مولوی کی کلاس


آپ شائد سوچ رہے ہونگے کہ یہ مولوی صاحب کی کلاس کی بات ہورہی ہے جس میں وہ بچوں کو ا، ب پڑھاتے ہیں۔ جی نہیں، یہ وہ کلاس ہے جس میں مولوی‌ صاحب کو پیش کرکے ان کی ‘خاطر تواضع’ کی جاتی ہے۔ یوں تو اس سلسلے میں ایک غیر مربوط کوشش پہلے سے ہی چل رہی ہے لیکن اس کلاس کو منظم کرنے کے لئے سوچ کر آپ کو اس کے اصول و ضوابط سے آگاہ کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ ان قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہے، اس کے بغیر کلاس کو مولوی کی کلاس نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ اس بندے کو مولویوں کا ہمدرد سمجھا جائے گا۔

مولوی کی کلاس لینے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ آپ کو روشن خیال سمجھیں ورنہ آپ کی کلاس بے کار ہوجائے گی اور لوگ سمجھیں گے کہ یہ مذہبی لڑائی ہے۔ روشن خیال بننے کے لئے کچھ آزمودہ طریقے پیش خدمت ہیں۔

سب سے پہلے، اگر آپ مرد ہیں تو داڑھی سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں، داڑھی والا ہمیشہ انتہا پسند ہی ہوتا ہے۔ اس لئے اسمارٹ بنیں اور کلین شیو پر توجہ دیں، پھر ترقی پسندوں کی تصانیف پڑھیں، ان کی تصانیف میں شامل وہ باتیں جن سے کان سرخ ہوتے ہوں، ہر مناسب موقع پر لوگوں کے ساتھ شئیر کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی باتیں کریں، کسی عورت کے ساتھ ظلم ہو تو ریلیاں نکالیں، ان کے پاس جا کر فوٹو سیشن کرائیں اور یہ مطالبہ کریں‌ کہ ذمہ داروں کو جلد از جلد سزا دی جائے۔ لیکن اتنا بھی شور و غوغا نہ کریں کہ حکومت واقعی مجبور ہو، ہتھ ہولا رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر بات میں مولویوں کو کوسیں، امن و امان کا مسئلہ ہو، مہنگائی کا مسئلہ ہو، یا پاکستان کی عالمی ساکھ کا، ہر بات میں مولوی کو گھسیٹیں۔ اس سے آپ کا امیج بہت روشن ہوگا اور آپ خود ہی چند ہفتوں یا مہینوں میں فرق محسوس کریں گے۔

اگر آپ خاتون ہیں، تو مندرجہ بالا طریقوں میں سے داڑھی کی بات چھوڑ کر باقی آپ کے لئے بھی ہیں، البتہ آپ کی صنف کے حساب سے کچھ مزید طریقے ہیں جن کو آزما کر آپ دقیانوسی کی جگہ روشن خیال کہلائیں گی۔ سب سے پہلے حجاب کو خیرباد کہہ دیں، روشن خیالی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا چہرہ بھی روشن رہے۔ اس کے بعد بتدریج دوپٹے کو سر سے سِرکا کر کندھے پر لے آئیں۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دوپٹے کو بھی خیر باد کہہ دیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سارا عمل بہت آہستہ ہو ورنہ مولوی آپ کی کلاس لینا شروع کردے گا۔ اسی طرح کپڑوں میں بتدریج تبدیلیاں لائیں حتیٰ کہ آپ بھی ترقی پسند خواتین کی طرح ان کی رنگ میں رنگ جائیں۔ کلبوں میں جائیں، بوائے فرینڈ ڈھونڈیں، اور ظالم سماج کی زنجیریں توڑنے کا عزم کریں۔ پھر اس کے بعد مولوی کی کلاس لینا شروع کریں، میڈیا پر آپ کو بہت پذیرائی ملے گی اور آپ خود ہی محسوس کریں گی کہ واقعی روشن خیال ہونا کتنی اچھی بات ہے!!!!

اس کے علاوہ کتے پالنے کا شوق رکھیں، صبح کی سیر میں ان کو ساتھ لے کر جائیں تا کہ آپ ماڈرن لگیں۔ اور فوٹو سیشنز میں بھی کتوں کو گود میں بٹھا کر ان سے پیار کریں تاکہ آپ کی بے زبانوں کے ساتھ دوستی مشہورِ عام وخاص ہوجائے۔

لیجئے، اب آپ دل کھول کر مولوی کو گالیاں دیں۔ ان کو معاشرے کا ناسور قرار دیں۔ ان کے رہن سہن، کپڑوں، کھانے (حلوہ ) وغیرہ کی بھی برائی کریں۔ ان کی ایسی خاطر تواضع کریں کہ کوئی بھی مولوی آپ کے سامنے ٹک بھی نہیں سکے۔ ایسا کرنے سے کوئی آپ کو روک نہیں سکے گا کیونکہ آپ کے دماغ میں روشن خیالی کا بلب روشن ہے، جس کا مقابلہ مولوی کے دماغ کی پرانی شمع نہیں کرسکتی۔

نوٹ: میں مولوی نہیں ہوں۔
(میری یہ تحریر 1 فروری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: