ایک نماز کا احوال


السلام علیکم،

شارجہ جاتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے جبل علی کی ایک مسجد گئے۔ مسجد درمیانی سائز کی تھی، جس میں مختلف ممالک کے لوگ نماز پڑھنے جوق در جوق آرہے تھے۔ پاکستانی، انڈین، بنگالی، مختلف عرب ممالک کے لوگ، غرض یہ کہ ایک عجیب سماں تھا، کچھ دیر کے لئے رنگ و نسل کی تفریق جیسے مٹ گئی تھی۔

ہم جب نماز کے لئے رکے تو اذانیں ہورہی تھیں۔ مسجد کے اندر بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی، باہر ٹینٹ لگا کر بہت لوگ بیٹھے تھے۔ ہم نے پہلے تو قسمت آزمائی کی کہ شائد اندر جگہ مل سکے۔ لیکن اندر ایک نگاہ دوڑائی تو کچھ ناممکن سا لگا، کہ اندر جگہ مل سکے۔ اس لئے باہر ہی بیٹھ گئے۔ ہماری طرح ہر کوئی آنے کے بعد مسجد کے اندر جانے کی کوشش کرتا، اگر کامیاب ہوتا تو ٹھیک، ورنہ ہمارے پاس ہی آکر بیٹھ جاتا۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ گرمی کا موسم اور رمضان المبارک کا مہینہ ہونے کی وجہ سے لوگ مسجد کے اندر بیٹھنے کی کوشش کررہے تھے، کیونکہ ساری مساجد کے اندر اے سی نصب ہیں۔

لوگوں کا تانتا بندھے دیکھ کر اچانک ایک خیال ذہن میں آیا۔ اگر یہ قیامت کا منظر ہوتا، کچھ لوگ اللٰہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں بیٹھے ہیں، کچھ لوگ وہاں جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو خوش قسمت ہیں، ان کو سائے میں جگہ ملتی ہے، جن کے اعمال اچھے نہیں، وہ تپتی دھوپ میں، ایسی دھوپ میں، جب سورج سوا نیزے پر ہو، بیٹھے ہوں۔ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی ہلکی سی دھوپ بھی برداشت نہیں ہورہی، اللٰہ جانے وہ کیسا منظر ہوگا۔

دوسری بات جو نوٹ کی، یہ تھی کہ مسجد کے اندر گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اندر دروازے کے پاس بھی لوگ بیٹھے تھے، جس کی وجہ سے دروازہ کھولنا بہت مشکل تھا۔ کچھ عربی لوگ اور کچھ پختون بھائی دروازے پر زورآزمائی کرتے، لیکن ناکام ہوکر واپس آجاتے۔ ایسا ہی منظر شائد قیامت کے روز ہو، جب کوئی بندہ اپنی نسل اور فخر کی بنیاد پر اللٰہ کی رحمت کا حقدار نہیں بن سکے گا، بلکہ وہ ہوگا، جو اللٰہ کی طرف بلائے جانے پر دوڑ کر اللٰہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف گیا ہو۔

امام صاحب لہجے سے ضعیف العمر معلوم ہورہے تھے، لیکن ان کی آواز میں تاثیر بہت تھی۔ آدھے گھنٹے پر مشتمل خطبہ امارات میں پہلی مرتبہ سنا تھا۔ لیکن لوگ خاموشی کے ساتھ سن رہے تھے۔

اس وقت دل کچھ خوشی اور غم کے جذبات کے درمیان کشمکش میں مبتلا تھا، جب امام صاحب نے عراق، فلسطین، افغانستان اور چیچنیا کے ساتھ پاکستان کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی۔ خوشی اس بات کی ہورہی تھی، کہ ہم جیسوں‌ کو دنیا کے مسلمان اپنی دعاؤں کے قابل سمجھ رہے ہیں۔ غم اس بات کا تھا، کہ ہم اپنے کرتوتوں کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کے کام آنے کی بجائے آپس میں نیم خانہ جنگی کا شکار ہوکر ان کی دعاؤں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم دینے والا ہاتھ بنتے، لیکن لینے والا ہاتھ بن گئے۔ اللٰہ جانے ہماری یہ حالت کب تک رہے گی؟

اے اللٰہ ہماری حالت پر رحم فرما، ہمیں اس آزمائش سے نکال کر دوسرے مسلمان بھائیوں کے کام آنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: