لاہور سے وابستہ چند یادیں – دوسرا حصہ


مینارِ پاکستان سے سیدھا بادشاہی مسجد پہنچا۔ مسجد کے ساتھ علامہ اقبال کا مزار دیکھ کر پہلے وہاں جانے کا سوچا۔ مزار کے احاطے میں داخل ہو کر فاتحہ پڑھا، دعا کی۔ اس کے بعد کچھ دیر کھڑے ہو کر اس عظیم ہستی کی قبر کی طرف دیکھتا رہا۔ کیسے کیسے لوگ یہ زمین نگل گئی ہے؟ وہ لوگ جو کسی قوم کا سرمایہ افتخار ہوتے ہیں، جو غلامی کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر اپنے ہم وطنوں کو منزل کی طرف گامزن رہنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس شمع کی طرح، جو خود اپنے وجود کو ختم کرکے روشنی پیدا کرتی ہے۔

ان خیالات میں بھٹکتا بھٹکتا 1940ء کے اس دن کو تصور میں دیکھنے لگا، جب اقبال کے مزار کے سامنے پاکستان کا مطالبہ ہورہا تھا۔ میں تصور میں دیکھ رہا تھا، اقبال کی روح کتنی خوش ہورہی تھی۔ مسلمانانِ ہند کے لئے اس نے جو خواب دیکھا تھا، آج اس کی تعبیر میں پہلا قدم اٹھایا جارہا تھا۔

مزار اقبال سے نکل کر بادشاہی مسجد گیا۔ مسجد کے اندر داخل ہو کر اس کی قدامت کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔ اگرچہ صفائی کا خیال رکھا گیا تھا، البتہ جو تصور میرے ذہن میں تھا، مسجد اس سے بہت خستہ حالت میں لگ رہی تھی۔ یا پھر یہ میرے تصور کی خامی تھی۔ مسجد میں ملک بھر سے آئے ہوئے لوگوں کا رش تھا۔ کوئی تصاویر کھینچ رہا تھا، کوئی مسجد کے دالان میں تپتی دھوپ میں کھڑا اپنے دوستوں سے کہہ رہا تھا، خیال رکھنا، تصویر میں گنبد نظر آنی چاہیئے۔

بادشاہی مسجد سے نکل کر گرمی میں کہیں اور جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں اگر چہ تنہائی پسند ہو لیکن گھومنے پھرنے میں اکیلے اکتاہٹ محسوس کرتا ہوں۔ اس لئے باہر نکل کر سڑک کے کنارے لگے اسٹال سے گنے کا جوس پیا، اور گاڑی میں بیٹھ کر گھر روانہ ہوگیا۔

گاڑی سے اتر کر پھر پیاس لگی، سامنے ایک جگہ ”آم کا جوس“ لکھا دیکھ کر وہاں گیا۔ ایک ادھیڑ عمر کا شخص جوس بنا رہا تھا۔ مجھ سے پہلے دو افراد کھڑے جوس بننے کا انتظار کررہے تھے۔ جوس والے نے جوس بناتے ہوئے نیچے سے ایک ڈبا نکالا اور جوسر میں پڑے آم کے ساتھ ڈبے والا جوس بھی ڈال دیا۔ وہ لوگ جو کہ انتظار کررہے تھے، یہ دیکھ کر اس باباجی سے الجھ پڑے، کہ یہ تو آپ ٹھیک نہیں کررہے۔ آم کے جوس کے نام پر ڈبے کا جوس پلا رہے ہو۔ بابا جی بھی اپنی صفائیاں دے رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے اپنا ارادہ بدل دیا، اور وہاں سے چل پڑا۔

(جاری ہے)

( یہ تحریر 18 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: