ایک انقلابی کی ڈائری



ہمیں حالات حاضرہ کے بارے میں جاننے اور تبصرہ کرنے کا بہت شوق ہے۔ یہ نہ تو ہماری تعلیم کا کمال ہے نہ ہمارے تجربے کا، یوں سمجھئے جیسے ہمیں یہ شوق ورثے میں ملا ہو۔ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پر تبصرے ہوں، یا ملک کے حالات کے بارے میں ماہرانہ رائے کا اظہار، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے چھپی سازش کا سراغ لگانا ہو، یا امریکی و برطانوی سازشوں سے پردہ اٹھانا ہو، ہم ہر فن مولا ہیں۔

ایسی بات نہیں کہ ہم کوئی کام کاج نہیں کرتے۔ ہمارا دن کافی مصروف گزرتا ہے، صبح اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں، پھر نماز کے بعد مسجد میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ملک کے حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حکمرانوں نے اس ملک کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس لئے ان کی حکومت کے خاتمے کی اجتماعی دعا کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

ناشتے کے بعد ہم دفتر جاتے ہیں۔ دفتر میں چونکہ کام زیادہ ہوتا ہے، اس لئے اخبار ساتھ لے کر دراز میں رکھ لیتے ہیں کہ اگر موقع ملا تو کچھ ملکی حالات سے واقفیت حاصل ہوسکے گی۔ 10 بجے کی چائے پر دفتر کے ساتھی کینٹین میں جمع ہوتے ہیں۔ سب کا یہی رونا ہوتا ہے کہ اس حکومت نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ یہ بحث کبھی کبھار طول پکڑ جاتی ہے اور ہمیں بحث کو ختم کرنے کے لئے اخباری تراشے اور حوالے دینے پڑتے ہیں۔ یہ کام اگرچہ دفتری سرگرمی نہیں لیکن ملک کی بہتری کے لئے ہم رضاکارانہ طور پر یہ خدمات انجام دیتے ہیں۔

خدا بھلا کرے مارک زکربرگ کا، جنہوں نے ہم جیسے سیاسی کارکنوں پر فیس بک کی شکل میں ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ فیس بک کو ہم آگاہی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے فیس بک پیج پر10، 12 تبصرے تو ہم روزانہ کرتے ہیں۔ چونکہ یہ روزانہ کا کام ہے اس لئے ہمیں زیادہ سوچنا نہیں پڑتا۔ اکثر پوسٹیں "ماشاء اللہ، سبحان اللہ ، واہ واہ، میرا لیڈر شیر ہے، میرے لیڈر کی سادگی دیکھو، لیڈر ہو تو ایسا، میری پارٹی زندہ باد، وغیرہ جیسے جملوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔

اس کے بعد ہم اپنی مخالف سیاسی پارٹیوں کے فیس بک پیجز پر جاتے ہیں اور وہاں پر لوگوں کو ان کی اصلیت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہمیں کبھی کبھار فوٹو شاپ کا سہارا لینا پڑتا ہے، لیکن چونکہ یہ کام آگاہی اور اصلاح کی نیت سے کیا جاتا ہے، اس لئے ہمارا یقین ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ہم بھلے مخالف پارٹی والوں کی تصویروں سے سر کاٹ کر کہیں اور فٹ کردیں، یا کسی ڈانس پارٹی کی تصاویر شئیر کریں، ہماری نیت اس قوم کی اصلاح ہے۔ تصویروں کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کو ان پارٹیوں کی منافقت سے بھی آگاہ کرتے ہیں، اور ان کے دوغلے پن کی مذمت مہذب انداز میں کرتے ہیں۔ ہمارے ایسے پوسٹ کچھ یوں ہوتے ہیں: لعنت، لکھ دی لعنت، درفٹے منہ، گو ۔۔۔۔ گو، ۔۔۔۔ کی منافقت وغیرہ وغیرہ۔

چونکہ ہم اور ہماری پسندیدہ سیاسی جماعت کبھی غلط نہیں ہوسکتی، اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سارے اچھے اور کھرے صحافی ہمارے لیڈروں کے حق میں کالم لکھیں گے۔ اکثر صحافی ایسا کرتے بھی ہیں۔ لیکن پھر ان کی مالی اور سیاسی مجبوریاں آڑے آجاتی ہیں، اس لئے وہ لفافہ وصول کرکے ہمارے لیڈروں کی کردارکشی شروع کردیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم نے اپنا یہ اصول بنا دیا ہے کہ جو ہمارے لیڈروں کے خلاف بولے گا یا کالم لکھے گا، وہ صحافی یا تو بکا ہوا ہے، یا سیاسی تعصب کا شکار ہے۔ ایسے لوگ صحافت کے نام پر دھبہ ہیں، اس لئے ہماری سوشل میڈیا ٹیم دن رات کی محنت سے ایسے لوگوں کی اصلیت آشکار کرنے کے ساتھ ساتھ ان صحافیوں کی بھرپور مذمت بھی کرتی ہے۔

(جاری ہے)

Advertisements

One response

  1. کیا خوب تصویر کھینچی ہے 🙂

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: