سازش – دورِ جدید کا شیطان



سازش سوشل سائنسز کی ایک نئی شاخ ہے۔ ہم اب تک اپنے آباء واجداد کے سائنسی میدان میں کارناموں اور ان کی خدمات کا ذکر کرکے مغرب کو ڈراتے تھے، لیکن کچھ عرصے سے مغرب کا ڈر کم ہوتا جارہا تھا۔ آخر کب تک کوئی ان کارناموں کے کھنڈرات پرسپنوں کے محل کھڑے کرتا۔ اس لئے ہمارے سیاسی رہنماؤں، مذہبی قائدین اور دانشوروں کی انتھک محنت سے اس نئے فن کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اور ان کی مسلسل کوششوں اور یاددہانیوں سے یہ فن اب ہمارے معاشرے میں بھی کافی مقبولیت اختیار کررہا ہے۔
اس فن کو بزبانِ عام "سازش” کہا جاتا ہے۔ اس کی مختصر تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ اگر آپ کسی کام کا ارادہ کرلیں اور کسی دوسرے بندے کی دانستہ یا نادانستہ حرکات کی وجہ سے آپ اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں، یا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ناکامی میں اس بندے کا کچھ نہ کچھ کردار ہے، تو ضرور یہ اس بندے کی آپ کے خلاف سازش ہے۔ مثلا میں کل ڈیوٹی پر جارہا تھا اور بس اسٹاپ پر پہنچنے سے پہلے ہی بس نکل چکی تھی، میں دفتر 20 منٹ دیر سے پہنچا اور منیجر کی باتیں سنیں۔ یہ بس ڈرائیور کی سازش تھی۔ دوسری مثال ، میں نے امتحان کے لئے اچھی خاصی تیاری کی تھی، لیکن ممتحن نے پرچہ کافی مشکل بنا کر میرے خلاف سازش کی ، اس لئے میں فیل ہوگیا۔ تیسری مثال، الیکشن ہارنے والی پارٹی ہمیشہ یہ سمجھتی ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور اس کے خلاف اسٹیبلیشمنٹ نے سازش کی ہے، یعنی الیکشن میں کوئی بھی پارٹی بغیر سازش کے نہیں ہار سکتی۔ جس دفعہ بغیر سازش کے الیکشن ہوئے، اس دفعہ ساری سیاسی پارٹیاں جیت جائیں گی۔
سازش کی بہت ساری شاخیں (قسمیں) ہیں۔ البتہ مشہور اقسام میں امریکی سازش، یہودی سازش،بھارتی سازش، انتہاپسندی کی سازش، فحاشی و عریانی کی سازش شامل ہیں۔ ہر سازش معاشرے کے الگ الگ طبقوں میں اپنی خصوصیات کی بناء پر کافی مقبول ہے۔ دینی اور مذہبی طبقے امریکی اور یہودی سازش سے زیادہ متاثر ہیں اور ان کے اجتماعات میں سازش کے بارے میں کافی معلوماتی لیکچر ہوتے ہیں۔ امریکی اور یہودی سازشوں کے مختلف پہلؤوں پر سیر حاصل بحث کی جاتی ہے اور اپنی ناکامیوں کی وجہ ان سازشوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ہمارے مذہبی طبقے کے نزدیک سازش دورِ جدید کا شیطان ہے۔
بھارتی سازش دینی اور لبرل سب طبقوں میں یکساں طور پر مقبول ہے اور الیکشن کے دنوں میں اس کے مناسب مقدار میں استعمال سے کافی ووٹ ملتے ہیں۔ بھارتی سازش کوماضی میں دینی حمیت اور جہادی غیرت کے ساتھ ملا کر کشمیر کے مسئلے پر اس کی آزمائش کی گئی اور ایک نئی منافع بخش انڈسٹری وجود میں آگئی تھی۔ بعد میں اس پراڈکٹ پر بین الاقوامی مارکیٹ میں پابندی لگ گئی تھی، اس لئے اب یہ انڈسٹری بند ہے۔ البتہ بھارتی سازش کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ اب بھی اکثر اوقات ہمارے لیڈر اس سازش کے اثرات سے قوم کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
سازش کی مقامی سطح پر مقبولیت کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے اور دیگر ممالک نے اپنی ضروریات کے تحت سازشی نظریات پر کام شروع کردیا ہے۔ سازشی نظریات دراصل سازش کی ایک ذیلی شاخ ہے اور اس کو اکثر کسی بات یا بحث کو رد کرنے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کوئی بندہ یہ مقدمہ دائر کرے کہ اس کو فلاں بندے نے کاروبار میں نقصان پہنچایا ہے تو مدعیٰ علیہ اس دعوے کو سازشی نظریہ کہہ کر رد کرسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں مقدموں کی کثیر تعداد کو دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں عدالتیں سازشی نظریوں کے ذریعے انتہائی تیزرفتاری اور شفافیت کے ساتھ مقدمات کا فیصلہ سنائیں گی۔
مستقبل قریب میں سازش کا باقاعدہ استعمال بین الاقوامی سفارت کاری اور دفاعی اداروں میں بھی شروع ہوجائے گا۔ سازشوں کا تجزیہ کرنے کے لئے ہرملک ایک تجزیاتی ادارہ بنائے گا جو دوسرے ممالک کی سازشوں کا توڑ کرنے کی کوشش کرے گا۔ تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ اس سے ان ملکوں کے دفاعی بجٹ میں کافی کمی آئے گی اور براہ راست لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرکے جنگ سے زیادہ دیرپا نتائج حاصل کئے جا سکیں گے۔

Advertisements

2 responses

  1. حضور ۔ میں چھوڑنے نہیں لکھنے کیلئے حاضر ہوا ہوں کہ مجھے چھوڑنے کی عادت نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس چھوڑنے کا نام عصرِ جدید میں سازش رکھ دیا گیا ہے ۔ اپنے تجربے اور تعلیم کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سازش ۔ افواہ سازی اور لطیفے کو ایک سائینس کا درجہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دیا گیا ۔ اس کے خالق یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ اور سویئٹ سوشلسٹ ریپبلس آف رشیا تھے پھر کچھ دوسرے بھی شامل ہوئے ۔ اس پر بے دریغ دولت خرچ کی گئی اور ابھی تک کی جا رہی ہے ۔ ایک ایک لطیفہ بنانے پر لاکھوں ڈالر خرچ کئے گئے ۔ اللہ ہمیں شیطان کے شر سے بچائے

  2. کسی وجہ سے میرا اُردو کا رابطہ اُوپر تبصرہ کے ساتھ شائع نہی ہو سکا جو یہ ہے
    http://www.theajmals.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: