درس جانے پر بھی وقتی طور پر پابندی لگادی۔ اس دوران دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کے لوگوں کا بھی آپس میں اتفاق نہیں ہوا، مناظرے کے محفل کی سیکیورٹی پر۔ یوں یہ معاملہ یہیں پر ختم ہوگیا۔

لیکن 3،4 سال کے مشاہدے اور اس مجوزہ مناظرہ کی تیاری کے دوران مشاہدات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ یہ بات صحیح ہے کہ دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کا آپس میں اصولی اختلاف ہے، لیکن معاملات کو جس طرح سے الجھایا جاتا ہے، اس سے عوام دین کی طرف راغب ہونے کی بجائے متنفر ہوجاتے ہیں۔

ابتداء میں مساجد میں درس دینے والے علماء بڑے جوش و خروش سے درس قرآن شروع کرتے ہیں۔ ہمارے لوگوں میں قرآن سیکھنے کا بہت جذبہ ہے۔ وہ ہر سکھانے والے سے سیکھنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے۔ اب یہ عالم دین پر منحصر ہے کہ وہ ان کو کس راستے پر لے کر جاتا ہے۔ عام طور پر کچھ نئے مدرس اس مرحلے پر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے ایک غیر اعلانیہ مناظرہ شروع ہوجاتا ہے۔ مخالف فریق پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگلے روز دوسرے فریق کی جانب سے ان الزامات کا جواب نئے الزامات کی شکل میں آتا ہے۔

رفتہ رفتہ اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور ایک دوسرے پر کفر اور منافقت کے فتوے لگنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس بیچ عوام کی کیا حالت ہوتی ہے، وہ کبھی ایک فریق کی حمایت کرتے ہیں، کبھی دوسرے کی۔ لڑائی ہوتی ہے تو اصل مدعی غائب ہوجاتے ہیں، اور عام لوگ بیچ میں مارے جاتے ہیں۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو اندازِ تخاطب کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ آپ اگر ایک جائز بات بھی غلط انداز میں کریں گے تو کوئی بھی آپ کی بات نہیں مانے گا۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے اختلافی مسائل کے حل کی خاطر مل بیٹھ کر بات کرلیں۔ عوام کی ذہنوں کو الجھانے، ان کو کفر اور نفاق کے فتوؤں کے ذریعے اسلام سے متنفر کرنے کی بجائے ان کو پیار اور محبت سے اسلام کی اصل دعوت سے روشناس کرائیں۔ اس طریقے سے کی جانے والی بات کا اثر زیادہ ہوگا۔

لیکن مجھے پتا ہے ایسا کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ پھر مفتی صاحب کے فتوؤں کی قدر کم ہوجائے گی، پیر صاحب کا آستانہ لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں رہے گا، اور خطیب صاحب کی پرجوش تقاریر پر سردھننے والے شاید دوبارہ ان کی محفل کا رخ نہ کریں۔ اب کوئی پاگل ہی ہوگا جو اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارے گا۔

لیکن یہ ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ آپس میں اتفاق و اتحاد سے علماء کی قدر کم ہوجائے گی۔ اللٰہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں و عسیٰ ان تکرھو شیئا و ھو خیر لکم۔ اس لئے بظاہر اس اتحاد میں نقصان نظر آتا ہے لیکن اگر ہم صدق دل سے ارادہ کرلیں تو اللٰہ ہماری مدد کرے گا۔ اس کام کے لئے کسی بڑے تحریک کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس فورم پر بھی اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرسکتے ہیں کہ اختلافی مسائل پر بات کریں گے لیکن ایک دوسرے پر الزامات اور ذاتیات کے حملے نہیں کریں گے۔ یقین کریں، بڑی تبدیلی آئے گی۔ انشاءاللٰہ

%d bloggers like this: