Category Archives: خبریں اور تجزیے

تحریک انصاف کا جلسہ – کچھ تاثرات


2004ء میں جب پہلی بار کراچی گیا تھا، تو وہاں کی دیواروں پر ‘جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے’ لکھا ہوا دیکھ کر کراچی والوں کی قائد اعظم سے محبت پر رشک آیا۔ سوچا، یہ لوگ تو واقعی قائداعظم سے محبت کرتے ہیں۔ وہ تو بعد میں معلوم پڑا کہ وہ قائد تو آؤٹ ڈیٹڈ ہوگئے ہیں، اب یہ نئے قائد کی باتیں اور ان کا دور ہے۔

ایم کیو ایم کراچی کی ایک بڑی جماعت ہے، اور پاکستان کی سیاست میں اس کا اہم حصہ ہے۔ مثبت یا منفی طرز عمل، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن ان کے سیاسی وزن سے انکار ممکن نہیں۔ ہم لوگ ان کی پالیسیوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ صرف اس لئے کہ وہ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے لوگوں پر اپنی رائے ٹھونستے ہیں۔ اپنے لیڈر کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہیں، اور جو غلطی سے بولے، اس کے لئے کراچی کی دیواریں صحیح معنوں میں‌ نوشتہ دیوار ہیں۔

سیاست میں تشدد کا وسیع پیمانے پر استعمال ایم کیو ایم سے شروع ہوا۔ عدم برداشت اور سیاسی قتل ان کے دور میں فروغ پائے۔ اس سے پہلے اگر چہ پاکستان کی سیاست میں یہ حربے استعمال ہوتے تھے لیکن ایک محدود اور مستثنٰی صورتحال میں۔

اگر ایم کیو ایم مندرجہ بالا خصوصیات کی بناء پر ہم لوگوں کی نفرت کا نشانہ بنتی ہے، تو آخر ایسی کیا وجہ ہوگی کہ یہی طرز عمل اگر دوسری پارٹی اختیار کرے تو لوگ صرف انقلاب کی امید میں اس کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرلے؟ مانا کہ مینار پاکستان کے سامنے لاکھوں لوگوں کا اجتماع عوامی مقبولیت کی نشانی ہے، لیکن اگر صرف لوگوں کی حمایت اور چند لاکھ کا اجتماع ہی کسی کے صحیح ہونے کی دلیل ہے تو پھر ایم کیو ایم کے جلسوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جماعت اسلامی بارہا مینار پاکستان کے سامنے لاکھوں کا اجتماع کرچکی ہے۔ مانا کہ عمران خان کے بیانات پاکستان کے لوگوں کے دل کی آواز ہیں، تبھی تو لوگوں کی اکثریت سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ان کے جلسے میں شریک ہوئی۔ لیکن ایک کامیاب جلسے کی بنیاد پر انقلاب کے خواب صرف ایک دیوانہ ہی دیکھ سکتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جو حربے پرانی سیاسی جماعتیں پہلے استعمال کرتی تھیں، تحریک انصاف انہی حربوں کے ذریعے انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف میں بھی موقع پرست سیاستدان ہوا کا رخ دیکھ کر شامل ہورہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافے کی توقع بھی کی جارہی ہے، لیکن اگر انقلاب صرف حکومت کی تبدیلی کا نام ہے تو ایسے انقلاب سے کچھ زیادہ توقعات رکھنا بعد میں مایوسی کا سبب بنتا ہے۔

تحریک انصاف کے جلسے کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان کے بارے میں جو کچھ میڈیا میں سامنے آرہا ہے، اللٰہ جانے کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے، لیکن اگر یہ واقعی سچ ہے تو پھر پاکستان کو ایک نئے ایم کیو ایم کے لئے تیار ہونا چاہیئے، جہاں انقلاب کے مخالفین کو اپنا نوشتہ دیوار پڑھنے کے لئے کراچی جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

Advertisements

پاکستانی ٹیم کی شکست اور میڈیا کا طرز عمل


پاکستان انگلینڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کھیل رہا ہے۔ ٹوئنٹی 20 میں جس طرح پاکستان کو فتح ملی، اس سے پاکستانیوں کو جہاں تفریح کا سامان مہیا ہوا، وہیں ٹیم کے اعتماد میں‌ بھی اضافہ ہوا۔ شاہد آفریدی جس طرح ٹیم کی رہنمائی کررہے تھے، اور خود بھی بہتر کھیلنے کی کوشش کررہے تھے، اس سے پاکستان کی ٹیم کافی بہتر ہوگئی تھی۔

اس کے برعکس، ٹیسٹ ٹیم کی حیثیت سے پاکستان کی ٹیم اتنی اچھی نہیں، کیونکہ اکثر پرانے اور تجربہ کار ٹیسٹ کھلاڑی ٹیم سے باہر ہیں۔ شاہد آفریدی نے خود بھی کئی سال سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔ اس لئے ان کو بطور ٹیسٹ کپتان مقرر کرنا بہت لوگوں کی نظروں میں غلط تھا۔ لیکن پھر بھی پاکستانیوں کے دل میں ایک امید تھی کہ پاکستان میچ جیت سکتا ہے۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں جس طرح پاکستان کو شکست ہوئی، اس سے آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف لگاتار 13 میچ جیتنے کا ریکارڈ قائم کرلیا۔ سلمان بٹ کے علاوہ باقی کھلاڑیوں کا کھیلنے کا انداز ٹیسٹ کرکٹ والا بالکل نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ٹوئنٹی 20 کا میچ ہورہا ہے۔ خاص کر آفریدی اور عمر اکمل کے اسٹائل سے تو یہی لگ رہا تھا۔

ہار جیت ہر کھیل کا حصہ ہے۔ ہم پاکستانی اگر چہ اس معاملے میں کچھ زیادہ جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ ہم ہرجیت پر خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں اور ہر ہار پر ٹیم کو کوستے ہیں، ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ یہ جذباتیت ہمارے معاشرے کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ ہمارا طرزِ عمل ہر معاملے میں ایسا ہے۔ چاہے کھیل کا میدان ہو یا سیاست کا اکھاڑہ، جذباتی نعرے ہی ہم پر حاوی ہوتے ہیں۔

اس جذباتی طرز عمل کی تازہ مثال شاہد آفریدی کا آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان ہے۔ ایسے نازک موقع پر یہ اعلان اگرچہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے لیکن جس طرح ہمارا میڈیا اس واقعے کو پیش کررہا ہے، وہ کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔ جیو ٹی وی کے نیوز اینکرز بار بار مختلف ماہرین اور نمائندوں سے یہ بات کہلوانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ٹیم میں اختلافات ہیں اور آپس میں کچھ جھگڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے آفریدی مایوس ہو کر ریٹائرمنٹ کا اعلان کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی نے بھی ان اینکرز کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی، لیکن شاید ان کو یہی میسج تھا کہ کسی بھی طرح کسی نمائندے یا کسی تجزیہ نگار سے یہ بات کہلوانی ہے کہ ٹیم میں اختلافات ہیں۔

اس طرح کی رپورٹنگ سے پاکستان اور کرکٹ ٹیم کو نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ بریکنگ نیوز کی خاطر غلط رپورٹنگ کرنا کسی بھی صورت صحافت کی خدمت نہیں۔ میڈیا کے ذمہ داران کو سوچنا چاہیئے کہ ہمارا میڈیا، جو پہلے ہی کافی متنازعہ ہے، اس طرح کے طرز عمل سے مزید متنازعہ ہوجائے گا۔

داتا دربار پر حملہ


داتا دربار لاہور کی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں‌ پر دن رات زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔ نذر و نیاز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر طبقے کے لوگ وہاں آتے ہیں۔ داتا دربار بریلوی مکتبہ فکر کے لئے ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے بعض مبصرین داتا دربار پر حملے کو فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا ایک حربہ سمجھتے ہیں۔

کل رات کو داتا دربار پر خودکش حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ خبر سن کر پیروں تلے جیسے زمین نکل گئی۔ شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی کی دعا کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے وطن پاکستان کی سلامتی کی دعا بھی لبوں پر تھی۔ مختلف مکاتب فکر کا اختلاف اپنی جگہ، لیکن سید علی ہجویری رحمۃ اللٰہ علیہ سارے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ اس خطے میں اسلام کی اشاعت میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ان کے مزار کو اس طرح نشانہ بنانا ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں خودکش حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔ ہر حملے کے بعد رٹا ہوا ایک بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، کہ حملہ آوروں کے سر مل گئے ہیں۔ تفتیش شروع کی گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ بعد میں یہ تفتیش بھی فائلوں کا پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے لاہور کو جس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، اس کے پیچھے بہت سارے عوامل اور بڑی طاقتوں کا مفاد ہے۔

کچھ عرصے سے میڈیا پر تواتر کے ساتھ یہ خبریں پھیلائی جارہی ہیں، کہ جنوبی پنجاب طالبان کا مرکز بن چکا ہے۔ آپریشن کے خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔ اگر چہ یہ خبریں بھی وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کی سیاسی چپقلش میں دب کر رہ جاتی ہیں، لیکن وقفے وقفے سے خودکش حملے اس ایشو کو دوبارہ میڈیا میں زندہ کردیتے ہیں۔

موجودہ حملے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتی ہے۔ شاید پنجاب کی حکومت کو اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں آپریشن شروع کرے۔ اس کے بہت دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ پہلے ہی آپریشنز کے ردعمل کی آگ میں جل رہا ہے، اب پنجاب کو بھی اس آگ میں دھکیلنے کی تیاریاں ہیں۔ جنوبی پنجاب میں آپریشن سے ملک کو کچھ فائدہ ہو نہ ہو، پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لئے ایک اور ثبوت ضرور ہوگا۔ بدامنی پہلے ہی سارے ملک کی معیشت کو تباہ کررہی ہے۔ اب نئے آپریشن کے لئے ایسے حالات پیدا کرنا پاکستان کی کمر توڑ دینے کے مترادف ہوگا۔

حملہ آور چاہے طالبان ہوں یا بلیک واٹر کے لوگ (ایک عام تاثر ہے)، حملے کے لئے جس مقام کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ بہت ساری باتیں صاف کردیتا ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر کو طالبان کا مخالف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ طالبان کی اکثریت کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے۔ اس لئے داتا دربار پر حملہ کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دیوبندی طالبان داتا دربار پر ہونے والے محافل کو روکنے کے لئے حملہ کررہے ہیں۔ اس طرح ملک کے دو بڑے مکاتب فکر کے لوگوں کو آپس میں لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ ان دونوں مکاتبِ فکر کے اکابرین پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو اپنی پرانی رنجشوں اور اختلافات کی بھڑکتی ہوئی آگ میں تیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں، یا پھر اس موقع کو آپس میں اتحاد اور یگانگت کے لئے استعمال کرتےہیں۔ یہ ان دونوں مکاتب فکر کے رہنماؤں کی بصیرت کا امتحان ہے۔

فیس بک پر پابندی


سماجی رابطوں کی ویب سائٹس آج کل نوجوان طبقے میں بہت مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ فیس بک، ٹوٹر، یوٹیوب وغیرہ آج کے دور میں ایک پسندیدہ مشغلے کے علاوہ کاروباری طبقے کے لئے بھی کشش رکھتی ہیں، جہاں پر وہ اپنے مصنوعات کی تشہیر کرسکتے ہیں۔ آج کی دنیا پچھلی دہائی کی دنیا سے بہت مختلف ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں، رابطے بڑھ گئے ہیں، انٹرنیٹ کی بدولت مختلف ممالک، نسلوں اور مذاہب کے افراد ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں، معلومات شئیر کرتے ہیں، اور بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں یا سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کی ویب سائٹس پر ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے کسی کے نسل ، زبان، مذہب کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس بات کے لئے ہر سائٹ پر ایڈمنسٹریٹر اور موڈریٹر کام کرتے ہیں، جو کہ ویب سائٹ کی پالیسی کی خلاف ورزی پر ایکشن لے کر استعمال کنندہ پر پابندی بھی لگاسکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں فیس بک پر حضرت محمد صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے لئے مختلف خاکوں کے مقابلے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شمولیت کی آخری تاریخ 20 مئی 2010 تھی۔ فیس بک پر کئی ملین مسلمان رجسٹرڈ ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کے جذبات مجروح ہوئے اور انہوں نے ایسے صفحات کی نشاندہی کی، جو کہ مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، فیس بک کی انتظامیہ نے وہ صفحات حذف کرنے سے انکار کردیا۔
ردعمل میں کچھ مسلم نوجوانوں نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے صفحات فیس بک پر بنائے، جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پابندی لگائی گئی، اور ایسے افراد کا اکاؤنٹ معطل کردیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ درایں اثناء مختلف اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں فیس بک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں فیس بک پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ اور فیس بک انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر معافی مانگے۔ پاکستان نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر فیس بک اور بعد میں یوٹیوب پر پابندی لگادی۔ بعد میں بنگلہ دیش میں بھی اسلامی جماعتوں کے مطالبے پر فیس بک پر پابندی لگادی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فیس بک پر پابندی ایک درست اقدام تھا؟ کیا مسلمانوں کو فیس بک سے ہمیشہ کے لئے ناتا توڑ لینا چاہیئے؟ یا اس عمل سے ہم باقی دنیا سے الگ تھلگ ہوجائیں گے؟ کچھ حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر خاصی تنقید ہوئی اور اس پابندی کو بھی مولوی حضرات اور جماعت اسلامی کے کھاتے میں ایک جرم کے طور پر ڈال دیا گیا۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ہم کسی ویب سائٹ پر پابندی لگا کر اس پر جاری گستاخیوں کو روک نہیں سکتے ، اوردعوت اور مکالمے کا ایک بہتر ین موقع بھی ضائع کردیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی رائے رکھنے والوں کے فیس بک پیجز اس کی الٹ ہی کہانی بیان کررہی ہوتی ہے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ باہمی مکالمہ اور بات چیت ہی ہر مسئلے کا حل ہے، لیکن ایسی صورت حال میں جہاں ہمارے پیارے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جارہی ہو اور ہم مصلحت اور رواداری کےنام پر اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کریں، کسی بھی صورت ایک مسلمان کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوگا۔ ہم وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ایمانی قوت کھو چکے ہیں، اور اس طرح کی گرم جوشی نہیں رہی کہ اسلام کے دفاع کے لئے سینہ سپر ہوکر میدان میں اتر پڑیں۔ لیکن اگر فیس بک کا اکاؤنٹ بند کرنے سے ہم کم از کم اپنی ناپسندیدگی اور غصے کا اظہار کرسکتے ہیں تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیئے۔
فیس بک پر پابندی ہمارے خیال میں ایک درست اقدام تھا۔ کیونکہ فیس بک کی انتظامیہ نے ان گستاخانہ خاکوں کا صفحہ حذف نہ کرکے اپنی غیرجانبداری مشکوک بنادی۔ فیس بک کی انتظامیہ کے اس متعصبانہ فیصلے کے خلاف ہم اپنے فیس بک اکاؤنٹ بند کرکے اپنے حصے کا کام کرسکتے ہیں۔ یہ ایک خاموش پیغام ہوگا کہ مسلمان چاہے کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہو، اپنے نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضایہی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنا احتجاج پہنچایا جائے، تاکہ اگلی دفعہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوچے۔
اس پورے واقعے میں ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء بات یہ سامنے آئی کہ تعلیم یافتہ طبقہ، جس پر لبرل اور آزاد خیال ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، ان کی طرف سے بھر پور ردعمل سامنے آیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

مقتول یقیناً مجرم تھا، کیوں سچائی سے پیار کیا؟


20 مارچ 2003ء کا دن بھی عجیب دن تھا۔ اس روز عراق پر دنیا کی نام نہاد سپر پاور نے اپنی پوری قوت کے ساتھ باقاعدہ حملہ کردیا تھا۔ اس حملے کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگوں نے مذہب، رنگ ونسل اور تعصبات کی پرواہ کئے بغیر احتجاج کیا۔ لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کے لوگوں کو ”آزاد“ کرنے کا تہیہ کرلیا تھا۔ یہ آزادی تھی، زندگی سے آزادی! اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

اس بازوئے قاتل کو چومو، کس شان سے کاری وار کیا
مقتول یقیناً مجرم تھا، کیوں سچائی سے پیار کیا

عراق پر حملے کے لئے جو گھسے پھٹے جواز پیش کئے گئے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ ان کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ سب سے بڑا الزام تو یہی تھا کہ عراق کے پاس Weapons of Mass Destruction ہیں۔ آج تک دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ عراق سے ایسے ہتھیار ملیں جن کی موجودگی کا دعویٰ جارح اتحادی افواج نے کیا تھا۔ سنا تھا جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، لیکن کم از کم عراق کے معاملے میں جھوٹ ابھی تک چل رہا ہے۔ جس جھوٹ کی بنیاد پر جارج بش اور اس کے اتحادیوں نے الزامات کی عمارت قائم کی تھی، وہ آج تک قائم ہے۔ آج ایسا کوئی بھی نہیں ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے پوچھ سکے کہ کس اخلاقی بنیاد پر تم لوگوں نے عراق پر حملہ کیا تھا؟

عراق پر حملہ کرنے کے وقت عراقی عوام کو جمہوریت کا تحفہ دینے کی خوشخبری دی گئی تھی۔ ان کو صدام حسین کے مظالم سے آزادی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ لڑنے والے بھلا اپنے وعدوں کا پاس کیا رکھیں گے۔ انہوں نے تو عراق کی عوام کو خانہ جنگی کا سوغات پیش کیا۔ اتنے لوگ صدام اپنی طویل دور حکومت میں بھی نہیں مار سکا جتنے جمہوریت پسند اتحادی افواج اور ان کے مقامی کارندوں نے مارے ہیں۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہہ رہے کہ صدام کے مظالم جائز تھے۔ وہ بھی اپنی جگہ قابل مذمت ہیں۔ لیکن ظلم کو ظلم سے ختم کرنا کونسا عقل مندوں والا کام ہے؟

صدام حکومت کو ختم کرنے کے لئے امریکی افواج نے طاقت کے ساتھ ساتھ Divide and Rule والی پالیسی کا استعمال بھی کیا۔ سنی اور شیعہ آبادی کو آپس میں لڑوا کر اپنے مفادات بہت آسانی سے حاصل کئے ہیں۔ اسی طرح کی حکمت عملی کا استعمال افغانستان میں بھی کیا گیا تھا، جب احمد شاہ مسعود کی شمالی اتحاد کو طالبان کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ عراق میں آئے روز سنی اور شیعہ اجتماعات پر حملے بھی اس کشیدگی کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بدنام زمانہ بلیک واٹر ایجنسی کی ”خدمات“ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

عراق پر حملے سے پہلے پاکستان میں بھی متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ یہاں پر اس بات کا بھی اشارہ تھا کہ پاکستانی عوام ایشوز کی سیاست پر زیادہ توجہ دیتی ہے، لیکن اس پیغام کو شائد متحدہ مجلس عمل کے رہنما سمجھ نہ سکے۔ اور ان کے آپس کے اختلافات ان کو قومی منظرنامے سے ہٹا کر لے گئے۔

پاکستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں جنگ مخالف مظاہرے اس بات کی نشاندہی تھی کہ ابھی بھی لوگوں کے اندر انسانیت کا جذبہ موجود ہے۔ یہ بات واقعی سوچنے کے قابل ہے کہ امریکہ کے اندر بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جنگ کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی۔ اس لئے ہمیں ہر غیر مسلم کو اپنا دشمن تصور کرنے کی بجائے ان تک اسلام کی آفاقی دعوت پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ ہم اگر اپنی آواز ان لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں تو یقیناً حالات میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔

پاکستان بھی آج کل کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار ہے۔ ایک طرف پاکستانی طالبان کے روپ میں بھارت کے ایجنٹ آئے روز معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ سرکار کی طرف سے Do More کا مطالبہ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت اور سیاسی رہنماؤں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپس کے اختلافات اپنی جگہ لیکن ملک کی سالمیت کے معاملے پر اتفاق رائے وقت کی ضرورت ہے۔ کراچی میں عاشورہ کے جلوس پر حملہ اور ابھی علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کسی سازش سے خالی نہیں۔ ہم جتنا آپس میں لڑیں گے، اتنا دشمن کے آگے کمزور ہوں گے۔


مینگورہ خودکش حملہ، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 13ہوگئی


سوات …ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر خود کش حملہ میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت13فراد جاں بحق اور متعددزخمی ہوگئے۔ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر ہونیوالے دھماکے کے بارے میں ڈی پی او سوات کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور رکشے میں سوار تھا،جس نے پیدل فوج اور پولیس کی چیک پوسٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کر دی۔ انہوں نے کہا کہ سخت سکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکا۔ ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کی ٹانگیں مل گئی ہیں۔ حملہ میں14کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ میں تین پولیس اہلکاروں،ایک سکیورٹی اہلکار سمیت13افراد جاں بحق ہوگئے۔دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا،دھماکے کے بعد متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور5گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ زخمیوں اور لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سیدو شریف پہنچادیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد علاقے کے تمام بازار اور دکانیں بند کر دی گئیں۔ دوسری جانب ایم ایس سیدو شریف اسپتال ڈاکٹر لال نور کا کہنا کہ پولیس اہلکار اور سویلین کی لاشیں لائی گئی ہیں،دھماکے میں شدید زخمی ہونیوالوں کو پشاورمنتقل کردیاگیا ہے۔ پچھلے ماہ22فروری کو مینگورہ شہر کے وسط میں فوجی قافلے پر خود کشحملہ کیا گیا تھا جس میں بھی 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

روزنامہ جنگ

لاہور و کراچی میں دہشتگردی،جماعت اسلامی کا سوگ اور احتجاج کا اعلان


لاہور…جماعت اسلامی نے لاہوراور کراچی میں ہونیوالے افسوسناک واقعات پر یوم سوگ اور احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔جماعت اسلامی کے امیر منورحسن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں ہونیوالے دھماکوں اور کراچی میں علمائے کرام کے بہیمانہ قتل پر پوری قوم سوگوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے پاکستانی قوم کے عزم کو توڑنے کی سازش ہے لیکن عوام اپنے اتحاد سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو آج ملک بھر میں ان واقعات کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کی ہدایت کی۔