Monthly Archives: اگست, 2014

ایک انقلابی کی ڈائری



ہمیں حالات حاضرہ کے بارے میں جاننے اور تبصرہ کرنے کا بہت شوق ہے۔ یہ نہ تو ہماری تعلیم کا کمال ہے نہ ہمارے تجربے کا، یوں سمجھئے جیسے ہمیں یہ شوق ورثے میں ملا ہو۔ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پر تبصرے ہوں، یا ملک کے حالات کے بارے میں ماہرانہ رائے کا اظہار، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے چھپی سازش کا سراغ لگانا ہو، یا امریکی و برطانوی سازشوں سے پردہ اٹھانا ہو، ہم ہر فن مولا ہیں۔

ایسی بات نہیں کہ ہم کوئی کام کاج نہیں کرتے۔ ہمارا دن کافی مصروف گزرتا ہے، صبح اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں، پھر نماز کے بعد مسجد میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ملک کے حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حکمرانوں نے اس ملک کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس لئے ان کی حکومت کے خاتمے کی اجتماعی دعا کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

ناشتے کے بعد ہم دفتر جاتے ہیں۔ دفتر میں چونکہ کام زیادہ ہوتا ہے، اس لئے اخبار ساتھ لے کر دراز میں رکھ لیتے ہیں کہ اگر موقع ملا تو کچھ ملکی حالات سے واقفیت حاصل ہوسکے گی۔ 10 بجے کی چائے پر دفتر کے ساتھی کینٹین میں جمع ہوتے ہیں۔ سب کا یہی رونا ہوتا ہے کہ اس حکومت نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ یہ بحث کبھی کبھار طول پکڑ جاتی ہے اور ہمیں بحث کو ختم کرنے کے لئے اخباری تراشے اور حوالے دینے پڑتے ہیں۔ یہ کام اگرچہ دفتری سرگرمی نہیں لیکن ملک کی بہتری کے لئے ہم رضاکارانہ طور پر یہ خدمات انجام دیتے ہیں۔

خدا بھلا کرے مارک زکربرگ کا، جنہوں نے ہم جیسے سیاسی کارکنوں پر فیس بک کی شکل میں ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ فیس بک کو ہم آگاہی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے فیس بک پیج پر10، 12 تبصرے تو ہم روزانہ کرتے ہیں۔ چونکہ یہ روزانہ کا کام ہے اس لئے ہمیں زیادہ سوچنا نہیں پڑتا۔ اکثر پوسٹیں "ماشاء اللہ، سبحان اللہ ، واہ واہ، میرا لیڈر شیر ہے، میرے لیڈر کی سادگی دیکھو، لیڈر ہو تو ایسا، میری پارٹی زندہ باد، وغیرہ جیسے جملوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔

اس کے بعد ہم اپنی مخالف سیاسی پارٹیوں کے فیس بک پیجز پر جاتے ہیں اور وہاں پر لوگوں کو ان کی اصلیت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہمیں کبھی کبھار فوٹو شاپ کا سہارا لینا پڑتا ہے، لیکن چونکہ یہ کام آگاہی اور اصلاح کی نیت سے کیا جاتا ہے، اس لئے ہمارا یقین ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ہم بھلے مخالف پارٹی والوں کی تصویروں سے سر کاٹ کر کہیں اور فٹ کردیں، یا کسی ڈانس پارٹی کی تصاویر شئیر کریں، ہماری نیت اس قوم کی اصلاح ہے۔ تصویروں کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کو ان پارٹیوں کی منافقت سے بھی آگاہ کرتے ہیں، اور ان کے دوغلے پن کی مذمت مہذب انداز میں کرتے ہیں۔ ہمارے ایسے پوسٹ کچھ یوں ہوتے ہیں: لعنت، لکھ دی لعنت، درفٹے منہ، گو ۔۔۔۔ گو، ۔۔۔۔ کی منافقت وغیرہ وغیرہ۔

چونکہ ہم اور ہماری پسندیدہ سیاسی جماعت کبھی غلط نہیں ہوسکتی، اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سارے اچھے اور کھرے صحافی ہمارے لیڈروں کے حق میں کالم لکھیں گے۔ اکثر صحافی ایسا کرتے بھی ہیں۔ لیکن پھر ان کی مالی اور سیاسی مجبوریاں آڑے آجاتی ہیں، اس لئے وہ لفافہ وصول کرکے ہمارے لیڈروں کی کردارکشی شروع کردیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم نے اپنا یہ اصول بنا دیا ہے کہ جو ہمارے لیڈروں کے خلاف بولے گا یا کالم لکھے گا، وہ صحافی یا تو بکا ہوا ہے، یا سیاسی تعصب کا شکار ہے۔ ایسے لوگ صحافت کے نام پر دھبہ ہیں، اس لئے ہماری سوشل میڈیا ٹیم دن رات کی محنت سے ایسے لوگوں کی اصلیت آشکار کرنے کے ساتھ ساتھ ان صحافیوں کی بھرپور مذمت بھی کرتی ہے۔

(جاری ہے)

Advertisements

مستقل مزاج طالب علم کا طریقہ مطالعہ



اگر آپ کسی امتحان کی تیاری کررہے ہیں تو ایک مستقل مزاج طالب علم کا مطالعے کا طریقہ آپ کے کام آسکتا ہے۔

مطالعے کی میز پر بیٹھنے سے پہلے کتاب، نوٹ بک، قلم اور ایک گھڑی کا بندوبست کرلیجئے۔ گھڑی اس لئے کہ کہیں مقرر کردہ وقت سے زیادہ مطالعہ نہ کر بیٹھیں۔ ایک حد سے زیادہ مطالعے سے دماغ پر بوجھ پڑتا ہے۔ اس لئے اس سے گریز کرنا چاہیئے۔ اگر سگریٹ وغیرہ کا شوق رکھتے ہیں تو ایک ڈبی سائیڈ پر رکھ لیں۔ پانی کی بوتل ساتھ رکھیں تاکہ خشک موضوعات پڑھتے ہوئے گلا خشک ہونے کی صورت میں کام آسکے۔

اب مطالعے کا آغاز کریں۔ سب سے پہلے کتاب کے صفحے گن لیں، پھر فہرست پر ایک نظر ڈال کر متعلقہ باب کو پڑھنا شروع کریں۔ پھر اس باب کے صفحات گن لیں۔ اگر یہ باب مشکل لگ رہا ہو تو ایک دو صفحے اگلے یا پچھلے باب سے پڑھ لیں۔ پھر چار پانچ منٹ کا وقفہ کرکے کتاب کے صفحات کو دائیں سے بائیں پلٹنا شروع کردیں۔ بیچ میں کہیں دو تین جملے پڑھ بھی لیں، تا کہ علم میں اضافہ ہو۔ 15، 20 صفحے پلٹنے کے بعد انہی صفحوں کو واپس پلٹنا شروع کردیں۔ اس طرح آپ بور بھی نہیں ہوںگے اور ایک دو صفحے پڑھ بھی لیں گے۔

ہر پانچ منٹ کے بعد گھڑی میں وقت دیکھتے رہیں۔ جیسے ہی ایک نشست کا وقت پورا ہو، کتاب بند کرکے تھوڑا آرام کرلیں۔ اس دوران فیس بک پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کریں، ٹوئٹر پر خبریں پڑھیں، ملکی سیاسی حالات پر اپنی ماہرانہ رائے دیں، حکمرانوں کو کوسیں کہ ملک کو کس نہج پر لے گئے حالانکہ یہ لوگ نہ ہوتے تو ہمارے ملک میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔

پھر تھوڑا باہر کا چکر لگا کر آئیں، کیونکہ ایک ہی جگہ بیٹھنے سے دوران خون پر برا اثر پڑتا ہے اور پڑھائی کے دوران تو دماغ کے پرزے تک ہل جاتے ہیں۔

اس کے بعد بھی اگر وقت بچے تو پھر شروع سے مطالعے کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مطالعہ دوبارہ شروع کریں۔

خبردار:ایک ماہر، سند یافتہ نالائق اور مستقل مزاجی سے فیل ہونے والے طالب علم کی اجازت اور رہنمائی کے بغیر یہ عمل کرنے کی اجازت نہیں۔ خلاف ورزی کرکے پاس ہونے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔

جمہوری آمریت یا فوجی جہموریت


منتخب عوامی حکومتوں کو گرانے سے ملکوں میں بہتری نہیں آتی، بلکہ انتشار اور انارکی قوم کا مقدر ہوجاتی ہے۔ کم از کم پاکستان کی حد تک ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی منتخب حکومتوں کو ختم کیا گیا، ملک میں سیاسی انتشار، بدامنی اور مہنگائی پہلے کی نسبت بڑھ گئے تھے۔ زیادہ دور نہ جائیں 90 کی دہائی کے حالات دیکھ لیں۔

البتہ ہم پاکستانیوں کو مارشل لاء کی اس قدر عادت ہوچکی ہے کہ جمہوری حکومتوں میں ہمارا دم گھٹتا ہے۔ حالانکہ مارشل لاء کے دور میں (ضیاء اور مشرف) جو مظالم پاکستانی عوام پر ڈھائے گئے، اور جو پالیسیاں بنائی گئیں، ان کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

اجی چھوڑیں، مشرف دور میں ملک ایسا تو نہ تھا، ڈالر کافی سستا تھا، انسان بھی ڈالروں میں بکتے تھے۔

اس لئے عزیز ہم وطنو، جلدی کرو، موجودہ بادشاہت کو ختم کرکے فوجی بادشاہت کی جمہوری اور عوامی حکومت ملک میں نافذ کردو۔

%d bloggers like this: