Monthly Archives: جنوری, 2014

حکومت چلانے کے آسان طریقے



پاکستان میں آج کل نوجوانوں کو سیاسی میدان میں زیادہ اختیارات اور ذمہ داریاں دینے کا رجحان ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ نوجوانوں کو اپنی پارٹی میں اہم ذمہ داریاں دیں۔ ان میں کچھ واقعی نوجوان ہوتے ہیں اور کچھ کی صرف حکومت کرنے کی خواہش جوان ہوتی ہے۔ بہرحال دونوں قسم کے سیاستدان ہمیشہ جوان ہی رہتے ہیں۔

ان میں سے اول الذکر نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے حکومت چلانے کے کچھ آسان اور آزمودہ طریقے پیش خدمت ہیں۔ یہ طریقے پاکستان میں گزشتہ 66 سالوں سے آزمودہ ہیں اور ان کی اثر پذیری میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ ان طریقوں کو ہم تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

1) حکومت سے پہلے کا عرصہ 2) حکومتی دور 3) اپوزیشن کا دور۔  حیران ہونے کی ضرورت نہیں، تینوں ادوار میں سیاستدان حکومت میں ہی ہوتا ہے۔

حکومت سے پہلے کا دور: اس عرصے میں آپ کو اپنی امیج بہتر کرنی ہے۔ عوام میں سیاستدانوں کے بارے میں جو منفی رائے پائی جاتی ہے، اس کا اثر زائل کرنا ہے۔ اس کے لئے آپ لوگوں کی غمی خوشی میں شرکت کریں، پروٹوکول کے بغیر گھومیں پھریں۔ اگر کسی جگہ پر لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے احتجاج کررہے ہوں تو ان سے یکجہتی کے لئے احتجاج میں شریک ہوں، ان کے حقوق کے لئے لڑنے مرنے کا عزم کریں اور دبے لفظوں میں یہ بھی سمجھانے کی کوشش کریں کہ ‘دیکھ لیا فلاں کو ووٹ دینے کا نتیجہ’۔ اس سے رفتہ رفتہ آپ ایک نجات دہندہ رہنما کے طور پر جانے جائیں گے اور اگلے الیکشن میں (اگر ہوئے تو) آپ کے جیتنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

اگر آپ کسی سیاسی جماعت میں اہم ذمہ داریوں پر فائز ہیں تو پھر مندرجہ بالا عوامی خدمات کے ساتھ ساتھ روزانہ، ہفتہ وار یا پھر کم از کم مہینے میں ایک بار اخباری بیانات اور ٹی وی انٹرویو اور ٹاک شو کے ذریعے حکومت وقت کو آڑے ہاتھوں لیں۔ حکومت کے ہر جائز و ناجائز کام پر تنقید کریں، حکومتی منصوبوں میں کیڑے نکالیں اور مظلوم عوام کے حقوق کے لئے لڑنے مرنے کی قسمیں کھائیں۔

حکومتی دور: جب آپ کی پارٹی کو اقتدار مل جائے تو سب سے پہلے اپنے لئے بہتر سے بہتر وزارت کا قلمدان حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اصول اور ڈسپلن کو ایک طرف رکھیں،  ورنہ بعد میں کسی بے کار وزارت کو لے کر روتے رہیں گے۔ آج کل تو کسی ایسی ویسی وزارت کے لئے ٹی وی والے انٹرویو بھی نہیں لیتے۔ اس لئے اس ہدف کو ضرور حاصل کریں۔ اس کے بعد اپنے لئے کچھ محافظوں کا انتظام کردیں، بس یہی دو تین سو افراد پر مشتمل اور پروٹوکول کے بغیر کہیں سفر نہ کریں۔ عوام میں گھل مل جانے کی پرانی عادتیں چھوڑ دیں ورنہ پھر لوگوں میں آپ کی اہمیت کم ہوجائے گی۔ اس لئے فاصلہ رکھیں۔

۔ اس کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس کام کے لئے بہت بڑے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوام کو پچھلے دور کی صعوبتوں سے نکالنے کے لئے مندرجہ ذیل کام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:

سب سے پہلے پچھلی حکومت کے جاری کردہ منصوبوں کو بیک جنبش قلم روک دیں۔ یہ منصوبے عوام پر ظلم ڈھانے کے لئے شروع کئے گئے تھے۔ اس لئے عوام کو اس ظلم سے نجات دلانے کے لئے اگر قومی خزانے کا کچھ نقصان ہوتا بھی ہے تو یہ سودا اتنا برا نہیں۔

اس کے بعد اپنی پارٹی منشور کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے لئے کوئی اسکیم شروع کریں۔ البتہ یہ اسکیم نہایت قلیل المدتی بنیاد پر ہونے چاہیئے۔ ورنہ لوگوں کا دل  اس دنیا میں ہی لگ جائے گا اور وہ آخرت سے بے فکر ہوجائیں گے۔ اس کی ذمہ داری پھر آپ کی حکومت پر ہوگی۔ کوئی بھی منصوبہ شروع کرتے وقت اپنی پارٹی کے اراکین کا ‘خاص خیال’ رکھیں۔ انہی لوگوں کی دعاؤں سے آپ اس مقام پر پہنچے ہیں اور اگلی مرتبہ پھر یہی لوگ آپ کے کام آئیں گے۔

اپوزیشن والے آپ کو کام کرنے نہیں دیں گے۔ اس لئے ان کو کیسوں میں الجھائے رکھیں تاکہ عدالتوں اور جیل کے درمیان چکر کاٹتے رہیں۔ اور عوام کو ان سے دور رکھنے کے لئے کبھی کبھار یہ بیان دیتے رہیں کہ عوام اب سمجھدار ہوگئی ہے اور عوام کو بے وقوف بنانا اپوزیشن کے لئے آسان نہیں، تاکہ اپوزیشن کا ساتھ دینے والے خود کو بے وقوف سمجھیں اور پیچھے ہٹ جائیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی سرپھرا سیاسی لیڈر حکومت کے کام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کی کردارکشی کریں، اس کا ماضی لوگوں کے سامنے لائیں کہ کیسے اس نے بچپن میں فلاں تندور سے روٹی چرائی تھی اور فلاں کے گھر کی گھنٹی بجا کر بھاگ گیا تھا۔

سب سے اہم کام اپنے مستقبل کی فکرکرنا ہے۔ آنے والے وقت کے لئے پہلے سے تیاری کریں۔ ائیرپورٹ پر ایک طیارہ ہمہ وقت تیار رکھیں۔ کبھی بھی حفاظتی تدابیر کے طور پر ملک سے باہر جانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اس کے بعد اپنے بچوں کی دال روٹی کے لئے دس بارہ کارخانے، کچھ شاپنگ سنٹرز وغیرہ بنا کر بیوی بچوں کے نام کردیں  تاکہ مشکل وقت میں ان کے کام آئے۔ حکومتی کاموں میں اپنے رشتہ داروں کی مدد حاصل کریں تاکہ وہ بھی عوام کی بھرپور خدمت کرسکیں۔

اپوزیشن کا دور: اپوزیشن والے دور میں زیادہ کام نہیں ہوتا۔ اگر آپ جیل سے باہر رہے تو اخبارات پڑھیں، ٹی وی دیکھیں ، حکومتی منصوبوں اور بیانات کی مخالفت میں بیانات جاری کرتے رہیں اور اپنی باری کا انتظار کریں۔ ورنہ جیل میں وقت گزاری کے لئے کوئی کتاب لکھیں تاکہ عوام میں آپ کا امیج ایک نڈر سیاسی لیڈر کے طور پر ہو۔

امید ہے مندرجہ بالا مشورے اور طریقے آپ کے کام آئیں گے اور آپ ہمیں دعائیں دیں گے البتہ یہ دعائیں آپ عوام سے ملنے والی دعاؤں سے نہ دیں۔ وہ صرف آپ ہی کے لئے ہیں۔

%d bloggers like this: