Category Archives: افواج پاکستان

پاک سرزمین شاد باد


ہر سال 14  اگست کو شاندار طریقے سے منانے کے لئے گاؤں میں زور و شور سے تیاریاں ہوتی تھیں۔ دکانوں پر پاکستان کے پرچم مختلف ڈیزائنوں میں  قائد اعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر کے ساتھ دستیاب ہوتے تھے۔ بچوں کی دلچسپی کا پورا سامان تھا۔ ہم سب دوست اسکول  کے سامنے والی کتابوں کی دکان پر جا کر پاکستان کے پرچم خرید کر اپنے گھر  میں لگاکر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ۔ کریم چاچا کو 14 اگست کا بہت شدت سے انتظار رہتا تھا۔ اس  دن وہ حجرے کی چھت پر پاکستان کا پرچم لگاتے تھے۔ ہم سب بچے حجرے  میں فوجی انداز میں پریڈ کرتے، تو کریم چاچا  بہت خوش ہوتے۔ جیب سے پانچ روپے کے نئے نئے نوٹ نکال کر ہمیں دیتے، اور کہتے، بیٹا، بڑے ہو کر فوج میں جانا! اپنے ملک کی حفاظت کرنا۔

اس بار بھی  14 اگست کی  تاریخ قریب آرہی تھی۔ ہم سب ساتھیوں نے اس بار 14 اگست کو شایان شان طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔آپریشن کی وجہ سے گاؤں کی گلیاں ویران تھیں۔ ہم چند دوست جو اسکول میں ایک ساتھ پڑھتے تھے، اسکول کی چھٹی ہونے کے بعد اکثر  حجرے میں بیٹھ کر موجودہ حالات پر بحث کرتے۔  سیاست اور حالات حاضرہ میرا پسندید موضوع ہے، جبکہ باقی ساتھیوں کو کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں دلچسپی ہے۔ عام حالات میں کوئی ساتھی سیاست پر بحث نہیں کرتا تھا، لیکن آج کل کے حالات ایسے تھے جو ہر دوست کے لئے پریشانی کا سبب تھے۔ سرحد اور قبائلی علاقوں میں آپریشن اور اس کے ردعمل میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ ہم سب دوستوں کے لئے باعث  تشویش تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات میں فوجی آپریشن  نے تو جیسے ہمارے علاقے کو نظر لگادی تھی۔ پہلے  یہ صورتحال تھی کہ علاقے کی دکانیں اور بازاریں بارونق تھیں۔ ملک کے گوشے گوشے سے   سیاح ہمارے علاقے میں آتے تھے اور اس جنت نظیر وادی کا حسن دیکھ کر مبہوت رہ جاتے۔ اب یہ حالت تھی کہ  بازاروں میں دکانوں پر تالے پڑے تھے۔ اسکول بند تھے۔ ہم  کبھی کبھار اپنے اسکول کے باہر جاکر اکٹھے ہوجاتے، جہاں پر اب پاکستان آرمی کا کیمپ تھا۔

اسکول کے سامنے دکانیں تھیں، جو اب آپریشن کی وجہ سے بند تھیں۔ ہم ان دکانوں کے سامنے بیٹھنا چاہ رہے تھے کہ فوجی جوانوں کی گشت  والی گاڑی ہمارے سامنے آکر رک گئی۔ ایک نوجوان فوجی، جس کی عمر بمشکل 22 برس ہوگی، گاڑی سے نکل کر ہمیں  اشارہ کرکے کہنے لگا، تم لوگ یہاں کیا کررہے ہو؟ گھر جاؤ، ابھی کرفیو لگنے والا ہے۔

حجرہ تو جیسے ویران ہوگیا تھا۔ آپریشن کا اعلان ہوتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ  محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں جیسے ویران ہوگیا تھا۔ معدودے چند افراد تھے، جو کہ اپنے گھروں میں ابھی تک ٹھہرے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے، جو کہ اپنی مٹی سے پیار کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے  سے انکاری تھے۔ حجرہ ، جو کہ ہمارے گاؤں کا معاشرتی مرکز تھا، جہاں پر بڑے  بزرگ بیٹھتے تھے۔ جہاں پر باہر سے آنے والے ہر مہمان کی خاطر تواضع کی جاتی تھی، آج ویران تھا۔

کریم چاچا بھی ان لوگوں میں سے تھے، جنہوں نے اپنا گھر چھوڑ کر جانے سے انکار کردیا تھا۔ گاؤں کے سرکردہ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کو اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ حالات کی نزاکت سمجھانے کی کوشش کی کہ گولی چاہے طالبان کی طرف سے آئے یا فوج کی طرف سے، موت ہر صورت میں یقینی ہے۔ لیکن ان ساری باتوں کا کریم چاچا پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا، یہ گاؤں میرا پہلا اور آخری ٹھکانا ہے، میں اسے چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ آپ لوگ جاؤ، اللٰہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت کرے گا۔

آپریشن شروع ہوا، ہر طرف گولیوں کی آوازیں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کا شور تھا۔ کرفیو نافذ کردیا گیا تھا، کوئی بھی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ ہمارے گھر میں جتنا راشن تھا، وہ بھی ختم ہونےوالا تھا۔ حالات روز بروز خراب ہورہے تھے۔ کبھی کبھار کرفیو میں نرمی کردی جاتی تو ہم لوگ کھانے کا کچھ بندوبست کرنے نکل جاتے۔ اکثر دکانیں یا تو لڑائی کے دوران تباہ ہوچکی تھیں، یا پھر دکاندار خراب حالات کی وجہ سے مردان اور صوابی کے مہاجر کیمپوں میں منتقل ہوچکے تھے۔

ہمارا گاؤں بھی اس لڑائی کی زد میں آیا تھا۔ طالبان کے کچھ لوگ ہمارے علاقے میں مورچہ زن ہوگئے تھے، ان کے تعاقب میں فوج نے یہاں پر بھی فضائی اور زمینی حملہ کیا۔ وہ رات بھی  کیا رات تھی۔ گولیوں اور بمباری کی آواز  سے پورا علاقہ لرز رہا تھا۔ قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔ ہم لوگ ایک ہی کمرے میں دبک کر بیٹھے تھے۔  ایسی لڑائی پہلی بار دیکھ رہا تھا۔  ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ رات کبھی بھی صبح نہیں ہوگی۔ چاند بھی اس رات کو نہیں نکلا تھا۔ گھپ اندھیرے میں جب فوجی طیارے کسی ٹارگٹ پر بم گراتے تو  چند سیکنڈ کے لئے جیسے پورا علاقہ روشنی میں نہا جاتا۔

اگلے روز دوپہر کے وقت کرفیو میں کچھ نرمی کی گئی۔ میں گھر سے چھپ کر اپنے دوستوں کے ساتھ بازار گیا۔ عجیب منظر تھا۔ کتابوں کی وہ دکان، جہاں سے ہم اسکول کی کتابیں، اور پاکستان کی جشن آزادی  کے لئے پرچم خریدتے تھے، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ آس پاس کی بہت ساری دکانیں بھی اس تباہی کی زد میں آئی تھیں۔ یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کارروائی فوج کی تھی یا طالبان کی، لیکن  بازار کا بہت سارا حصہ اس کارروائی کی نذر ہوچکا تھا۔ بازار سے واپسی پر حجرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے خیال آیا کہ اندر جا کر دیکھتا ہوں، ہوسکتا ہے کریم چاچا بیٹھے ہوں، جا کر دیکھا، لیکن کوئی بھی نظر نہیں آیا۔ خالی چارپائی اوراس کے سامنے پڑا حقہ حالات کی سنگینی بیان کررہا تھا۔

شام کے وقت پھر کرفیو نافذ کردی گئی ۔ اگر چہ آج کچھ خاموشی تھی، لیکن ایسی خاموشی  جو کسی طوفان کے آنے سے پہلے ہوتی ہے۔ یہ خبریں آئی تھیں کہ طالبان کے اکثر لوگ مارے گئے ہیں، اور اب فوج یہاں  پر مزید کارروائی نہیں کرے گی۔ لیکن ہر شخص  ناامیدی کی کیفیت میں تھا۔ حالات کا کچھ بھروسہ نہیں تھا، کب فائرنگ اور بمباری  شروع ہوجائے۔

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ رات کے  پچھلے پہر  فائرنگ کی آواز سے میری آنکھ کھلی۔ فائرنگ کی آوازیں بہت قریب سے آرہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی بھاری ہتھیاروں کا استعمال بھی ہورہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی میدان جنگ میں بیٹھے ہوں۔ کچھ دیر کے لئے فائرنگ کی آوازیں رک جاتیں، لیکن پھر سے دوبارہ فائرنگ شروع ہوجاتی۔ تھوڑی دیر بعد فضا میں طیاروں کی آوازیں بھی آنے لگیں۔ گاؤں پر بمباری کا خطرہ تھا۔ ہم سب فکرمند ہوکر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ امی مجھے تسلی دینے لگی، کچھ نہیں ہوگا۔  لیکن مجھے یقین نہیں ہورہا تھا۔

فوجی طیاروں نے کچھ دیر بعد بمباری شروع کردی۔ بمباری سے درودیوار لرزنے لگے۔ ایسا لگ رہا تھا، قیامت آگئی ہے۔ چاروں طرف گولیوں اور بمباری کا شور تھا۔ گاؤں والوں پر کیا گزر رہی تھی، کون ان گولیوں اور بمباری کا نشانہ بن رہا تھا، کچھ پتا نہیں تھا۔ ہم سب دل ہی دل میں دعائیں کررہے تھے، کہ اللٰہ میاں سب گاؤں والوں کی حفاظت فرما۔ وہ رات اسی طرح آنکھوں میں کٹ گئی۔ صبح کے وقت کہیں جا کر میری آنکھ لگ گئی، جب بمباری اور فائرنگ بند ہوگئی۔

نیند سے اٹھنے کے بعد پتا چلا کہ کل رات کی بمباری میں کریم چاچا کا  گھر اور حجرہ تباہ ہوگیا ہے۔ گھر کا کچھ حصہ بچ گیا تھا، لیکن ان کے گھر کے کچھ لوگ اس بمباری کا نشانہ بن چکے تھے، کچھ شہید ہوچکے تھے اور کچھ زخمی، جن کو ہسپتال لے جایا گیا۔ کریم چاچا البتہ اس بمباری  میں محفوظ رہے تھے۔ وہ اپنے زخمی بیٹوں کو لے کر ہسپتال پہنچ گئے تھے، گاؤں کے لوگوں نے بھی ان کی مدد کی۔ جبکہ شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ کرفیو کی پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا تھا۔

14 اگست قریب آرہا تھا، اور کریم چاچا ابھی تک ہسپتال سے  نہیں لوٹے تھے۔ ہر سال وہ 14 اگست کا دن  حجرے میں ہی مناتے۔ اس سال تو حجرہ ہی نہیں رہا تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ میرا دوست سلیم کہتا تھا، کہ اب کریم چاچا کبھی بھی  14 اگست کا دن نہیں منائیں گے، کیونکہ ان کا گھر اور حجرہ  فوج کی بمباری سے تباہ  ہوچکا ہے۔ کبھی باہر جانا ہوتا تو راستے سے گزرتے ہوئے حجرے  کی طرف نگاہیں اٹھ جاتیں۔ ملبہ ابھی تک وہیں کا وہیں پڑا ہوا تھا۔

14 اگست تک لڑائی میں کمی آچکی تھی۔ ہمارے علاقے میں کرفیو ختم کردیا گیا تھا۔ بازاریں کھل گئی تھیں۔ اور جو لوگ اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے، وہ بھی آہستہ آہستہ واپس آرہے تھے۔ البتہ اسکول نہیں کھلے تھے، کیونکہ فوج ابھی تک علاقے میں موجود تھی، اور ہمارا اسکول فوج کے استعمال میں تھا۔

یوم آزادی کے موقع پر دل بہت اداس تھا۔میرے اکثر دوست اپنے گھروالوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر جاچکے تھے۔ ہم 14 اگست کو حجرے میں فوجیوں کے انداز میں جو پریڈ کرتے تھے، وہ بھی اس سال ناممکن سا لگ رہا تھا۔ ایک تو حجرہ بمباری سے تباہ ہوچکا تھا، اور کریم چاچا کا بھی پتا نہیں تھا کہ وہ ہمیں پریڈ کرنے دیتے یا نہیں۔ پانچ روپے کا نوٹ دیتے یا نہیں۔

عجیب سی بے چینی ہورہی تھی۔ دل بے اختیا ر حجرے کی طرف جانے پر مجبور کررہا تھا۔ حالانکہ مجھے پتا تھا کہ وہاں اب ملبے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر گھر سے نکلا۔ تھوڑا آگے گیا تو کچھ بچوں کے گنگنانے کی آواز  کانوں میں پڑی۔  میں اسے وہم سمجھ رہا تھا۔ ہر 14 اگست کو ہم قومی ترانہ اسکول کی طرح گاتے۔ کریم چاچا قومی ترانہ سن کر بہت خوش ہوتے۔ ان کا چہرہ کھل اٹھتا تھا۔ شاید اسی انداز میں کوئی قومی ترانہ گا رہا تھا۔ میرے قدموں کی رفتار تیز ہوگئی۔۔۔۔۔۔ کون ہے جو ان حالات میں بھی پاکستان کا ترانہ گارہا ہے؟ حجرہ قریب آرہا تھا۔ گلی کے اگلے موڑ سے آگے کبھی حجرہ ہوا کرتا تھا، اب تو ملبے کا ڈھیر تھا۔۔۔۔۔میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ ترانے کی آواز بھی قریب آرہی تھی۔

حجرے کے سامنے پہنچ کر جو  منظر دیکھ، مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ ترانہ گانے والے میرے اپنے دوست تھے، حجرے کے ملبے پر بانس کی لکڑی پر پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا،  کریم چاچا پرچم کے سامنے سلیوٹ کے انداز میں اپنا ہاتھ  پیشانی پر رکھے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آنسو ان کی آنکھوں سے نکل کر ان کے چہرے پر بہتے ہوئے ان کی داڑھی کو تر کر رہے تھے۔ میرے دوست ابھی تک ترانہ گا  رہے تھے۔۔۔۔

پاک سرزمین شاد باد

کشور حسین شاد باد

%d bloggers like this: