لاہور سے وابستہ چند یادیں


بسم اللٰہ الرحمٰن الرحیم

2004ء میرے لئے ایک نہایت اہم سال تھا۔ میں روزگار کی تلاش میں کئی شہروں کا سفر کررہا تھا۔ جگہ جگہ نوکری کے لئے درخواستیں دیتا رہا۔ لیکن مطلوبہ تجربہ نہ ہونے کی بناء پر انکار کا سامنا کرنا پڑتا۔ مسلسل ڈیڑھ سال تک کوشش کرنے کے بعد بھی جاب نہ ملنے پر اگرچہ بہت مایوس تھا، لیکن اس کوشش کے دوران پاکستان کے کئی شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا۔

پہلی مرتبہ لاہور 2003ء کے اواخر میں گیا تھا۔ لیکن وہ ایک مختصر سفرتھا۔ شہر کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ دوسری مرتبہ 2004ء کی گرمیوں میں گیا تھا۔ اس بار ارادہ کیا تھا، کہ مصروفیات سے وقت نکال کر شہر کی ایک جھلک دیکھ لی جائے۔ ویسے بھی یار لوگ کہتے ہیں، جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ تو یہ شرط پوری کرنے کے لئے لاہور کی ایک مختصر سیر کا ارادہ کیا۔ ”لاہور کا جغرافیہ“ پڑھ کر دل میں خواہش تو ضرور تھی، لیکن فی الوقت لاہور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا ارادہ تھا۔

چنانچہ سب سے پہلے مینار پاکستان جانے کا ارادہ کیا۔ میں اپنے کزن کے پاس ٹھہرا تھا، جن کی رہائش قصور روڈ پر تھی۔ وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر مینارِ پاکستان کی طرف روانہ ہوگیا۔ مینارِ پاکستان پہنچ کر پہلے تو پارک میں اِدھر اُدھر ٹہل کر محظوظ ہوتا رہا۔ پارک کے اس طرف بادشاہی مسجد کے مینار نظر آرہے تھے۔ سڑک پر رواں گاڑیوں کا دھواں اگرچہ منظر کو دھندلا کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن بادشاہی مسجد کے مینار جیسے فخر سے سر اٹھائے مینار پاکستان کی طرف دیکھتے ہوئے اس لمحے کی یاد تازہ کررہے تھے، جب قراردادِ پاکستان منظور ہوئی تھی۔

کچھ دیر بعد مینار پاکستان کے پاس گیا۔ پتا چلا، مینار کے اوپر جانے کے لئے 10 روپے کا ٹکٹ ہے۔میں نے پوچھا، ٹکٹ کس لئے؟ جواب ملا، لفٹ استعمال ہوتا ہے اس لئے۔ خیر، ٹکٹ لے کر لفٹ کے پاس گیا، تو دیکھا سارے لوگ سیڑھیوں سے اوپر جارہے تھے۔ یعنی لفٹ کام نہیں کررہی تھی۔ اس لئے ہم بھی چاروناچار سیڑھیوں کے ذریعے اوپری منزل پر جانے لگا۔ اوپر بالکونی میں شہر کا نظارہ بہت ہی عجیب تھا۔ لوگوں کا کافی رش تھا۔ کچھ دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد واپس نیچے آیا۔

پارک میں جگہ جگہ فوٹوگرافر کھڑے ہو کر سیاحوں کو تصاویر کھینچنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ایک فوٹوگرافر میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا، ہاں بھئی تصویر کھنچوانی ہے؟ میں نے پوچھا، کتنے روپے لگیں گے؟ بے روزگار بندے کو ویسے بھی پوچھنا پڑتا ہے۔ اس نے کہا، 1 فوٹو کے 10 روپے۔ میں نے کہا، ایک فوٹو کے؟ کہنے لگا ہاں۔

میں نے سوچا، مینارِ پاکستان آنے کی کوئی یادگار تو ہونی چاہیئے۔ اس لئے ایک تصویر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس نے ایک تصویر کھینچی۔ میں نے جیب سے 10 روپے نکال کر اس کو دئیے۔ کہنے لگا، بھائی ابھی تو 9 تصویریں باقی ہیں۔ میں حیران ہوگیا، یہ کیا چکر ہے؟ میں نے کہا، بھائی آپ نے تو ایک تصویر کا کہا تھا، کہنے لگا، ہاں کہا تھا، لیکن ایک تصویر کےلئے میں باقی 9 تصاویر کا کیا کروں؟؟

مجبوراً باقی تصاویر بھی کھینچ لیں۔ اور اس کو 100 روپے دے کر اپنے آپ کو کوستا ہوا چل پڑا۔ فضول میں 100 روپے ضائع ہوگئے۔ آج جب بھی وہ تصاویر دیکھتا ہوں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ واقعی لاہور والے بڑے زندہ دل ہیں۔

(جاری ہے)

( یہ تحریر 17 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: