Monthly Archives: نومبر, 2011

احتجاج


میرا منیجر ہر وقت مجھے ڈانٹتا رہتا ہے۔ میرے کام میں کچھ نہ کچھ نقص نکالتا رہتا ہے۔ یہ کردیا تو وہ کیوں نہیں کیا، وہ کام کیا تو ٹھیک سے کیوں نہیں کیا۔ غرض یہ کہ تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال بنتی جارہی ہے۔

آج تو حد ہوگئی۔ فیکٹری میں سارے ساتھیوں کے سامنے بہت برا بھلا کہا۔ کہنے لگے، اعجاز! میں نے کہا تھا کہ یہ کام وقت پر مکمل ہونے چاہیئے، تمہیں کچھ احساس ہے کہ نہیں۔ میں ہمیشہ کی طرح سر جھکائے کھڑا سنتا رہا۔ صفائی دینے کی کوشش کی تو کہنے لگے، یہ بہانے اپنے پاس رکھو۔

دوپہر کو لنچ بریک کے دوران میں سوچوں میں گم تھا۔ سوچا، اب میں چپ نہیں رہوں گا۔ اپنی آواز باقی لوگوں تک پہنچاؤں گا۔ میرے بھی کچھ حقوق ہیں، میں اب اپنی حق تلفی برداشت نہیں کروں گا۔ اب اس نا انصافی اور جانبدارانہ سلوک کے خلاف احتجاج کروں گا۔

اپنے دل میں فیصلہ کرکے میں کام پر واپس جانے کی بجائے سیدھا فیکٹری کے سامنے سڑک پر جا کر کھڑا ہوگیا۔ اور گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے شروع کردیئے، میرا منیجر! ہائے ہائے، میرا باس مردہ باد، ظلم کے ضابطے میں نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں جا رہی تھیں، لوگ مجھے دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور آہستہ آہستہ ہجوم بڑھتا گیا۔ ہماری فیکٹری کے ساتھی بھی میرے ساتھ آ کر کھڑے ہوگئے اور نعرے لگانے میں میرا ساتھ دینے لگے۔ پھر میں نے دیکھا، پریس والے کیمرے ہاتھ میں لئے ہماری طرف آرہے تھے؛ ان کو دیکھ کر میں نے اور زور سے نعرے لگانے شروع کردئیے۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ میرا منیجر فیکٹری سے نکل کر ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگنے آئے گا اور کہے گا، میں اپنے رویئے پر بہت شرمندہ ہوں، مجھے معاف کردو۔

ہجوم میں سے کوئی مجھے آواز دے رہا تھا، اعجاز! اعجاز! چلو کام پر جانے کا وقت ہوگیا ہے۔ میں نے کہا، اب تو میں فیکٹری تب جاؤں گا، جب وہ گنجا یہاں آکر مجھ سے معافی مانگے گا۔ یہ کہنا تھا کہ کسی نے مجھے کندھے سے جھنجھوڑ کر کہا، ارے نالائق! معافی مانگے میری جوتی! تم ابھی تک یہیں بیٹھے ہوئے ہو؟ کام چور!

میں نے آس پاس دیکھا تو کیفے ٹیریا خالی ہوچکا تھا، اور میرا منیجر میرے سامنے کھڑا غصے سے لال پیلا ہورہا تھا۔

تحریک انصاف کا جلسہ – کچھ تاثرات


2004ء میں جب پہلی بار کراچی گیا تھا، تو وہاں کی دیواروں پر ‘جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے’ لکھا ہوا دیکھ کر کراچی والوں کی قائد اعظم سے محبت پر رشک آیا۔ سوچا، یہ لوگ تو واقعی قائداعظم سے محبت کرتے ہیں۔ وہ تو بعد میں معلوم پڑا کہ وہ قائد تو آؤٹ ڈیٹڈ ہوگئے ہیں، اب یہ نئے قائد کی باتیں اور ان کا دور ہے۔

ایم کیو ایم کراچی کی ایک بڑی جماعت ہے، اور پاکستان کی سیاست میں اس کا اہم حصہ ہے۔ مثبت یا منفی طرز عمل، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن ان کے سیاسی وزن سے انکار ممکن نہیں۔ ہم لوگ ان کی پالیسیوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ صرف اس لئے کہ وہ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے لوگوں پر اپنی رائے ٹھونستے ہیں۔ اپنے لیڈر کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہیں، اور جو غلطی سے بولے، اس کے لئے کراچی کی دیواریں صحیح معنوں میں‌ نوشتہ دیوار ہیں۔

سیاست میں تشدد کا وسیع پیمانے پر استعمال ایم کیو ایم سے شروع ہوا۔ عدم برداشت اور سیاسی قتل ان کے دور میں فروغ پائے۔ اس سے پہلے اگر چہ پاکستان کی سیاست میں یہ حربے استعمال ہوتے تھے لیکن ایک محدود اور مستثنٰی صورتحال میں۔

اگر ایم کیو ایم مندرجہ بالا خصوصیات کی بناء پر ہم لوگوں کی نفرت کا نشانہ بنتی ہے، تو آخر ایسی کیا وجہ ہوگی کہ یہی طرز عمل اگر دوسری پارٹی اختیار کرے تو لوگ صرف انقلاب کی امید میں اس کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرلے؟ مانا کہ مینار پاکستان کے سامنے لاکھوں لوگوں کا اجتماع عوامی مقبولیت کی نشانی ہے، لیکن اگر صرف لوگوں کی حمایت اور چند لاکھ کا اجتماع ہی کسی کے صحیح ہونے کی دلیل ہے تو پھر ایم کیو ایم کے جلسوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جماعت اسلامی بارہا مینار پاکستان کے سامنے لاکھوں کا اجتماع کرچکی ہے۔ مانا کہ عمران خان کے بیانات پاکستان کے لوگوں کے دل کی آواز ہیں، تبھی تو لوگوں کی اکثریت سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ان کے جلسے میں شریک ہوئی۔ لیکن ایک کامیاب جلسے کی بنیاد پر انقلاب کے خواب صرف ایک دیوانہ ہی دیکھ سکتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جو حربے پرانی سیاسی جماعتیں پہلے استعمال کرتی تھیں، تحریک انصاف انہی حربوں کے ذریعے انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف میں بھی موقع پرست سیاستدان ہوا کا رخ دیکھ کر شامل ہورہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافے کی توقع بھی کی جارہی ہے، لیکن اگر انقلاب صرف حکومت کی تبدیلی کا نام ہے تو ایسے انقلاب سے کچھ زیادہ توقعات رکھنا بعد میں مایوسی کا سبب بنتا ہے۔

تحریک انصاف کے جلسے کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان کے بارے میں جو کچھ میڈیا میں سامنے آرہا ہے، اللٰہ جانے کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے، لیکن اگر یہ واقعی سچ ہے تو پھر پاکستان کو ایک نئے ایم کیو ایم کے لئے تیار ہونا چاہیئے، جہاں انقلاب کے مخالفین کو اپنا نوشتہ دیوار پڑھنے کے لئے کراچی جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

سیاسی حکیم، سیاسی معجون


کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے، اکثر حکیم اپنے مصنوعات کی تشہیر کے لئے بروشر چھاپتے ہیں۔ ان بروشرز میں طرح طرح کی دواؤں کے فارمولے مفت بتا کر قاری کو پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بات معجون کے فائدے سے شروع ہوتی ہے، یہ حافظہ تیز کرتا ہے، بدن میں چستی پیدا کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جب آپ معجون کے فائدے پڑھ چکے ہوں تو پھر اس کے اجزائے ترکیبی کا ذکر ہوتا ہے۔ ایسے عجیب عجیب نام لکھے ہوتے ہیں کہ پڑھ کر واقعی حافظہ تیز کرنے کی مشق ہوجاتی ہے۔ اور اجزاء بھی ایسے کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جائے کہ کہاں سے لاؤں۔ نتیجتاً بندہ مایوس ہوا ہی چاہتا ہے کہ آگے لکھا ہوتا ہے، ”یہ ساری دوائیں ہمارے مطب پر نہایت آسان قیمت پر دستیاب ہیں۔“

مایوسی امید میں بدل جاتی ہے۔ مطب پر جا کر معجون خرید کر حافظے کو تیز کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ جب کچھ فرق نہیں پڑتا تو دوبارہ حکیم صاحب کے پاس جاتے ہیں۔ حکیم صاحب غذاؤں کی ایک لمبی فہرست بتاتے ہیں کہ اس دوا کے ساتھ یہ چیزیں استعمال نہیں کرنی چاہیئے تھی، آپ نے بد پرہیزی کی، اس لئے اب فلاں فلاں شربت استعمال کریں تا کہ جو ری ایکشن ہوا ہے، اس کی تلافی ہو۔ اس طرح عمل اور رد عمل کے چکر میں بندہ اتنے چکر کھا جاتا ہے کہ رہا سہا حافظہ بھی خراب ہوجاتا ہے۔

پاکستان کے سیاسی افق کا حال اس سے کچھ مختلف نہیں۔ سیاسی حکیم ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لئے پہلے فارمولے بتاتے ہیں۔ حکیموں کے فارمولوں کی طرح یہ سیاسی فارمولے بھی حافظے کو تیز کرنے کی بہترین مشق ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً اب تک انگریزی کے تقریباً سارے حروف کے دوحرفی و سہ حرفی سیاسی فارمولے مارکیٹ میں آچکے ہیں۔نیا فارمولا بنانا بھی چنداں مشکل کام نہیں۔ بس انگریزی حروف تہجی کی ترتیب بدلتے رہیئے، فارمولے بنتے رہیں گے۔ یہ سیاسی فارمولے بھی اتنی وافر مقدار میں دستیاب ہیں کہ ڈائری کے بغیر سارے فارمولے یاد رکھنا حافظے کا بہترین امتحان ہوتا ہے۔

پھر جب عوام یہ سوچ کر ہمت ہارنے لگ جائے کہ یہ سارے کام تو تقریباً نا ممکن ہیں، خوشخبری ملتی ہے کہ جناب ہمارے منشور کے مطابق ہمارے پاس ملک و قوم کے مسائل کا حل موجود ہے۔ بس تھوڑا سا مینڈیٹ دے دیں، پھر دیکھیں ہماری سیاسی بصیرت کے کرشمے۔

اب سیاسی مطب پر جاکر مینڈیٹ دے کر مسائل کے حل کی امید پیدا ہوتی ہے۔ عوام اپنا مینڈیٹ دے کر یہ امید رکھتے ہیں کہ سیاسی حکیم ملک کی گرتی ہوئی معاشی اور سیاسی صحت کی بہتری کے لئے کوشش کریں گے۔ ماہ و سال گزرنے کے باوجود جب ملک کی معاشی اور سیاسی صحت میں بہتری نہیں آتی تو مایوس ہو کر دوسرے سیاسی مطب پر جاتے ہیں۔ یہ حکیم صاحب پہلے والے فارمولوں کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں، ان فارمولوں سے تو ملک کی سیاسی اور معاشی صحت پر نہایت برا اثر پڑا ہے۔ اس لئے پرانے والے فارمولے کو ترک کرکے اس نئے فارمولے کے مطابق عمل کیا جائے تا کہ ملک کے حالات بہتر ہوں۔ نئے فارمولے بھی مینڈیٹ دے کر خریدے جاتے ہیں۔

عوام پھر مینڈیٹ کے بدلے ملک کی بہتری کے خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن نتیجہ وہی ہوتا ہے جو پہلے سیاسی حکیم کی دی ہوئی دوا سے ہوتا ہے۔ اس طرح سیاسی حکیموں کو آزماتے آزماتے ملک کی صحت ابتر ہوجاتی ہے۔

ذرا دیکھئے قوم کو اگلی مینڈیٹ کے بدلے کونسا معجون ملتا ہے!

(میری یہ تحریر 17 اگست 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

80 روپے کی چائے


پشاور ائیرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے مسافر بار بار کھڑکی سے باہر رن وے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ائیربلو کی پرواز حسبِ معمول تاخیر سے جارہی تھی۔ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، کچھ اخبار سے وقت گزاری کی کوشش میں مصروف تھے۔

کہتے ہیں انتظار سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ میں بھی باقی لوگوں کی طرح کھڑکی سے باہر جھانک جھانک کر اکتا چکا تھا۔ لاؤنج کے وسط میں ایک چھوٹا سا کیفیٹیریا ہے، جہاں پر چائے، بسکٹ وغیرہ دستیاب ہوتے ہیں۔ سوچا، پرواز میں ابھی وقت ہے، چائے کی طلب ہورہی تھی، اس لئے کاؤنٹر پر جا کر چائے کا آرڈر دیا۔

چائے کے ساتھ ایک کریم رول تھا، جو کہ بھوک کو کچھ وقت تک قابو کرنے کے لئے کافی تھا۔ پیسے دے کر بقایا لیا تو معلوم ہوا کہ چائے کا ایک کپ 80 روپے کا ہے، اسی طرح کریم رول بھی 80 روپے کا۔ بہت عجیب لگا کہ اتنے زیادہ نرخ کس بنیاد پر وصول کررہے ہیں۔

میں نے سوچا اتنی مہنگی چائے بھلا کون پئے گا۔ جس ملک میں آدھی سے زیادہ آبادی غریب ہو، بے روزگاری ہو، وہاں پر ایسی شاہ خرچی بھلا کون کرے گا۔ لیکن آس پاس نظر دوڑائی تو ہر طرف چائے کے کپ میرا منہ چڑا رہے تھے۔

میں نے بھی ایک قوم کا غم ایک طرف رکھا، اور چائے پی کر جہاز کی طرف روانہ ہوگیا۔

(میری یہ تحریر 4 جون 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

مولوی کی کلاس


آپ شائد سوچ رہے ہونگے کہ یہ مولوی صاحب کی کلاس کی بات ہورہی ہے جس میں وہ بچوں کو ا، ب پڑھاتے ہیں۔ جی نہیں، یہ وہ کلاس ہے جس میں مولوی‌ صاحب کو پیش کرکے ان کی ‘خاطر تواضع’ کی جاتی ہے۔ یوں تو اس سلسلے میں ایک غیر مربوط کوشش پہلے سے ہی چل رہی ہے لیکن اس کلاس کو منظم کرنے کے لئے سوچ کر آپ کو اس کے اصول و ضوابط سے آگاہ کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ ان قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہے، اس کے بغیر کلاس کو مولوی کی کلاس نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ اس بندے کو مولویوں کا ہمدرد سمجھا جائے گا۔

مولوی کی کلاس لینے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ آپ کو روشن خیال سمجھیں ورنہ آپ کی کلاس بے کار ہوجائے گی اور لوگ سمجھیں گے کہ یہ مذہبی لڑائی ہے۔ روشن خیال بننے کے لئے کچھ آزمودہ طریقے پیش خدمت ہیں۔

سب سے پہلے، اگر آپ مرد ہیں تو داڑھی سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں، داڑھی والا ہمیشہ انتہا پسند ہی ہوتا ہے۔ اس لئے اسمارٹ بنیں اور کلین شیو پر توجہ دیں، پھر ترقی پسندوں کی تصانیف پڑھیں، ان کی تصانیف میں شامل وہ باتیں جن سے کان سرخ ہوتے ہوں، ہر مناسب موقع پر لوگوں کے ساتھ شئیر کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی باتیں کریں، کسی عورت کے ساتھ ظلم ہو تو ریلیاں نکالیں، ان کے پاس جا کر فوٹو سیشن کرائیں اور یہ مطالبہ کریں‌ کہ ذمہ داروں کو جلد از جلد سزا دی جائے۔ لیکن اتنا بھی شور و غوغا نہ کریں کہ حکومت واقعی مجبور ہو، ہتھ ہولا رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر بات میں مولویوں کو کوسیں، امن و امان کا مسئلہ ہو، مہنگائی کا مسئلہ ہو، یا پاکستان کی عالمی ساکھ کا، ہر بات میں مولوی کو گھسیٹیں۔ اس سے آپ کا امیج بہت روشن ہوگا اور آپ خود ہی چند ہفتوں یا مہینوں میں فرق محسوس کریں گے۔

اگر آپ خاتون ہیں، تو مندرجہ بالا طریقوں میں سے داڑھی کی بات چھوڑ کر باقی آپ کے لئے بھی ہیں، البتہ آپ کی صنف کے حساب سے کچھ مزید طریقے ہیں جن کو آزما کر آپ دقیانوسی کی جگہ روشن خیال کہلائیں گی۔ سب سے پہلے حجاب کو خیرباد کہہ دیں، روشن خیالی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا چہرہ بھی روشن رہے۔ اس کے بعد بتدریج دوپٹے کو سر سے سِرکا کر کندھے پر لے آئیں۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دوپٹے کو بھی خیر باد کہہ دیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سارا عمل بہت آہستہ ہو ورنہ مولوی آپ کی کلاس لینا شروع کردے گا۔ اسی طرح کپڑوں میں بتدریج تبدیلیاں لائیں حتیٰ کہ آپ بھی ترقی پسند خواتین کی طرح ان کی رنگ میں رنگ جائیں۔ کلبوں میں جائیں، بوائے فرینڈ ڈھونڈیں، اور ظالم سماج کی زنجیریں توڑنے کا عزم کریں۔ پھر اس کے بعد مولوی کی کلاس لینا شروع کریں، میڈیا پر آپ کو بہت پذیرائی ملے گی اور آپ خود ہی محسوس کریں گی کہ واقعی روشن خیال ہونا کتنی اچھی بات ہے!!!!

اس کے علاوہ کتے پالنے کا شوق رکھیں، صبح کی سیر میں ان کو ساتھ لے کر جائیں تا کہ آپ ماڈرن لگیں۔ اور فوٹو سیشنز میں بھی کتوں کو گود میں بٹھا کر ان سے پیار کریں تاکہ آپ کی بے زبانوں کے ساتھ دوستی مشہورِ عام وخاص ہوجائے۔

لیجئے، اب آپ دل کھول کر مولوی کو گالیاں دیں۔ ان کو معاشرے کا ناسور قرار دیں۔ ان کے رہن سہن، کپڑوں، کھانے (حلوہ ) وغیرہ کی بھی برائی کریں۔ ان کی ایسی خاطر تواضع کریں کہ کوئی بھی مولوی آپ کے سامنے ٹک بھی نہیں سکے۔ ایسا کرنے سے کوئی آپ کو روک نہیں سکے گا کیونکہ آپ کے دماغ میں روشن خیالی کا بلب روشن ہے، جس کا مقابلہ مولوی کے دماغ کی پرانی شمع نہیں کرسکتی۔

نوٹ: میں مولوی نہیں ہوں۔
(میری یہ تحریر 1 فروری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

ماڈریشن


کسی بھی فورم کے لئے ماڈریشن انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے بغیر فورم پر سپیم پیغامات کی بھرمار ہونے کے ساتھ ساتھ فورم کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تھریڈز بھی ہوتے ہیں۔ ہر فورم کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ کچھ کے خیال میں فورم یا ویب سائٹ پر ماڈریشن صرف اسپیم مراسلات کو ختم کرنے کی حد تک ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ فورم کے قوانین کی پاسداری کرنا اور ممبران کو اس کی طرف توجہ دلانا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ماڈریٹر یا انتظامی رکن کو عام ممبران سے زیادہ باخبر ہونا چاہیئے۔ عام طور پر فورم کے اراکین ماڈریٹرز کو اپنے فورم کا ایکسپرٹ سمجھتے ہیں۔ اب یہ ماڈریٹر کا کام ہے کہ اس تاثر کو برقرار رکھے۔ ماڈریٹر کو اپنے فورم سے متعلقہ موضوعات کے بارے میں معلومات ہونی چاہیئے۔ کیونکہ جب تک ماڈریٹر کو اپنے فورم کے موضوعات پر عبور نہ ہو، وہ درست فیصلہ نہیں کرسکتا۔

کسی بھی فورم کے لئے اس کے ممبران اس کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی کے مراسلات کو ماڈریٹ کرنے سے پہلے ماڈریٹر کو اپنے فیصلے کا جائزہ لینا چاہیئے کہ جو پوسٹ ڈیلیٹ یا ایڈیٹ کی جارہی ہے، اس کی اشد ضرورت ہے بھی کہ نہیں؟
فورمز پر ماڈریشن اگر احتیاط سے نہ کی جائے تو اس کے نتائج اس سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں، جو ماڈریشن نہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ حد سے زیادہ اور جارحانہ ماڈریشن سے فورمز کے اراکین بددل ہوجاتے ہیں۔

ماڈریٹر کو کسی بھی رکن کے مراسلات کو ایڈیٹ یا ڈیلیٹ کرنے سے پہلے اس رکن سے بات کرنی چاہیئے۔ اور اس رکن کو قائل کیا جائے کہ اس نے جو مراسلہ پوسٹ کیا ہے، وہ فورم کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اس سے ہزار درجے بہتر ہے کہ کسی رکن کا مراسلہ ایڈیٹ کیا جائے اور وہ اس سے بددل ہو۔ یقین کریں اگر آپ کسی رکن کے مراسلات ختم کرنے کی بجائے اس کو قائل کریں گے تو وہ خود کو فورم کا ایک اہم فرد تصور کرے گا۔ اور فورم پر سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

صرف اس صورت میں کسی رکن کے مراسلات کو ایڈیٹ کیا جائے، جب وہ بار بار سمجھانے پر بھی نہ مانے یا ماڈریٹر کو لگے کہ وہ فورم کے قوانین کی مسلسسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ یا وہ فورم پر دووسرے اراکین کی دل آزاری کا جان بوجھ کر باعث بن رہا ہے۔ ایسی صورت میں انتظامیہ چند مرتبہ سمجھانے کے بعد اس رکن کے خلاف ایکشن لے۔ تاکہ فورم پر ڈسپلن برقرار رہ سکے۔

(یہ مواد انٹرنیٹ پر مختلف آرٹیکلز سے لیا گیا ہے۔ یہ تحریر 25 فروری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی۔)

ابن الوقت


وہ بہت غصے میں دفتر میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرنے کا انداز ظاہر کررہا تھا جیسے کسی سے لڑ جھگڑ کر آیا ہو۔ آتے ہی کہنے لگا، یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم لوگ کیا نئے نئے اصول بناتے ہو؟ ناک میں دم کرکے رکھا ہے۔ یہ رپورٹ دو، وہ رپورٹ لکھو۔ ہم لوگ اپنا بھی کوئی کام کرسکتے ہیں یا پھر صرف آپ جیسے دفتری لوگوں کی فرمائشیں پوری کریں؟’ وہ بولتا ہی چلا گیا۔

ٹیم لیڈر نے اس کی طرف دیکھا، اور کہا، ‘کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟’

اس نے پھر بھنا کر کہا، ‘ارے ایک مسئلہ ہو تو بتاؤں۔ تم لوگ ہر روز نئے نئے مطالبے کرتے ہو۔ کام میں روڑے اٹکاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’ وہ پھر وہی رونا شروع ہوگیا۔

‘ٹھیک ہے، ہم دیکھتے ہیں، کیا مسئلہ ہے۔ آپ ناراض نہ ہوں۔’ ٹیم لیڈر نے اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

‘ارے پریشان ہوتی ہے میری جوتی۔ میں کیوں‌ پریشان ہوں بھلا؟ میں تو تم لوگوں کو یہ بتانے آیا ہوں کہ مجھے اپنا کام کرنے دو، یہ فضول کے نئے نئے طریقہ کار میرے لئے درد سر ہیں۔’

دفتر میں بیٹھے باقی سارے لوگ اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کچھ ادھیڑ عمر پرانے کھلاڑی ایک دوسرے کو اشاروں سے آگاہ کررہے تھے، کہ اب ٹیم لیڈر کی خیر نہیں۔ آفس بوائے بھی سارے کام چھوڑ کر کیبن کے باہر کان لگا کر کھڑا تھا۔ ٹیم لیڈر کے ساتھ بیٹھے معاونین بھی اس نئی صورتحال پر پریشان تھے۔ احتجاج کرنے والا ان کا اپنا ساتھی تھا، لیکن دفتر کے دوسرے سیکشن میں کام کرتا تھا۔

ایک معاون نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، ‘جناب یہ تو نئے سسٹم کا تقاضا ہے۔ اس طرح آپ کمپنی کے اصولوں کے مطابق عمل کرتے ہیں تو سب کا فائدہ ہوتا ہے۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ سب کو کام میں‌ آسانی ہو۔ پھر بھی ہم کوشش کریں گے، آپ کی بات اعلیٰ افسران تک پہنچائیں گے۔’
‘جی بالکل، جناب کی شکایت بجا ہے۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا، کہ اس طرح کام میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔’ دوسرے معاون نے شکایت کنندہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔
‘میں بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اس نئے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔’ تیسرے معاون نے بھی سر کجھاتے ہوئے کہا۔

ٹیم لیڈر بھی بے بس ہوگیا۔ کہا، ‘ٹھیک ہے، ہم آپ کی بات نوٹ کرکے اپنے سینئر افسران کو پہنچادیں‌گے۔’

یہ سن کر شکایت کنندہ نے سب کی طرف دیکھا اور باہر نکل گیا۔

اس کے جانے کے بعد ٹیم لیڈر نے میز پر پڑے ہوئے ٹرے کو ہاتھ سے دھکا دے کر نیچے پھینک دیا۔ ‘ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو؟ بڑا آیا بڑھکیں مارنے والا!’

‘ارے بہت ہی فضول قسم کا بندہ ہے جناب۔ میرا تو دل کررہا تھا، کہ سیدھا دو تین جڑ دوں اس کے منہ پر۔’ پہلے معاون نے غصے سے کہا۔

‘جناب، میں تو اس سے بولنے ہی والا تھا کہ اپنی بکواس بند کرکے دفع ہوجائے لیکن آپ لوگ اس کو سمجھا رہے تھے تو میں نے بھی اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔’ دوسرے معاون نے میز پر پڑے کاغذات کو درست کرتے ہوئے کہا۔

تیسرا معاون اپنی کرسی سے اٹھ کر فرش پر پڑے ٹرے کو اٹھانے لگا جو ٹیم لیڈر نے غصے میں نیچے پھینک دیا تھا، اور کہنے لگا، ‘ اگر وہ دوبارہ آیا تو میں اس کو ایسا جواب دوں گا کہ یاد رکھے گا۔’

میں اس ساری کارروائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ ساری باتیں سن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور پوچھا، ‘ آپ لوگوں نے یہ باتیں اس بندے کے سامنے کیوں‌ نہیں کی؟’

‘ارے تو تم بول دیتے نا۔ منہ میں زبان نہیں تھی کیا؟’ ٹیم لیڈر نے پھنکار کر میری عزت افزائی کی۔

‘یہ کیا بولیں گے جناب، ہم پر طنز کرتا رہتا ہے۔’ پہلے معاون نے حسبِ معمول ہاں میں ہاں ملائی۔

‘بزدل کہیں کا۔’ دوسرے معاون نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا مناسب سمجھا۔

‘ڈرپوک کہیں کا۔’ تیسرے معاون نے بھی مجھے خونخوار نظروں سے دیکھا۔

(میری یہ تحریر 21 جنوری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی۔)

انقلاب زندہ باد!!!


چوک پر حشر بپا تھی۔ لوگ جلوس کی شکل میں جمع ہورہے تھے۔ نعرے لگ رہے تھے، انقلاب زندہ باد، انقلاب انقلاب۔ کچھ نوجوان دیوانہ وار ان نعروں کی پکار سے لوگوں کے جذبات گرما رہے تھے۔ میں نے دیکھا، حدِ نظر تک لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

جلوس آہستہ آہستہ جلسے کی شکل اختیار کرگیا۔ کچھ افراد کو کندھوں پر بٹھا کر چوک میں قائم اسٹیج تک پہنچایا گیا۔ نعروں کا زور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اسٹیج پر عوام کا لیڈر ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہا تھا، جس سے نوجوانوں‌ کا جوش و خروش اور بھی بڑھ رہا تھا۔

اسٹیج کے ایک کونے میں عوامی دولت لوٹنے والے کھڑے تھے، ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ ان کو اپنا انجام صاف نظر آرہا تھا۔ عوامی لیڈر نے اب تقریر شروع کردی تھی۔ لوگ خاموشی سے سن رہے تھے۔ بیچ میں نوجوان نعرے بھی لگاتے۔ عوامی لیڈر نے عوام کی تعریف کی کہ ان کی قربانیوں کی بدولت اتنا بڑا انقلاب آیا ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی جب عوامی لیڈر نے کہا، ‘اب اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہوگا، اب غریب کیک کھائے گا، جاگیردار کھیتوں میں کام کریں گے۔ کوئی بھی قوم کی دولت لوٹ نہیں سکے گا۔ کرپٹ اراکین پارلیمنٹ کو سزا کے طور پر اسلام آباد میں سائیکل رکشہ چلانا پڑے گا اور ان رکشوں میں عوام سفر کرکے ان کرپٹ عناصر کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔’

عوامی لیڈر کچھ اور بھی کہہ رہا تھا، لیکن مجھ سے رہا نہ گیا اور جوش میں آکر نعرے لگانے شروع کردئیے، انقلاب زندہ باد!!! عوامی لیڈر زندہ باد!!! انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں جلوس میں سے کسی نے مجھے زور سے جھنجھوڑا، اور کہا، یار سونے بھی دو، خواب میں بھی نعرے لگاتے رہتے ہو۔

پھر میری آنکھ کھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

(میری یہ تحریر 15 فروری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

گھوڑا اور گدھا


مجھے بہت پہلے سے شک تھا کہ نواز شریف صاحب کو شاید مزاح نگار بننے کا شوق ہے۔ انتہائی مزاحیہ بات بھی اتنی سنجیدگی سے کرتے ہیں جیسے پی ٹی وی کا خبرنامہ۔ ایک دفعہ کہہ رہے تھے کہ مارشل لاء سے پہلے سب مجھ سے کہہ رہے تھے، قدم بڑھاؤ نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن جب پیچھے دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پیچھے کب دیکھا؟

ابھی پچھلے دنوں میاں صاحب نے ایک بہت پتے کی بات کی ہے۔ کہ آمریت گدھا ہے اور جمہوریت گھوڑا۔ ہم کئی روز اس بات پر غوروفکر کرتے رہے، کہ یہ بات مزاحیہ ہے کہ سنجیدہ۔ بہت سوچنے کے بعد ہم پر جو انکشافات ہوئے وہ آپ کو بھی بتاتے ہیں۔

آمریت گدھا ہے اور جمہوریت گھوڑا۔ گدھا چارہ کھاتا ہے، گھوڑا چنے، نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ مربے کھاتا ہے۔ گدھا ہر وقت مالک کے ڈنڈے کے ڈر سے سیدھا ایک ہی راستے پر چلتا ہے، انکساری، قناعت اور صبر کی تصویر بن کر۔ جبکہ گھوڑا اڑیل ہوتا ہے، نخرے کرتا ہے، کبھی کبھار تانگے میں بیٹھے لوگوں کو سفر کے ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے نہر میں ڈبکیاں بھی لگواتا ہے۔ گھوڑے کی طرح گدھے کے لئے کسی شاہی اصطبل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گدھے کی زندگی سادگی سے عبارت ہے۔ اب عوام کس خوشی میں گھوڑے پالیں؟ اور گھوڑے بھی وہ، جو ہر مرتبہ بولی لگنے پر بِک جاتے ہیں۔

اب نواز شریف صاحب کے بیان کی روشنی میں مشہور سیاسی بیان کچھ یوں‌ بنتے ہیں:

بدترین گھوڑا بہترین گدھے سے ہزار درجے اچھا ہے۔

گھوڑا بہترین انتقام ہے۔

گدھے کی بجائے گھوڑے کی حمایت کریں گے۔ ہالبروک

دھرنا دیتے تو گدھے کے آنے کا خطرہ تھا۔ اعتزاز

عدالتوں کے اختیارات محدود کریں گے تو گدھے آتے رہیں گے۔ چیف جسٹس

سیاسی مزاح نگاری میں نواز شریف کو الطاف بھائی سے بیعت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ان کے جوہر اچھی طرح کھل کر سامنے آجائیں۔ بھائی نے کئی مرتبہ زبردست ایکٹنگ کرکے پنجاب والوں کو سلطان راہی کی یاد دلائی ہے۔ جاگیرداروں کو اس شان سے للکارا کہ اداکار بھی حیران رہ گئے ہوں گے۔ ویسے بھی ایم کیو ایم پنجاب میں آرہی ہے تو بھائی کو پنجابی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ خطاب کے لئے کام آئے، خطاب بھی ایسا جس میں ہر دو تین جملوں کے بعد اوئے جاگیردارا! کا پیوند لگا ہو۔

( یہ تحریر 28 جنوری2011ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

لاہور سے وابستہ چند یادیں – آخری حصہ


لاہور میں کچھ ہفتے نوکری کی تلاش میں گزارنے کے بعد بھی جب کچھ بات نہ بنی تو گھٹن سی ہونے لگی۔ حالانکہ لاہور زندہ دل لوگوں کی جگہ ہے، لیکن میری افتادِ طبع کی وجہ سے میں ایسے ماحول میں آسانی سے ایڈجسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کچھ دنوں بعد کراچی جانے کا ارادہ کرلیا اور جون 2004ء کے اواخر میں کراچی روانہ ہوگیا۔

اس سے پہلے بھی کراچی جا چکا تھا۔ لیکن پشاور سے کراچی بذریعہ بس سفر کیا تھا۔ پشاور سے کراچی تک کا راستہ بس کے ذریعے 22 گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ لاہور نسبتاً کراچی کے زیادہ قریب ہوگا۔ اس لئے اس حساب سے کرایہ بھی کم ہوگا۔

یہی سوچ کر میں لاری اڈہ پہنچا، جو کہ مینار پاکستان کے قریب تھا۔ شام کا وقت ہورہا تھا۔ میں اپنے جس کزن کے پاس لاہور میں ٹھہرا تھا، انہوں نے کچھ پیسے دیئے لیکن میں نے یہ سوچ کر، کہ اتنا کرایہ نہیں ہوگا، واپس کردیئے۔ اگرچہ اس نے زبردستی کچھ رقم دے دی، لیکن مجھے حیرت تھی، کہ میرے پاس کافی رقم (700 روپے) موجود ہے، پھر بھی یہ پیسے دے رہے ہیں کہ ضرورت پڑے گی۔ خیر، لاری اڈہ پہنچ کر کراچی جانے والی بس ڈھونڈنے لگا۔ ایک جگہ ایک بس کھڑی نظر آگئی جس پر کراچی کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس سے پوچھا، کراچی کا ٹکٹ کتنے روپے کا ہے؟ اس نے کہا، 660 روپے کا ہے۔

یہ سن کر میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میں نے کہا، بھائی، اتنا زیادہ؟ بولا، 660 سے کم میں نہیں ملے گا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں کسی اور بس میں چلا جاتا ہوں۔ یہ سن کر اس بندے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ مجھے تھوڑی حیرت ہوئی، لیکن اس کو نظرانداز کرکے وہاں سے نکل پڑا۔ پورا لاری اڈہ چھان مارا لیکن کہیں سے بھی کراچی کی دوسری بس نہ مل سکی۔ تھکا ہارا واپس اسی جگہ پہنچا تو دیکھا، اب اسی جگہ پر صادق آباد جانے والی بس کھڑی ہے۔

اب کی بار اس سے پوچھا، بھائی یہاں پر کراچی جانے والی بس تھی۔ کہنے لگا، وہ تو چلی گئی، لیکن اگر تمہیں کراچی جانا ہے تو یہ بس صادق آباد کے بعد کراچی جائے گی۔ ٹکٹ وہی 660 روپے ہوگا۔ میں مجبوراً راضی ہوگیا۔ اور پیسے دے کر ٹکٹ لی اور بس میں بیٹھ گیا۔ رات کے تقریباً بارہ بجے لاہور سے نکلے۔ راستے میں بہت سارے علاقے اور شہر آئے، جو کہ اب یاد نہیں۔ البتہ صبح کی نماز کے وقت بہاولپور پہنچے۔

جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں میرے پاس 700 روپے تھے جو کہ کرایہ ادا کرنے کے بعد 40 روپے رہ گئے تھے، اس لئے ناشتہ ہلکا پھلکا سا کیا۔ تھوڑی دیر بعد بس وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بہاولپور سے آگے سڑک خراب تھی، لیکن ڈرائیور جیسے Desert Safari کے موڈ میں تھا۔ بس کو ایسے بھگا رہا تھا کہ کئی مقامات پر حادثات سے بال بال بچے۔

صبح 10 بجے کے قریب رحیم یار خان پہنچے، پھر وہاں سے صادق آباد روانہ ہوگئے۔ صادق آباد پہنچ کر بس ساری کی ساری خالی ہوگئی۔ میں اور دیگر 3 مسافر رہ گئے جو کراچی جانے والے تھے۔ بس کنڈکٹر نے ہم سے کہا، ہم آپ کو دوسری بس میں بٹھا دیتے ہیں۔ باقی مسافر نہ مانے اور انہوں نے بس والوں سے پیسے لے لئے۔ میں نے سوچا، دوسری بس مل رہی ہے تو پیسے لے کر کیا کرنا۔ تھوڑا آگے جاکر بس رکی، کنڈکٹر نے مجھے اور باقی مسافروں کو اترنے کو کہا، میں یہ سمجھ رہا تھا، کہ بس کنڈکٹر ہمارے ساتھ جائے گا۔ کیونکہ وہ بس سے نیچے اترگیا تھا، اور بس ڈرائیور سے پنجابی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ لیکن اچانک بس روانہ ہوگئی اور کنڈکٹر بھی بھاگم بھاگ بس میں سوار ہوکر وہاں سے چلا گیا۔

میں پریشان ہوگیا۔ 40 روپے سے تو ایک وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں، سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر کھڑے ہوکر کیا کریں؟ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ پھر سامنے بس اڈہ میں ایک دوسری بس سروس والوں کے آفس میں جا کر کراچی کا ٹکٹ دکھایا، اور ان سے پوچھا کہ یہ ٹکٹ جس بس سروس کا ہے، ان کا آفس کدھر ہے؟ انہوں نے پوچھا، کیا کام ہے؟ میں نے پوری بات بتادی۔ کہنے لگا، یہ ٹکٹ ہمیں دے دو، اس کے بدلے ہم تمہیں کراچی کا ٹکٹ دے کر اپنی بس میں بھیج دیں گے۔ میں نے کہا، میرے پاس پیسے نہیں۔ کہنے لگے، پیسے نہیں چاہیئے، یہ ٹکٹ دے دو، اس کے ذریعے ہم ان بس والوں سے پیسے لے لیں گے۔

میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ فوراً ان کو ٹکٹ دے کر دوسری ٹکٹ لے لی۔ پوچھا، بس کتنے بجے روانہ ہوگی، کہنے لگے، یہی کوئی 2 گھنٹہ بعد۔ 2 گھنٹے کی بجائے بس 10 گھنٹے بعد روانہ ہوگئی۔ اس دوران جو 40 روپے جیب میں تھے، وہ بھی گرمی کی وجہ سے کبھی پانی کبھی جوس پی کر ختم شد۔

بس شام 7 بجے کے قریب صادق آباد سے روانہ ہوگئی۔ صبح کے تقریباً 6 بجے کراچی پہنچے۔ سہراب گوٹھ کے قریب بس سے اترا۔ اب آگے جانے کے لئے جیب میں صرف 5 روپے تھے۔ میں بس سے اتر کر سوچ رہا تھا کہ کیا کروں؟ اتنے میں ایک ٹیکسی والا آیا اور پوچھا، کہاں جانا ہے؟ میں نے ایڈریس بتایا۔ کہنے لگا، چلو۔ میں نے کہا میرے پاس ابھی پیسے نہیں۔ گھر پہنچ کر دیتا ہوں۔ کہنے لگا، کوئی بات نہیں، تم نہ بھی دو تو میں نہیں مانگتا۔

میں نے صرف ملیر کا نام سنا تھا۔ میرے پاس اپنے رشتہ داروں کا فون نمبر تھا۔ اس ٹیکسی والے نے فون کرکے جگہ کا پتا کیا اور مجھے وہاں‌ تک لے کر گیا۔ بعد میں بڑی مشکل سے اس کو پیسے لینے پر راضی کیا۔

میں سوچ رہا تھا، اگر کراچی میں لسانی اور سیاسی مفادات کی جنگ لڑنے والے ہم لوگوں پر رحم کریں تو کراچی پاکستانیوں کے لئے کسی جنت سے کم نہیں۔

( یہ تحریر 19 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

%d bloggers like this: