Category Archives: میری ڈائری

80 روپے کی چائے


پشاور ائیرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے مسافر بار بار کھڑکی سے باہر رن وے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ائیربلو کی پرواز حسبِ معمول تاخیر سے جارہی تھی۔ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، کچھ اخبار سے وقت گزاری کی کوشش میں مصروف تھے۔

کہتے ہیں انتظار سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ میں بھی باقی لوگوں کی طرح کھڑکی سے باہر جھانک جھانک کر اکتا چکا تھا۔ لاؤنج کے وسط میں ایک چھوٹا سا کیفیٹیریا ہے، جہاں پر چائے، بسکٹ وغیرہ دستیاب ہوتے ہیں۔ سوچا، پرواز میں ابھی وقت ہے، چائے کی طلب ہورہی تھی، اس لئے کاؤنٹر پر جا کر چائے کا آرڈر دیا۔

چائے کے ساتھ ایک کریم رول تھا، جو کہ بھوک کو کچھ وقت تک قابو کرنے کے لئے کافی تھا۔ پیسے دے کر بقایا لیا تو معلوم ہوا کہ چائے کا ایک کپ 80 روپے کا ہے، اسی طرح کریم رول بھی 80 روپے کا۔ بہت عجیب لگا کہ اتنے زیادہ نرخ کس بنیاد پر وصول کررہے ہیں۔

میں نے سوچا اتنی مہنگی چائے بھلا کون پئے گا۔ جس ملک میں آدھی سے زیادہ آبادی غریب ہو، بے روزگاری ہو، وہاں پر ایسی شاہ خرچی بھلا کون کرے گا۔ لیکن آس پاس نظر دوڑائی تو ہر طرف چائے کے کپ میرا منہ چڑا رہے تھے۔

میں نے بھی ایک قوم کا غم ایک طرف رکھا، اور چائے پی کر جہاز کی طرف روانہ ہوگیا۔

(میری یہ تحریر 4 جون 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

Advertisements

لاہور سے وابستہ چند یادیں – آخری حصہ


لاہور میں کچھ ہفتے نوکری کی تلاش میں گزارنے کے بعد بھی جب کچھ بات نہ بنی تو گھٹن سی ہونے لگی۔ حالانکہ لاہور زندہ دل لوگوں کی جگہ ہے، لیکن میری افتادِ طبع کی وجہ سے میں ایسے ماحول میں آسانی سے ایڈجسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کچھ دنوں بعد کراچی جانے کا ارادہ کرلیا اور جون 2004ء کے اواخر میں کراچی روانہ ہوگیا۔

اس سے پہلے بھی کراچی جا چکا تھا۔ لیکن پشاور سے کراچی بذریعہ بس سفر کیا تھا۔ پشاور سے کراچی تک کا راستہ بس کے ذریعے 22 گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ لاہور نسبتاً کراچی کے زیادہ قریب ہوگا۔ اس لئے اس حساب سے کرایہ بھی کم ہوگا۔

یہی سوچ کر میں لاری اڈہ پہنچا، جو کہ مینار پاکستان کے قریب تھا۔ شام کا وقت ہورہا تھا۔ میں اپنے جس کزن کے پاس لاہور میں ٹھہرا تھا، انہوں نے کچھ پیسے دیئے لیکن میں نے یہ سوچ کر، کہ اتنا کرایہ نہیں ہوگا، واپس کردیئے۔ اگرچہ اس نے زبردستی کچھ رقم دے دی، لیکن مجھے حیرت تھی، کہ میرے پاس کافی رقم (700 روپے) موجود ہے، پھر بھی یہ پیسے دے رہے ہیں کہ ضرورت پڑے گی۔ خیر، لاری اڈہ پہنچ کر کراچی جانے والی بس ڈھونڈنے لگا۔ ایک جگہ ایک بس کھڑی نظر آگئی جس پر کراچی کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس سے پوچھا، کراچی کا ٹکٹ کتنے روپے کا ہے؟ اس نے کہا، 660 روپے کا ہے۔

یہ سن کر میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میں نے کہا، بھائی، اتنا زیادہ؟ بولا، 660 سے کم میں نہیں ملے گا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں کسی اور بس میں چلا جاتا ہوں۔ یہ سن کر اس بندے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ مجھے تھوڑی حیرت ہوئی، لیکن اس کو نظرانداز کرکے وہاں سے نکل پڑا۔ پورا لاری اڈہ چھان مارا لیکن کہیں سے بھی کراچی کی دوسری بس نہ مل سکی۔ تھکا ہارا واپس اسی جگہ پہنچا تو دیکھا، اب اسی جگہ پر صادق آباد جانے والی بس کھڑی ہے۔

اب کی بار اس سے پوچھا، بھائی یہاں پر کراچی جانے والی بس تھی۔ کہنے لگا، وہ تو چلی گئی، لیکن اگر تمہیں کراچی جانا ہے تو یہ بس صادق آباد کے بعد کراچی جائے گی۔ ٹکٹ وہی 660 روپے ہوگا۔ میں مجبوراً راضی ہوگیا۔ اور پیسے دے کر ٹکٹ لی اور بس میں بیٹھ گیا۔ رات کے تقریباً بارہ بجے لاہور سے نکلے۔ راستے میں بہت سارے علاقے اور شہر آئے، جو کہ اب یاد نہیں۔ البتہ صبح کی نماز کے وقت بہاولپور پہنچے۔

جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں میرے پاس 700 روپے تھے جو کہ کرایہ ادا کرنے کے بعد 40 روپے رہ گئے تھے، اس لئے ناشتہ ہلکا پھلکا سا کیا۔ تھوڑی دیر بعد بس وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بہاولپور سے آگے سڑک خراب تھی، لیکن ڈرائیور جیسے Desert Safari کے موڈ میں تھا۔ بس کو ایسے بھگا رہا تھا کہ کئی مقامات پر حادثات سے بال بال بچے۔

صبح 10 بجے کے قریب رحیم یار خان پہنچے، پھر وہاں سے صادق آباد روانہ ہوگئے۔ صادق آباد پہنچ کر بس ساری کی ساری خالی ہوگئی۔ میں اور دیگر 3 مسافر رہ گئے جو کراچی جانے والے تھے۔ بس کنڈکٹر نے ہم سے کہا، ہم آپ کو دوسری بس میں بٹھا دیتے ہیں۔ باقی مسافر نہ مانے اور انہوں نے بس والوں سے پیسے لے لئے۔ میں نے سوچا، دوسری بس مل رہی ہے تو پیسے لے کر کیا کرنا۔ تھوڑا آگے جاکر بس رکی، کنڈکٹر نے مجھے اور باقی مسافروں کو اترنے کو کہا، میں یہ سمجھ رہا تھا، کہ بس کنڈکٹر ہمارے ساتھ جائے گا۔ کیونکہ وہ بس سے نیچے اترگیا تھا، اور بس ڈرائیور سے پنجابی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ لیکن اچانک بس روانہ ہوگئی اور کنڈکٹر بھی بھاگم بھاگ بس میں سوار ہوکر وہاں سے چلا گیا۔

میں پریشان ہوگیا۔ 40 روپے سے تو ایک وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں، سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر کھڑے ہوکر کیا کریں؟ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ پھر سامنے بس اڈہ میں ایک دوسری بس سروس والوں کے آفس میں جا کر کراچی کا ٹکٹ دکھایا، اور ان سے پوچھا کہ یہ ٹکٹ جس بس سروس کا ہے، ان کا آفس کدھر ہے؟ انہوں نے پوچھا، کیا کام ہے؟ میں نے پوری بات بتادی۔ کہنے لگا، یہ ٹکٹ ہمیں دے دو، اس کے بدلے ہم تمہیں کراچی کا ٹکٹ دے کر اپنی بس میں بھیج دیں گے۔ میں نے کہا، میرے پاس پیسے نہیں۔ کہنے لگے، پیسے نہیں چاہیئے، یہ ٹکٹ دے دو، اس کے ذریعے ہم ان بس والوں سے پیسے لے لیں گے۔

میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ فوراً ان کو ٹکٹ دے کر دوسری ٹکٹ لے لی۔ پوچھا، بس کتنے بجے روانہ ہوگی، کہنے لگے، یہی کوئی 2 گھنٹہ بعد۔ 2 گھنٹے کی بجائے بس 10 گھنٹے بعد روانہ ہوگئی۔ اس دوران جو 40 روپے جیب میں تھے، وہ بھی گرمی کی وجہ سے کبھی پانی کبھی جوس پی کر ختم شد۔

بس شام 7 بجے کے قریب صادق آباد سے روانہ ہوگئی۔ صبح کے تقریباً 6 بجے کراچی پہنچے۔ سہراب گوٹھ کے قریب بس سے اترا۔ اب آگے جانے کے لئے جیب میں صرف 5 روپے تھے۔ میں بس سے اتر کر سوچ رہا تھا کہ کیا کروں؟ اتنے میں ایک ٹیکسی والا آیا اور پوچھا، کہاں جانا ہے؟ میں نے ایڈریس بتایا۔ کہنے لگا، چلو۔ میں نے کہا میرے پاس ابھی پیسے نہیں۔ گھر پہنچ کر دیتا ہوں۔ کہنے لگا، کوئی بات نہیں، تم نہ بھی دو تو میں نہیں مانگتا۔

میں نے صرف ملیر کا نام سنا تھا۔ میرے پاس اپنے رشتہ داروں کا فون نمبر تھا۔ اس ٹیکسی والے نے فون کرکے جگہ کا پتا کیا اور مجھے وہاں‌ تک لے کر گیا۔ بعد میں بڑی مشکل سے اس کو پیسے لینے پر راضی کیا۔

میں سوچ رہا تھا، اگر کراچی میں لسانی اور سیاسی مفادات کی جنگ لڑنے والے ہم لوگوں پر رحم کریں تو کراچی پاکستانیوں کے لئے کسی جنت سے کم نہیں۔

( یہ تحریر 19 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

لاہور سے وابستہ چند یادیں – دوسرا حصہ


مینارِ پاکستان سے سیدھا بادشاہی مسجد پہنچا۔ مسجد کے ساتھ علامہ اقبال کا مزار دیکھ کر پہلے وہاں جانے کا سوچا۔ مزار کے احاطے میں داخل ہو کر فاتحہ پڑھا، دعا کی۔ اس کے بعد کچھ دیر کھڑے ہو کر اس عظیم ہستی کی قبر کی طرف دیکھتا رہا۔ کیسے کیسے لوگ یہ زمین نگل گئی ہے؟ وہ لوگ جو کسی قوم کا سرمایہ افتخار ہوتے ہیں، جو غلامی کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر اپنے ہم وطنوں کو منزل کی طرف گامزن رہنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس شمع کی طرح، جو خود اپنے وجود کو ختم کرکے روشنی پیدا کرتی ہے۔

ان خیالات میں بھٹکتا بھٹکتا 1940ء کے اس دن کو تصور میں دیکھنے لگا، جب اقبال کے مزار کے سامنے پاکستان کا مطالبہ ہورہا تھا۔ میں تصور میں دیکھ رہا تھا، اقبال کی روح کتنی خوش ہورہی تھی۔ مسلمانانِ ہند کے لئے اس نے جو خواب دیکھا تھا، آج اس کی تعبیر میں پہلا قدم اٹھایا جارہا تھا۔

مزار اقبال سے نکل کر بادشاہی مسجد گیا۔ مسجد کے اندر داخل ہو کر اس کی قدامت کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔ اگرچہ صفائی کا خیال رکھا گیا تھا، البتہ جو تصور میرے ذہن میں تھا، مسجد اس سے بہت خستہ حالت میں لگ رہی تھی۔ یا پھر یہ میرے تصور کی خامی تھی۔ مسجد میں ملک بھر سے آئے ہوئے لوگوں کا رش تھا۔ کوئی تصاویر کھینچ رہا تھا، کوئی مسجد کے دالان میں تپتی دھوپ میں کھڑا اپنے دوستوں سے کہہ رہا تھا، خیال رکھنا، تصویر میں گنبد نظر آنی چاہیئے۔

بادشاہی مسجد سے نکل کر گرمی میں کہیں اور جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں اگر چہ تنہائی پسند ہو لیکن گھومنے پھرنے میں اکیلے اکتاہٹ محسوس کرتا ہوں۔ اس لئے باہر نکل کر سڑک کے کنارے لگے اسٹال سے گنے کا جوس پیا، اور گاڑی میں بیٹھ کر گھر روانہ ہوگیا۔

گاڑی سے اتر کر پھر پیاس لگی، سامنے ایک جگہ ”آم کا جوس“ لکھا دیکھ کر وہاں گیا۔ ایک ادھیڑ عمر کا شخص جوس بنا رہا تھا۔ مجھ سے پہلے دو افراد کھڑے جوس بننے کا انتظار کررہے تھے۔ جوس والے نے جوس بناتے ہوئے نیچے سے ایک ڈبا نکالا اور جوسر میں پڑے آم کے ساتھ ڈبے والا جوس بھی ڈال دیا۔ وہ لوگ جو کہ انتظار کررہے تھے، یہ دیکھ کر اس باباجی سے الجھ پڑے، کہ یہ تو آپ ٹھیک نہیں کررہے۔ آم کے جوس کے نام پر ڈبے کا جوس پلا رہے ہو۔ بابا جی بھی اپنی صفائیاں دے رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے اپنا ارادہ بدل دیا، اور وہاں سے چل پڑا۔

(جاری ہے)

( یہ تحریر 18 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

لاہور سے وابستہ چند یادیں


بسم اللٰہ الرحمٰن الرحیم

2004ء میرے لئے ایک نہایت اہم سال تھا۔ میں روزگار کی تلاش میں کئی شہروں کا سفر کررہا تھا۔ جگہ جگہ نوکری کے لئے درخواستیں دیتا رہا۔ لیکن مطلوبہ تجربہ نہ ہونے کی بناء پر انکار کا سامنا کرنا پڑتا۔ مسلسل ڈیڑھ سال تک کوشش کرنے کے بعد بھی جاب نہ ملنے پر اگرچہ بہت مایوس تھا، لیکن اس کوشش کے دوران پاکستان کے کئی شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا۔

پہلی مرتبہ لاہور 2003ء کے اواخر میں گیا تھا۔ لیکن وہ ایک مختصر سفرتھا۔ شہر کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ دوسری مرتبہ 2004ء کی گرمیوں میں گیا تھا۔ اس بار ارادہ کیا تھا، کہ مصروفیات سے وقت نکال کر شہر کی ایک جھلک دیکھ لی جائے۔ ویسے بھی یار لوگ کہتے ہیں، جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ تو یہ شرط پوری کرنے کے لئے لاہور کی ایک مختصر سیر کا ارادہ کیا۔ ”لاہور کا جغرافیہ“ پڑھ کر دل میں خواہش تو ضرور تھی، لیکن فی الوقت لاہور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا ارادہ تھا۔

چنانچہ سب سے پہلے مینار پاکستان جانے کا ارادہ کیا۔ میں اپنے کزن کے پاس ٹھہرا تھا، جن کی رہائش قصور روڈ پر تھی۔ وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر مینارِ پاکستان کی طرف روانہ ہوگیا۔ مینارِ پاکستان پہنچ کر پہلے تو پارک میں اِدھر اُدھر ٹہل کر محظوظ ہوتا رہا۔ پارک کے اس طرف بادشاہی مسجد کے مینار نظر آرہے تھے۔ سڑک پر رواں گاڑیوں کا دھواں اگرچہ منظر کو دھندلا کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن بادشاہی مسجد کے مینار جیسے فخر سے سر اٹھائے مینار پاکستان کی طرف دیکھتے ہوئے اس لمحے کی یاد تازہ کررہے تھے، جب قراردادِ پاکستان منظور ہوئی تھی۔

کچھ دیر بعد مینار پاکستان کے پاس گیا۔ پتا چلا، مینار کے اوپر جانے کے لئے 10 روپے کا ٹکٹ ہے۔میں نے پوچھا، ٹکٹ کس لئے؟ جواب ملا، لفٹ استعمال ہوتا ہے اس لئے۔ خیر، ٹکٹ لے کر لفٹ کے پاس گیا، تو دیکھا سارے لوگ سیڑھیوں سے اوپر جارہے تھے۔ یعنی لفٹ کام نہیں کررہی تھی۔ اس لئے ہم بھی چاروناچار سیڑھیوں کے ذریعے اوپری منزل پر جانے لگا۔ اوپر بالکونی میں شہر کا نظارہ بہت ہی عجیب تھا۔ لوگوں کا کافی رش تھا۔ کچھ دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد واپس نیچے آیا۔

پارک میں جگہ جگہ فوٹوگرافر کھڑے ہو کر سیاحوں کو تصاویر کھینچنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ایک فوٹوگرافر میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا، ہاں بھئی تصویر کھنچوانی ہے؟ میں نے پوچھا، کتنے روپے لگیں گے؟ بے روزگار بندے کو ویسے بھی پوچھنا پڑتا ہے۔ اس نے کہا، 1 فوٹو کے 10 روپے۔ میں نے کہا، ایک فوٹو کے؟ کہنے لگا ہاں۔

میں نے سوچا، مینارِ پاکستان آنے کی کوئی یادگار تو ہونی چاہیئے۔ اس لئے ایک تصویر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس نے ایک تصویر کھینچی۔ میں نے جیب سے 10 روپے نکال کر اس کو دئیے۔ کہنے لگا، بھائی ابھی تو 9 تصویریں باقی ہیں۔ میں حیران ہوگیا، یہ کیا چکر ہے؟ میں نے کہا، بھائی آپ نے تو ایک تصویر کا کہا تھا، کہنے لگا، ہاں کہا تھا، لیکن ایک تصویر کےلئے میں باقی 9 تصاویر کا کیا کروں؟؟

مجبوراً باقی تصاویر بھی کھینچ لیں۔ اور اس کو 100 روپے دے کر اپنے آپ کو کوستا ہوا چل پڑا۔ فضول میں 100 روپے ضائع ہوگئے۔ آج جب بھی وہ تصاویر دیکھتا ہوں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ واقعی لاہور والے بڑے زندہ دل ہیں۔

(جاری ہے)

( یہ تحریر 17 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

ایک نماز کا احوال


السلام علیکم،

شارجہ جاتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے جبل علی کی ایک مسجد گئے۔ مسجد درمیانی سائز کی تھی، جس میں مختلف ممالک کے لوگ نماز پڑھنے جوق در جوق آرہے تھے۔ پاکستانی، انڈین، بنگالی، مختلف عرب ممالک کے لوگ، غرض یہ کہ ایک عجیب سماں تھا، کچھ دیر کے لئے رنگ و نسل کی تفریق جیسے مٹ گئی تھی۔

ہم جب نماز کے لئے رکے تو اذانیں ہورہی تھیں۔ مسجد کے اندر بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی، باہر ٹینٹ لگا کر بہت لوگ بیٹھے تھے۔ ہم نے پہلے تو قسمت آزمائی کی کہ شائد اندر جگہ مل سکے۔ لیکن اندر ایک نگاہ دوڑائی تو کچھ ناممکن سا لگا، کہ اندر جگہ مل سکے۔ اس لئے باہر ہی بیٹھ گئے۔ ہماری طرح ہر کوئی آنے کے بعد مسجد کے اندر جانے کی کوشش کرتا، اگر کامیاب ہوتا تو ٹھیک، ورنہ ہمارے پاس ہی آکر بیٹھ جاتا۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ گرمی کا موسم اور رمضان المبارک کا مہینہ ہونے کی وجہ سے لوگ مسجد کے اندر بیٹھنے کی کوشش کررہے تھے، کیونکہ ساری مساجد کے اندر اے سی نصب ہیں۔

لوگوں کا تانتا بندھے دیکھ کر اچانک ایک خیال ذہن میں آیا۔ اگر یہ قیامت کا منظر ہوتا، کچھ لوگ اللٰہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں بیٹھے ہیں، کچھ لوگ وہاں جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو خوش قسمت ہیں، ان کو سائے میں جگہ ملتی ہے، جن کے اعمال اچھے نہیں، وہ تپتی دھوپ میں، ایسی دھوپ میں، جب سورج سوا نیزے پر ہو، بیٹھے ہوں۔ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی ہلکی سی دھوپ بھی برداشت نہیں ہورہی، اللٰہ جانے وہ کیسا منظر ہوگا۔

دوسری بات جو نوٹ کی، یہ تھی کہ مسجد کے اندر گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اندر دروازے کے پاس بھی لوگ بیٹھے تھے، جس کی وجہ سے دروازہ کھولنا بہت مشکل تھا۔ کچھ عربی لوگ اور کچھ پختون بھائی دروازے پر زورآزمائی کرتے، لیکن ناکام ہوکر واپس آجاتے۔ ایسا ہی منظر شائد قیامت کے روز ہو، جب کوئی بندہ اپنی نسل اور فخر کی بنیاد پر اللٰہ کی رحمت کا حقدار نہیں بن سکے گا، بلکہ وہ ہوگا، جو اللٰہ کی طرف بلائے جانے پر دوڑ کر اللٰہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف گیا ہو۔

امام صاحب لہجے سے ضعیف العمر معلوم ہورہے تھے، لیکن ان کی آواز میں تاثیر بہت تھی۔ آدھے گھنٹے پر مشتمل خطبہ امارات میں پہلی مرتبہ سنا تھا۔ لیکن لوگ خاموشی کے ساتھ سن رہے تھے۔

اس وقت دل کچھ خوشی اور غم کے جذبات کے درمیان کشمکش میں مبتلا تھا، جب امام صاحب نے عراق، فلسطین، افغانستان اور چیچنیا کے ساتھ پاکستان کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی۔ خوشی اس بات کی ہورہی تھی، کہ ہم جیسوں‌ کو دنیا کے مسلمان اپنی دعاؤں کے قابل سمجھ رہے ہیں۔ غم اس بات کا تھا، کہ ہم اپنے کرتوتوں کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کے کام آنے کی بجائے آپس میں نیم خانہ جنگی کا شکار ہوکر ان کی دعاؤں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم دینے والا ہاتھ بنتے، لیکن لینے والا ہاتھ بن گئے۔ اللٰہ جانے ہماری یہ حالت کب تک رہے گی؟

اے اللٰہ ہماری حالت پر رحم فرما، ہمیں اس آزمائش سے نکال کر دوسرے مسلمان بھائیوں کے کام آنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

کیا میرا بلاگ تبصرے کے قابل نہیں؟



جب سے بلاگ بنایا تھا، کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ اور ہر روز اپنا بلاگ چیک کرتا تھا کہ شائد کوئی تبصرہ آیا ہو۔ لیکن جب بھی دیکھتا تھا، یہی لکھا ہوا نظر آتا تھا کہ کوئی تبصرہ نہیں۔ بعد میں اردو بلاگز پر بھی اپنا بلاگ رجسٹر کروایا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

پھر سوچا شائد میرے لکھے ہوئے مراسلے تبصرے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس طرح دل کو تسلی دی، اور تبصروں کا انتظار چھوڑ دیا۔ کیونکہ انتظار سب سے مشکل کام ہے۔ ایک دن اردو نامہ فورمز پر شازل بھائی نے میری ایک تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرتے وقت کیپچا صحیح کام نہیں کررہا۔ میں نے جب چیک کیا تو واقعی وہی مسئلہ تھا، لیکن تکنیکی معلومات سے نا واقفیت کی بنا پر اس کو بھی حل نہیں کرپایا۔ اور عبدالقدوس بھائی سے مدد لی۔ اس طرح تبصروں کا یہ مسئلہ حل ہوا۔

آج اپنے بلاگ پر چند ساتھیوں کے کمنٹس دیکھ کر مجھے یقین ہوا کہ میرا بلاگ تبصرے کے قابل ہے!!!

وہ جنہیں سرخ روشنائی سے منافق لکھا گیا!


السلام علیکم،

آج کل فورم پر مختلف اختلافی مسائل پر ہونے والی بحث دیکھ کر کچھ پرانے واقعات ذہن میں تازہ ہوگئے۔ یہ 1999ء کی بات ہے، اس وقت میں دسویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ اسکول کے بعد ترجمے کے لئے دیوبندی مسلک کے ایک عالم کے پاس جاتا تھا۔ جبکہ صبح کے ٹائم ایک بریلوی عالم دین سے فقہ پڑھنے کے لئے جاتا، جو کہ والد صاحب کے دوست بھی تھے۔

ایک ساتھ میں دو مختلف آراء والے اساتذہ کی تربیت کا کچھ اثر تو ہونا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر مسائل پر میں کنفیوژن کا شکار ہوگیا۔ اپنی اس الجھن کے حل کی خاطر میں اکثر اپنے اساتذہ سے سوالات پوچھتا تھا۔ یہ سلسلہ اتنا آگے بڑھا، کہ دونوں مکاتب فکر کے درمیان مناظرے کی نوبت آگئی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کا بنیادی سبب میرے سوالات ہی تھے۔

میں اس وقت نتائج سے بے خبر، ان اساتذہ کے درمیان مناظرے کی تیاریوں کو بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔ ان کے آپس کی پیغام رسانی کا کام میرے سپرد تھا۔ معاملہ صرف اس بات پر اٹکا ہوا تھا کہ مناظرے کے دوران اگر کچھ بد امنی کی صورتحال پیدا ہوجائے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ دونوں مکاتب فکر میں سے کوئی بھی یہ ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ میں اور میرا ایک دوست اس صورتحال میں ان اساتذہ اور ان کے مکاتب فکر کے لوگوں کے درمیان عملی طور پر پیغام رسان بن چکے تھے، کیا عجیب پیغام ہوتے تھے۔ یہ علماء کرام ایک دوسرے کو سرخ روشنائی سے منافق لکھنے کے پیغامات ہم سے بھجواتے تھے۔ ایک بار میں نے پوچھا، یہ آپ سرخ روشنائی کیوں کہتے ہیں؟ کہنے لگے، جس طرح اسکول میں استاد سرخ روشنائی سے غلط جواب کے گرد دائرہ کھینچ لیتا ہے، اسی طرح میں نے فلاں کے نام کے گرد منافق ہونے کا دائرہ کھینچا ہے، وہ منافق ہے۔

اس دوران والد صاحب کو اس معاملے کی بھنک پڑگئی۔ انہوں نے سختی سے منع کردیا کہ کسی بھی طرح کے مناظرہ بازی میں حصہ مت لینا، اور میرے درس جانے پر بھی وقتی طور پر پابندی لگادی۔ اس دوران دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کے لوگوں کا بھی آپس میں اتفاق نہیں ہوا، مناظرے کے محفل کی سیکیورٹی پر۔ یوں یہ معاملہ یہیں پر ختم ہوگیا۔

لیکن 3،4 سال کے مشاہدے اور اس مجوزہ مناظرہ کی تیاری کے دوران مشاہدات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ یہ بات صحیح ہے کہ دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کا آپس میں اصولی اختلاف ہے، لیکن معاملات کو جس طرح سے الجھایا جاتا ہے، اس سے عوام دین کی طرف راغب ہونے کی بجائے متنفر ہوجاتے ہیں۔

ابتداء میں مساجد میں درس دینے والے علماء بڑے جوش و خروش سے درس قرآن شروع کرتے ہیں۔ ہمارے لوگوں میں قرآن سیکھنے کا بہت جذبہ ہے۔ وہ ہر سکھانے والے سے سیکھنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے۔ اب یہ عالم دین پر منحصر ہے کہ وہ ان کو کس راستے پر لے کر جاتا ہے۔ عام طور پر کچھ نئے مدرس اس مرحلے پر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے ایک غیر اعلانیہ مناظرہ شروع ہوجاتا ہے۔ مخالف فریق پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگلے روز دوسرے فریق کی جانب سے ان الزامات کا جواب نئے الزامات کی شکل میں آتا ہے۔

رفتہ رفتہ اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور ایک دوسرے پر کفر اور منافقت کے فتوے لگنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس بیچ عوام کی کیا حالت ہوتی ہے، وہ کبھی ایک فریق کی حمایت کرتے ہیں، کبھی دوسرے کی۔ لڑائی ہوتی ہے تو اصل مدعی غائب ہوجاتے ہیں، اور عام لوگ بیچ میں مارے جاتے ہیں۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو اندازِ تخاطب کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ آپ اگر ایک جائز بات بھی غلط انداز میں کریں گے تو کوئی بھی آپ کی بات نہیں مانے گا۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے اختلافی مسائل کے حل کی خاطر مل بیٹھ کر بات کرلیں۔ عوام کی ذہنوں کو الجھانے، ان کو کفر اور نفاق کے فتوؤں کے ذریعے اسلام سے متنفر کرنے کی بجائے ان کو پیار اور محبت سے اسلام کی اصل دعوت سے روشناس کرائیں۔ اس طریقے سے کی جانے والی بات کا اثر زیادہ ہوگا۔

لیکن مجھے پتا ہے ایسا کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ پھر مفتی صاحب کے فتوؤں کی قدر کم ہوجائے گی، پیر صاحب کا آستانہ لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں رہے گا، اور خطیب صاحب کی پرجوش تقاریر پر سردھننے والے شاید دوبارہ ان کی محفل کا رخ نہ کریں۔ اب کوئی پاگل ہی ہوگا جو اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارے گا۔

لیکن یہ ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ آپس میں اتفاق و اتحاد سے علماء کی قدر کم ہوجائے گی۔ اللٰہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں و عسیٰ ان تکرھو شیئا و ھو خیر لکم۔ اس لئے بظاہر اس اتحاد میں نقصان نظر آتا ہے لیکن اگر ہم صدق دل سے ارادہ کرلیں تو اللٰہ ہماری مدد کرے گا۔ اس کام کے لئے کسی بڑے تحریک کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس فورم پر بھی اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرسکتے ہیں کہ اختلافی مسائل پر بات کریں گے لیکن ایک دوسرے پر الزامات اور ذاتیات کے حملے نہیں کریں گے۔ یقین کریں، بڑی تبدیلی آئے گی۔ انشاءاللٰہ

حجاب کے بارے میں میری ایک تحریر


آج بہت دنوں بعد اپنا پرانا بلاگ وزٹ کیا۔ کچھ پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ 2005ء میں، جب میں کراچی میں تھا، اس وقت نیٹ پر چیٹنگ کے دوران ایک امریکی نوجوان سے سوال جواب کے دوران کافی بحث ہوئی۔ بعد میں ہم اکثر آبس میں بات چیت کرتےتھے۔ موضوع اکثر اسلام اور 9/11 کے بعد کے حالات ہی ہوتے تھے۔ اس کا نام سیموئیل تھا۔ بحث کے دوران اکثر ہماری لڑائی بھی ہوجاتی۔ لیکن میں نا تجربہ کار ہونے کے باوجود اس کے سوالات کے جوابات ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کے سامنے پیش کرتا۔ ایک دو سال تک یہ ہماری بات چیت جاری رہی۔ اسکوعربی سیکھنے کا شوق تھا۔ میں خود عربی سیکھ رہا تھا۔ اس کو بھی بتاتا۔ مندرجہ ذیل تحریر اس وقت میں نے سیموئیل سے بحث کے بعد لکھی تھی۔

Hijab is considered a sign of oppression of Muslim women by many non-Muslims. How could be it justified? They say, ‘Islam is taking the choice and freedom away from women.’ While they haven’t studied Islam and its laws, as they should. Or they have some knowledge about Islam, but they have studied Islam from such source that only search defects and short comings in Islam (though they are unable to find it).

To examine the objections about Hijab, we should understand it that Islam is a complete code of life. You are bound to obey a law in full, when you agree to follow it. Islam is a code of life, which have its own values and virtues, which differ from any other religion or culture. Islam is needed to be followed in all its commands. When we talk about the CHOICE, we should know that there is no choice after accepting a law. For example, when you become citizen of a country, or you get a visa of a specific country. You should abide by rules and regulations of that country. You can’t ask them that you want to do this and that, and you don’t want to do this and that. No, you have to follow the rules. Otherwise, they will refuse to give you citizenship or visa. Take the same example about Islam. When we have accepted Islamic laws and rules as they are true and revealed by Allah, then we don’t have any choice, to accept what we like and to reject what is objectionable to the World and its FREE culture. It is a logical justification of almost all Islamic laws.

Now, coming to the main purpose of Hijab, Islam wants to protect women’s modesty and their honour. It is described in the Holy Qur’an, that Muslim women should cover their body, so that they will be identified ( as a Muslim Women) and will not be molested.

Dr. Zakir Naik describes six criteria for Hijab:

1. The first criterion is the extent of the body that should be covered. This is different for men and men. The extent of covering obligatory on the male to cover the body at least from the navel to the knees. For women, the extent of covering obligatory is to cover the complete body except the face and the hands upto the wrist. If they wish to, they can cover even these parts of the body. Some scholars of Islam insist that the face and the hands are part of the obligatory extent of ‘hijab’. All the remaining five criteria are the same for men and women.

2. The clothes worn should be loose and should not reveal the figure.
3. The clothes worn should not be transparent such that one can see through them.
4. The clothes worn should not be so glamorous as to attract the opposite sex.
5. The clothes worn should not resemble that of the opposite sex.
6. The clothes worn should not resemble that of the unbelievers i.e. they should not wear clothes that are specifically identities or symbols of the unbelievers’ religions.

It was a logical justification of Hijab for women in Islam. You can send me your comments if you have some different view.

(26 April, 2005)

سراب


اپنے دوست کو صبح سویرے مسجد کے باہر اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر پہلے تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ وہ بندہ جو کبھی 9، 10 بجے سے پہلے اٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں بچپن سے ہی جن بھوت سے ڈرتا تھا۔ پہلے تو خیال آیا کہ شائد کوئی جِن میرے دوست کی شکل بنا کر میرے سامنے کھڑا ہے۔ لیکن جب اس نے پاس آکر بات شروع کی، تو یہ وہم ختم ہوگیا۔

"مبارک ہو، نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی ہے۔” اس نے خوشی سے کہا۔
مجھے اس کی بات کا بالکل یقین نہیں آیا۔

پھر اس نے تفصیل سے بتایا۔ یہ 13 اکتوبر 1999ء کی صبح تھی۔ پاکستانی عوام نے حلوے کی دیگیں تقسیم کرکے جنرل مشرف کا استقبال کیا۔ ہر طرف نئی حکومت کی آمد کی خوشی میں عوام پاگل ہو رہی تھی۔ اس وقت مجھے یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ ٹھیک دو سال بعد یہی لوگ سڑکوں پر آکر مشرف حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہوں گے۔

مشرف نے آکر بہت سارے اچھے کام بھی کئے۔ انہوں نے فوجی جوانوں کو سویلین اداروں میں بھی "مدد” کے لئے بھیجا۔ بہت سارے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کئے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان اور اجمل خٹک جیسے لوگ بھی دھوکہ کھا گئے۔ بلاشبہ ابتدائی دنوں میں مشرف نے بد عنوان لوگوں کے خلاف جس طرح کریک ڈاؤن شروع کیا، اس سے یہی لگ رہا تھا کہ پاکستانی قوم کو ایک مناسب لیڈر مل گیا ہے، جو برسوں کی تشنگی دور کرنے کے لئے کافی ہے۔

لیکن معلوم نہیں تھا کہ ہم اپنے مسائل کی صحرا میں سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ 9/11 کے واقعے نے تو پاکستان کی پالیسی کو یوٹرن پر مجبور کردیا۔ وہ لمحے ہمارے لئے ایک بہت ہی نازک مرحلہ تھا، اسکول اور کالج بند کر دیئے گئے۔ عوامی احتجاج کو کچلنے کے لئے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ” سب سے پہلے پاکستان” کے سبز باغ دکھا کر پاکستانیوں سے ان کے خواب چھین لئے گئے۔

سب سے پہلے پاکستان، یہی نعرہ دے کر کیا کچھ نہیں کیا گیا پاکستان کے ساتھ ۔ کچھ بھی فیصلہ ہو، تاویل یہی دی جاتی ہے کہ جناب، یہ فیصلہ وسیع تر قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ ہم نے امریکہ کا ساتھ دے کر کھویا ہی کھویا ہے، پایا کچھ نہیں۔ ہر حکومت کے آنے کے ساتھ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ شاید اس باراچھا ہو۔ شاید اس مرتبہ ہمارے مسائل حل ہوں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اس سیاسی نظام نے آج تک ہمیں کوئی مخلص لیڈر نہیں دیا۔ سارے کے سارے کرپٹ، موقع پرست اور چڑھتے سورج کے پجاری نکلے ہیں۔

آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ کب تک عوام کی خاموش اکثریت، جن کو مشرف اپنا حمایتی سمجھتا تھا، اس ظلم کو برداشت کرتا رہے گا؟ عوام کا باشعور طبقہ کب سامنے آکر ان لٹیروں سے مقابلہ کرے گا؟ شاید ہم سراب کے پیچھے ہی بھاگتے رہیں گے۔

ٹی وی


بچپن کے دن، جب گھر میں کسی بڑے بزرگ سے رات کے وقت کہانیاں سنتے تھے، ایک عجب دور تھا۔ بڑی شدت کے ساتھ اس وقت کا انتظار رہتا تھا کہ کب رات کا کھانا کھائیں اور کہانی سنیں۔ اکثر اوقات کہانی لمبی ہوجاتی تھی، اور باقی آئندہ کا کہہ کر زبردستی سونے کے لئے بھیج دیا جاتا۔ اس صورت میں اکثر نیند آنکھوں سے غائب ہوجاتی تھی۔ بہت برا لگتا تھا، کہ یونہی کہانی ختم کرنے سے پہلے سونے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔

پھر ٹی وی آیا۔ وہ دن کبھی نہیں بھولتے جب محلے میں‌ واقع اپنے رشتہ داروں کے گھر سب لوگ ٹی وی دیکھنے جمع ہوتے تھے۔ یادیں کچھ دھندلی سی ہیں، ایک بڑا سا ٹی وی میز پر رکھا ہوتا تھا، جس کی بلیک اینڈ وائٹ ڈسپلے اکثر انٹینا کی خرابی کی وجہ سے تصاویر کو غیرواضح کردیتی تھی۔ زمین پر چٹائی بچھادی جاتی تھی، جس پر بچوں کو بٹھادیا جاتا تھا، جبکہ نوجوان اور بزرگ چارپائیوں‌ پر بیٹھ جاتے تھے۔ بہت شدت سے اس لمحے کا انتظار رہتا تھا کہ کب ڈرامہ شروع ہو، جس کے لئے ایک ہفتہ انتظار کیا جاتا تھا۔ ڈرامہ دیکھتے وقت باقی سرگرمیاں موقوف ہوتی تھیں۔ ڈرامہ ختم ہونے کے بعد ٹی وی بند کردیا جاتا تھا، اور ٹی وی کو کسی کپڑے سے اچھی طرح ڈھانپ دیا جاتا تھا، تاکہ گردوغبار سے محفوظ رہے۔ عموماً ٹی وی اگلے ہفتے ہی دوبارہ آن کیا جاتا۔

اس دور سے آگے بڑھیں تو رنگین ٹی وی کا زمانہ آیا۔ اگر چہ شہروں میں‌ بہت پہلے ہی کلر ٹی وی آچکا تھا، لیکن دیہات کے لوگوں کے لئے یہ ایک عجوبے سے کم نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے پہلی مرتبہ جب کلر ٹی وی ہمارے گاؤں میں آیا تھا، تو میں اکثر لوگوں سے سنتا تھا، کہ آج فلاں ڈرامہ دیکھنے جانا ہے، پتا ہے فلاں کے ہاں ایسا ٹی وی ہے جس میں ہر رنگ اصل دکھائی دیتا ہے۔ ڈرامے بھی اب ہفتے میں ایک کی جگہ تقریباً روزانہ کے حساب سے نشر ہونے لگے۔ اس وقت اکثر گھر سے چھپ کر یا کوئی بہانہ بنا کر اپنے دوست کے ہاں‌ بچوں کے ڈرامے دیکھنے جاتا۔

ڈرامہ دیکھنے کی خاطر کیا کیا جتن کرنے پڑتے تھے۔ اکثر ٹی وی کا انٹینا خراب ہوجاتا تھا۔ اب اس کو صحیح رخ پر کرنے کے لئے چھت پر جانا پڑتا۔ انٹینا گھمانے کے ساتھ ساتھ زور زور سے آواز لگا کر پوچھنا بھی پڑتا، کہ ٹھیک ہوگیا کہ نہیں؟ اکثر چھت سے اترنے تک کوئی کوا انٹینا پر بیٹھ جاتا اور ٹی وی پھر خراب ہوجاتا۔ نتیجتاً پھر چھت کا دورہ کرنا پڑتا۔

تھوڑا اور آگے چلتے ہیں۔ ہائی اسکول اور اس کے بعد کالج کا زمانہ ہے۔ پہلے ڈش ٹی وی آیا۔ اس کے بعد کیبل نیٹ ورک آیا۔ ابتداء میں کچھ مزاحمت ہوئی۔ لیکن اس کو یہ کہہ کر ٹالا گیا کہ کیبل پر صرف پاکستانی چینل دکھائے جائیں‌ گے۔ خیر، پاکستانی چینل تو آٹے میں نمک کے برابر ہی رہے۔

کیبل کے آنے کے بعد حالت یہ ہوگئی کہ سینکڑوں چینل ہوگئے، جن پر ہر وقت ڈرامے اور فلم چلتے رہتے ہیں۔ کوئی وقت مخصوص نہیں رہا، ہر وقت فلم اور ڈرامے آپ کی پہنچ میں ہیں۔ ان فلموں اور ڈراموں کے گڑ میں پرائی تہذیبوں کا زہر ڈال کر ہمارے ذہنوں میں ڈالا جارہا ہے۔ ایسی کہانیاں فلمائی جاتی ہیں جن کا ہماری تہذیب سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ اور تو اور، آج کل کے پاکستانی ڈرامے چند فیصد امراء کے طبقے کی ہی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں بڑی بڑی گاڑیاں، کوٹھیاں دکھا کر نوجوانوں کو غیر شعوری طور پر اسی طرز زندگی کے لئے بھاگ دوڑ کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔

شریف گھرانے بھی کیبل کے جال میں آہستہ آہستہ پھنستے ہیں۔ پہلے پہل جب ٹی وی لگاتے ہیں، تو بزرگوں کی طرف سے سخت آرڈرز ہوتے ہیں، کوئی غیر اخلاقی پروگرام یا سین بچے نہ دیکھ پائیں۔ اس لئے ریموٹ بڑوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی ایسا ویسا سین آیا، جلدی سے چینل تبدیل کرکے جیو ٹی وی لگالیا۔ دھیرے دھیرے یہ اہتمام کم ہوتا جاتا ہے۔ پھر ریموٹ بچوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ غیر مناسب سین آتےہیں تو ماں باپ چلاتے ہیں، ارے بیٹا بری بات ہے، چینل تبدیل کرلو۔ پھر یہ بات بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔ ابتداء میں جو چیز بری لگتی ہے، بعد میں‌ نارمل ہوجاتی ہے۔

گزرے ہوئے دور پر نظر دوڑاتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے، ہم نے واقعی بہت ترقی کرلی ہے۔ انفارمیشن اور انٹرٹینمنٹ کا ایک سیلاب ہے، جو نئی نسل کو بہا کر لے جارہا ہے۔ ہر طرح کی معلومات آپ سے چند کلک کے فاصلے پر ہیں۔ لیکن وہ سکون جو امی کی سنائی ہوئی کہانیوں میں ملتا تھا، وہ کہیں اور نہیں ملا۔ جو سکون رات کو کھلے آسمان کے نیچے سونے سے پہلے ستاروں کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا تھا، وہ ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں سونے سے نہیں ملا۔ ہم جس راستے پر جارہے ہیں، کیا وہ ہمیں ہمارا وہ سکون اور ذہنی اطمینان واپس لوٹاسکے گا؟

%d bloggers like this: