Category Archives: اسلام

وہ جنہیں سرخ روشنائی سے منافق لکھا گیا!


السلام علیکم،

آج کل فورم پر مختلف اختلافی مسائل پر ہونے والی بحث دیکھ کر کچھ پرانے واقعات ذہن میں تازہ ہوگئے۔ یہ 1999ء کی بات ہے، اس وقت میں دسویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ اسکول کے بعد ترجمے کے لئے دیوبندی مسلک کے ایک عالم کے پاس جاتا تھا۔ جبکہ صبح کے ٹائم ایک بریلوی عالم دین سے فقہ پڑھنے کے لئے جاتا، جو کہ والد صاحب کے دوست بھی تھے۔

ایک ساتھ میں دو مختلف آراء والے اساتذہ کی تربیت کا کچھ اثر تو ہونا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر مسائل پر میں کنفیوژن کا شکار ہوگیا۔ اپنی اس الجھن کے حل کی خاطر میں اکثر اپنے اساتذہ سے سوالات پوچھتا تھا۔ یہ سلسلہ اتنا آگے بڑھا، کہ دونوں مکاتب فکر کے درمیان مناظرے کی نوبت آگئی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کا بنیادی سبب میرے سوالات ہی تھے۔

میں اس وقت نتائج سے بے خبر، ان اساتذہ کے درمیان مناظرے کی تیاریوں کو بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔ ان کے آپس کی پیغام رسانی کا کام میرے سپرد تھا۔ معاملہ صرف اس بات پر اٹکا ہوا تھا کہ مناظرے کے دوران اگر کچھ بد امنی کی صورتحال پیدا ہوجائے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ دونوں مکاتب فکر میں سے کوئی بھی یہ ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ میں اور میرا ایک دوست اس صورتحال میں ان اساتذہ اور ان کے مکاتب فکر کے لوگوں کے درمیان عملی طور پر پیغام رسان بن چکے تھے، کیا عجیب پیغام ہوتے تھے۔ یہ علماء کرام ایک دوسرے کو سرخ روشنائی سے منافق لکھنے کے پیغامات ہم سے بھجواتے تھے۔ ایک بار میں نے پوچھا، یہ آپ سرخ روشنائی کیوں کہتے ہیں؟ کہنے لگے، جس طرح اسکول میں استاد سرخ روشنائی سے غلط جواب کے گرد دائرہ کھینچ لیتا ہے، اسی طرح میں نے فلاں کے نام کے گرد منافق ہونے کا دائرہ کھینچا ہے، وہ منافق ہے۔

اس دوران والد صاحب کو اس معاملے کی بھنک پڑگئی۔ انہوں نے سختی سے منع کردیا کہ کسی بھی طرح کے مناظرہ بازی میں حصہ مت لینا، اور میرے درس جانے پر بھی وقتی طور پر پابندی لگادی۔ اس دوران دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کے لوگوں کا بھی آپس میں اتفاق نہیں ہوا، مناظرے کے محفل کی سیکیورٹی پر۔ یوں یہ معاملہ یہیں پر ختم ہوگیا۔

لیکن 3،4 سال کے مشاہدے اور اس مجوزہ مناظرہ کی تیاری کے دوران مشاہدات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ یہ بات صحیح ہے کہ دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کا آپس میں اصولی اختلاف ہے، لیکن معاملات کو جس طرح سے الجھایا جاتا ہے، اس سے عوام دین کی طرف راغب ہونے کی بجائے متنفر ہوجاتے ہیں۔

ابتداء میں مساجد میں درس دینے والے علماء بڑے جوش و خروش سے درس قرآن شروع کرتے ہیں۔ ہمارے لوگوں میں قرآن سیکھنے کا بہت جذبہ ہے۔ وہ ہر سکھانے والے سے سیکھنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے۔ اب یہ عالم دین پر منحصر ہے کہ وہ ان کو کس راستے پر لے کر جاتا ہے۔ عام طور پر کچھ نئے مدرس اس مرحلے پر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے ایک غیر اعلانیہ مناظرہ شروع ہوجاتا ہے۔ مخالف فریق پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگلے روز دوسرے فریق کی جانب سے ان الزامات کا جواب نئے الزامات کی شکل میں آتا ہے۔

رفتہ رفتہ اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور ایک دوسرے پر کفر اور منافقت کے فتوے لگنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس بیچ عوام کی کیا حالت ہوتی ہے، وہ کبھی ایک فریق کی حمایت کرتے ہیں، کبھی دوسرے کی۔ لڑائی ہوتی ہے تو اصل مدعی غائب ہوجاتے ہیں، اور عام لوگ بیچ میں مارے جاتے ہیں۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو اندازِ تخاطب کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ آپ اگر ایک جائز بات بھی غلط انداز میں کریں گے تو کوئی بھی آپ کی بات نہیں مانے گا۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے اختلافی مسائل کے حل کی خاطر مل بیٹھ کر بات کرلیں۔ عوام کی ذہنوں کو الجھانے، ان کو کفر اور نفاق کے فتوؤں کے ذریعے اسلام سے متنفر کرنے کی بجائے ان کو پیار اور محبت سے اسلام کی اصل دعوت سے روشناس کرائیں۔ اس طریقے سے کی جانے والی بات کا اثر زیادہ ہوگا۔

لیکن مجھے پتا ہے ایسا کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ پھر مفتی صاحب کے فتوؤں کی قدر کم ہوجائے گی، پیر صاحب کا آستانہ لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں رہے گا، اور خطیب صاحب کی پرجوش تقاریر پر سردھننے والے شاید دوبارہ ان کی محفل کا رخ نہ کریں۔ اب کوئی پاگل ہی ہوگا جو اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارے گا۔

لیکن یہ ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ آپس میں اتفاق و اتحاد سے علماء کی قدر کم ہوجائے گی۔ اللٰہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں و عسیٰ ان تکرھو شیئا و ھو خیر لکم۔ اس لئے بظاہر اس اتحاد میں نقصان نظر آتا ہے لیکن اگر ہم صدق دل سے ارادہ کرلیں تو اللٰہ ہماری مدد کرے گا۔ اس کام کے لئے کسی بڑے تحریک کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس فورم پر بھی اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرسکتے ہیں کہ اختلافی مسائل پر بات کریں گے لیکن ایک دوسرے پر الزامات اور ذاتیات کے حملے نہیں کریں گے۔ یقین کریں، بڑی تبدیلی آئے گی۔ انشاءاللٰہ

Advertisements

حجاب کے بارے میں میری ایک تحریر


آج بہت دنوں بعد اپنا پرانا بلاگ وزٹ کیا۔ کچھ پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ 2005ء میں، جب میں کراچی میں تھا، اس وقت نیٹ پر چیٹنگ کے دوران ایک امریکی نوجوان سے سوال جواب کے دوران کافی بحث ہوئی۔ بعد میں ہم اکثر آبس میں بات چیت کرتےتھے۔ موضوع اکثر اسلام اور 9/11 کے بعد کے حالات ہی ہوتے تھے۔ اس کا نام سیموئیل تھا۔ بحث کے دوران اکثر ہماری لڑائی بھی ہوجاتی۔ لیکن میں نا تجربہ کار ہونے کے باوجود اس کے سوالات کے جوابات ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کے سامنے پیش کرتا۔ ایک دو سال تک یہ ہماری بات چیت جاری رہی۔ اسکوعربی سیکھنے کا شوق تھا۔ میں خود عربی سیکھ رہا تھا۔ اس کو بھی بتاتا۔ مندرجہ ذیل تحریر اس وقت میں نے سیموئیل سے بحث کے بعد لکھی تھی۔

Hijab is considered a sign of oppression of Muslim women by many non-Muslims. How could be it justified? They say, ‘Islam is taking the choice and freedom away from women.’ While they haven’t studied Islam and its laws, as they should. Or they have some knowledge about Islam, but they have studied Islam from such source that only search defects and short comings in Islam (though they are unable to find it).

To examine the objections about Hijab, we should understand it that Islam is a complete code of life. You are bound to obey a law in full, when you agree to follow it. Islam is a code of life, which have its own values and virtues, which differ from any other religion or culture. Islam is needed to be followed in all its commands. When we talk about the CHOICE, we should know that there is no choice after accepting a law. For example, when you become citizen of a country, or you get a visa of a specific country. You should abide by rules and regulations of that country. You can’t ask them that you want to do this and that, and you don’t want to do this and that. No, you have to follow the rules. Otherwise, they will refuse to give you citizenship or visa. Take the same example about Islam. When we have accepted Islamic laws and rules as they are true and revealed by Allah, then we don’t have any choice, to accept what we like and to reject what is objectionable to the World and its FREE culture. It is a logical justification of almost all Islamic laws.

Now, coming to the main purpose of Hijab, Islam wants to protect women’s modesty and their honour. It is described in the Holy Qur’an, that Muslim women should cover their body, so that they will be identified ( as a Muslim Women) and will not be molested.

Dr. Zakir Naik describes six criteria for Hijab:

1. The first criterion is the extent of the body that should be covered. This is different for men and men. The extent of covering obligatory on the male to cover the body at least from the navel to the knees. For women, the extent of covering obligatory is to cover the complete body except the face and the hands upto the wrist. If they wish to, they can cover even these parts of the body. Some scholars of Islam insist that the face and the hands are part of the obligatory extent of ‘hijab’. All the remaining five criteria are the same for men and women.

2. The clothes worn should be loose and should not reveal the figure.
3. The clothes worn should not be transparent such that one can see through them.
4. The clothes worn should not be so glamorous as to attract the opposite sex.
5. The clothes worn should not resemble that of the opposite sex.
6. The clothes worn should not resemble that of the unbelievers i.e. they should not wear clothes that are specifically identities or symbols of the unbelievers’ religions.

It was a logical justification of Hijab for women in Islam. You can send me your comments if you have some different view.

(26 April, 2005)

فیس بک پر پابندی


سماجی رابطوں کی ویب سائٹس آج کل نوجوان طبقے میں بہت مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ فیس بک، ٹوٹر، یوٹیوب وغیرہ آج کے دور میں ایک پسندیدہ مشغلے کے علاوہ کاروباری طبقے کے لئے بھی کشش رکھتی ہیں، جہاں پر وہ اپنے مصنوعات کی تشہیر کرسکتے ہیں۔ آج کی دنیا پچھلی دہائی کی دنیا سے بہت مختلف ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں، رابطے بڑھ گئے ہیں، انٹرنیٹ کی بدولت مختلف ممالک، نسلوں اور مذاہب کے افراد ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں، معلومات شئیر کرتے ہیں، اور بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں یا سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کی ویب سائٹس پر ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے کسی کے نسل ، زبان، مذہب کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس بات کے لئے ہر سائٹ پر ایڈمنسٹریٹر اور موڈریٹر کام کرتے ہیں، جو کہ ویب سائٹ کی پالیسی کی خلاف ورزی پر ایکشن لے کر استعمال کنندہ پر پابندی بھی لگاسکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں فیس بک پر حضرت محمد صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے لئے مختلف خاکوں کے مقابلے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شمولیت کی آخری تاریخ 20 مئی 2010 تھی۔ فیس بک پر کئی ملین مسلمان رجسٹرڈ ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کے جذبات مجروح ہوئے اور انہوں نے ایسے صفحات کی نشاندہی کی، جو کہ مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، فیس بک کی انتظامیہ نے وہ صفحات حذف کرنے سے انکار کردیا۔
ردعمل میں کچھ مسلم نوجوانوں نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے صفحات فیس بک پر بنائے، جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پابندی لگائی گئی، اور ایسے افراد کا اکاؤنٹ معطل کردیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ درایں اثناء مختلف اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں فیس بک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں فیس بک پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ اور فیس بک انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر معافی مانگے۔ پاکستان نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر فیس بک اور بعد میں یوٹیوب پر پابندی لگادی۔ بعد میں بنگلہ دیش میں بھی اسلامی جماعتوں کے مطالبے پر فیس بک پر پابندی لگادی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فیس بک پر پابندی ایک درست اقدام تھا؟ کیا مسلمانوں کو فیس بک سے ہمیشہ کے لئے ناتا توڑ لینا چاہیئے؟ یا اس عمل سے ہم باقی دنیا سے الگ تھلگ ہوجائیں گے؟ کچھ حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر خاصی تنقید ہوئی اور اس پابندی کو بھی مولوی حضرات اور جماعت اسلامی کے کھاتے میں ایک جرم کے طور پر ڈال دیا گیا۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ہم کسی ویب سائٹ پر پابندی لگا کر اس پر جاری گستاخیوں کو روک نہیں سکتے ، اوردعوت اور مکالمے کا ایک بہتر ین موقع بھی ضائع کردیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی رائے رکھنے والوں کے فیس بک پیجز اس کی الٹ ہی کہانی بیان کررہی ہوتی ہے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ باہمی مکالمہ اور بات چیت ہی ہر مسئلے کا حل ہے، لیکن ایسی صورت حال میں جہاں ہمارے پیارے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جارہی ہو اور ہم مصلحت اور رواداری کےنام پر اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کریں، کسی بھی صورت ایک مسلمان کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوگا۔ ہم وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ایمانی قوت کھو چکے ہیں، اور اس طرح کی گرم جوشی نہیں رہی کہ اسلام کے دفاع کے لئے سینہ سپر ہوکر میدان میں اتر پڑیں۔ لیکن اگر فیس بک کا اکاؤنٹ بند کرنے سے ہم کم از کم اپنی ناپسندیدگی اور غصے کا اظہار کرسکتے ہیں تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیئے۔
فیس بک پر پابندی ہمارے خیال میں ایک درست اقدام تھا۔ کیونکہ فیس بک کی انتظامیہ نے ان گستاخانہ خاکوں کا صفحہ حذف نہ کرکے اپنی غیرجانبداری مشکوک بنادی۔ فیس بک کی انتظامیہ کے اس متعصبانہ فیصلے کے خلاف ہم اپنے فیس بک اکاؤنٹ بند کرکے اپنے حصے کا کام کرسکتے ہیں۔ یہ ایک خاموش پیغام ہوگا کہ مسلمان چاہے کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو، اپنے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضایہی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنا احتجاج پہنچایا جائے، تاکہ اگلی دفعہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوچے۔
اس پورے واقعے میں ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء بات یہ سامنے آئی کہ تعلیم یافتہ طبقہ، جس پر لبرل اور آزاد خیال ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، ان کی طرف سے بھر پور ردعمل سامنے آیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

سلگتے سوالوں کے قرآنی جواب


السلام علیکم و رحمۃ‌اللہ و برکاتہ،
برقی اور طباعتی ذرائع ابلاغ پر بھانت بھانت کی بولیاں سن کر دل بے چین ہوا تو مسائل کو قرآن کریم سے سمجھنے کی کوشش کی۔ سوال اور جواب بغیر کسی تبصرے کے پیش خدمت ہیں۔ یہ کسی اینکر کا پراپیگنڈا یا دانشور کی دانشوری نہیں، اللہ کا کلام ہے اور اس میڈیا سے نشر ہونے والی ہر بات شک و شبہے سے بالا تر ہے۔
سوال: Do More کا سلسلہ کب تھمے گا؟
جواب:
وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ(البقرۃ 120)
"اور یہود و نصارٰی تم سے اس وقت راضی نہ ہوں گے جب تک تم (اسلام چھوڑ کر) ان کے دین پر نہ چلنے لگو، (ان سے کہو) ہدایت تو بے شک اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور اگر تم نے (اللہ کی طرف سے) اپنے پاس علم آ جانے کا بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں کوئی دوست اور مددگار نہ ہو گا”
سوال: کیا یہودی اور صلیبی ہمارے دوست اور خیر خواہ ہیں؟
جواب: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ (آل عمران 11
اے ایمان والو! تم غیروں کو (اپنا) راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری نسبت فتنہ انگیزی میں (کبھی) کمی نہیں کریں گے، وہ تمہیں سخت تکلیف پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں، بغض تو ان کی زبانوں سے خود ظاہر ہو چکا ہے، اور جو (عداوت) ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہے وہ اس سے (بھی) بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں واضح کر دی ہیں اگر تمہیں عقل ہو
سوال: ہمارے حقیقی دوست اور خیرخواہ کون ہیں؟
جواب: إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ (المائدۃ 55)
بیشک تمہارا (مددگار) دوست تو اﷲ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں
سوال: مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ کر کے اتحاد بنانے والے کون ہیں؟
جواب:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (المائدۃ 51)
اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
سوال: یہودی اور صلیبیوں سے دوستی کے لیے کون لوگ بے چین ہوتے ہیں؟
جواب: فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ (المائدۃ 52)
آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق اور ذہنوں میں غلامی کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصارٰی) میں (شامل ہونے کے لئے) دوڑتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی گردش (نہ) آجائے (یعنی ان کے ساتھ ملنے سے شاید ہمیں تحفظ مل جائے)، تو بعید نہیں کہ اﷲ (واقعۃً مسلمانوں کی) فتح لے آئے یا اپنی طرف سے کوئی امر (فتح و کامرانی کا نشان بنا کر بھیج دے) تو یہ لوگ اس (منافقانہ سوچ) پر جسے یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں شرمندہ ہوکر رہ جائیں گے
سوال: صلیبیوں کے جوتے چاٹنے والوں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں سے کون سا گروہ غالب رہے گا؟
وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ (المائدۃ 56)
اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کو دوست بنائے گا تو (وہی اﷲ کی جماعت ہے اور) اللہ کی جماعت (کے لوگ) ہی غالب ہونے والے ہیں
سوال: اللہ کی جماعت کون سی ہے؟
جواب: لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلۃ 22)
آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے
سوال شیطان کی جماعت کون سی ہے؟
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (المجادلۃ 14)
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ (المجادلۃ 19)

کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسی قوم (یعنی یہودیوں) کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا۔ (ایسے منافق) نہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں اور جھوٹی قَسمیں کھاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
اُن پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے سو اُس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے، یہی لوگ شیطان کی جماعت ہیں۔ جان لو کہ بیشک شیطانی جماعت کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں
سوال: دشمنی اور دوستی کا معیار کیا ہو ؟
جواب: قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَاؤُا مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ (الممتحنۃ 4)
بیشک تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور اُن کے ساتھیوں میں بہترین نمونۂ (اقتداء) ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور اُن سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو کلیتہً بیزار (اور لاتعلق) ہیں، ہم نے تم سب کا کھلا انکار کیا ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت و عناد ہمیشہ کے لئے ظاہر ہوچکا، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ،

%d bloggers like this: