Category Archives: میرے پسندیدہ کالم

طالبان اور جمہوریت


حامد میر

صاحبان اختیار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح کے بار بار دعوے کررہے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سوات کو عسکریت پسندوں سے پاک کردیا گیا، جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی، باجوڑ میں 63سال کے بعد پاکستان کا پرچم لہرا دیا گیا۔ وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے ایک سے زائد مرتبہ کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ اس دعوے کی دیکھا دیکھی باجوڑ میں طالبان رہنما مولوی فقیر محمد اور قاری ضیاء کو مار دینے کا اعلان بھی کردیا گیا۔ جس کسی نے ان دعووں کی تصدیق کیلئے ثبوت کا تقاضا کیا اسے بڑی رعونت اور نفرت کے ساتھ ملک دشمنوں کا ساتھی قرار دیا گیا۔

اس دوران کراچی سے افغان طالبان کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری کی خبریں بھی آئیں اور افواج پاکستان کے بعض سینئر افسران کی مدت ملازمت میں توسیع بھی ہوگئی لیکن پھر اچانک خودکش حملوں کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہوگیا۔ پہلے ماڈل ٹاؤن لاہور اور پھر آر اے بازار لاہور میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان حملوں میں زیادہ نقصان بے گناہ عورتوں اور بچوں کا ہوا۔ ان حملوں کے ساتھ ہی حکیم اللہ محسود اور مولوی فقیر محمد نے میڈیا کے ساتھ رابطے شروع کردیئے اور اپنے زندہ ہونے کی خبریں دیں۔ حد تو یہ تھی کہ 12 مارچ کو جمعہ کی نماز سے پہلے اسلام آباد میں کچھ صحافیوں کو شمالی وزیرستان سے فون پر بتایا گیا کہ طالبان کی طرف سے نماز جمعہ کے بعد عوام کیلئے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جائے گا تاکہ حملوں میں ان کا کم سے کم نقصان ہو۔ اس دوران لاہور میں دو خوفناک خودکش حملے ہوئے اور ان حملوں کے تھوڑی دیر بعد طالبان نے فیکس کے ذریعہ تین صفحات پر مشتمل ہدایت نامہ جاری کردیا جس میں عوام سے کہا گیا کہ وہ فوج، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے دور رہیں، سیاستدانوں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات سے بھی دور رہیں، جلسے جلوسوں میں شرکت نہ کریں، فوج، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے میل جول اور لین دین نہ رکھیں، ایسے ہوٹلوں میں نہ جائیں جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لوگوں کا آنا جانا ہو اور اس کے علاوہ این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر سے بھی دور رہیں۔ اس ہدایت نامے کا فیکس کے ذریعہ میڈیا تک پہنچنا اس امر کا ثبوت تھاکہ طالبان کا نیٹ ورک بدستور قائم ہے اور ان کے موقف میں پہلے سے زیادہ شدت اور سختی پیدا ہوچکی ہے۔
طالبان نے اپنے ہدایت نامے میں حکومت اور فوج پر حملوں کی وجہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ڈرون حملوں کو قرار دیا۔ ہدایت نامے میں کہاگیا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی تھی لیکن پاکستان کی حکومت اور فوج اسلامی نظام کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس ہدایت نامے میں حکومت اور فوج کے ساتھ جنگ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جہاد کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جو بہت قابل غور ہے۔ ہدایت نامے کے اجراء سے پتہ چلتا ہے کہ خود طالبان کی قیادت کو بھی احساس ہے کہ خودکش حملوں میں زیادہ نقصان بے گناہ عورتوں اور بچوں کا ہورہاہے اور لفظ جنگ کے استعمال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خودکش حملوں کو جہاد کہنے سے بھی احتراز کیا جارہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ڈرون حملوں کا جواز پیش کرکے ایک انتقامی جنگ کا اعلان کیا گیا۔ اسی ہدایت نامے میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں اپنی ماؤں بہنوں کو فروخت کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے یا ان کی حفاظت کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔

اس ہدایت نامے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ طالبان خود کو پاکستانی ماؤں اور بہنوں کا محافظ سمجھتے ہیں۔ اگر وہ واقعی خود کو محافظ سمجھتے ہیں تو پھر قوم کی مائیں اور بہنیں ان سے یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہیں کہ ماڈل ٹاؤن لاہور اور آر اے بازار لاہور میں آپ کے حملوں کے باعث جو مائیں اور بہنیں ماری گئیں ان کا قاتل کون ہے؟ یہ عورتیں بھی اسی طرح بے گناہ اور مظلوم ہیں جس طرح شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملوں کے باعث اکثر اوقات بے گناہ عورتیں ماری جاتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ امریکی ڈرون میں بھی زیادہ تر بے گناہ مارے جارہے ہیں اور طالبان کے حملوں میں بھی بے گناہ مارے جارہے ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ کا حصہ بن کر پاکستان کو تباہی کے راستے پر ڈالا، اپنے ہم وطنوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے ہاتھ بیچ دیا اور امریکہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے پاکستان پر ڈرون حملے شروع کروادیئے لیکن مشرف کے جرائم کی سزا پاکستان کے مظلوم عوام کو نہیں ملنی چاہئے۔ ان مظلوم اور نہتے عوام نے 18فروری 2008ء کو خوف اور دہشت کی فضا میں گھروں سے نکل کر ووٹ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور مشرف نواز قوتوں کو مسترد کردیا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بہت کمزور ہے، سیاست دان کرپٹ ہیں لیکن مشرف کو پاکستان سے طالبان نے نہیں بلکہ اسی کمزور اور کرپٹ جمہوریت نے بھگایا۔ یقینا پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی تھی لیکن پاکستان بنانے والے بادشاہت کے نہیں جمہوریت کے قائل تھے۔ افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد وطن عزیز پر امریکہ کے گماشتے فوجی حکمرانوں کا قبضہ ہوگیا اور انہوں نے پاکستان کو شکست و ریخت کے سوا کچھ نہ دیا لیکن یہ تو مانیئے کہ اسلام کی خدمت اگر ہوئی تو جمہوری ادوار میں ہوئی۔ جمہوریت نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا، جمہوریت نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، جمہوریت نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور یہی جمہوریت پاکستان کو ایک مثالی فلاحی مملکت بھی بنا سکتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آج کی جمہوریت ڈرون حملے روکنے میں ناکام ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اقتدار طالبان کو مل جائے تو کیا وہ ڈرون حملے بند کروا سکتے ہیں؟ ڈرون حملے بند ہوسکتے ہیں لیکن اس کیلئے ہمیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ قومی یکجہتی اسی وقت ممکن ہے جب پوری قوم انصاف پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کے خودکش حملوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ڈرون حملوں کے خلاف بھی متحد ہوجائے۔ ہم سب کو مل جل کر جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے۔ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے پارلیمینٹ کی بالادستی ضروری ہے۔

پارلیمینٹ طاقتور ہوگی تو کسی حکومت اور فوج کو من مانی کا موقع نہیں ملے گا۔ پارلیمنٹ ڈرون حملے نہ روکنے کی صورت میں کراچی سے طور خم تک امریکہ اور نیٹو افواج کی سپلائی لائن روکنے کا حکم دے گی تو کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اس حکم کو نظرانداز کرے اور اسی طریقے سے ڈرون حملے بند ہوں گے۔ پاکستان سیاسی و جمہوری جدوجہد کی پیداوار ہے اور پاکستان کی بقا جمہوریت سے وابستہ ہے۔ طالبان کو چاہئے کہ وہ بندوق کے بجائے جمہوریت کا راستہ اختیار کریں اور جمہوریت کے ذریعہ پاکستان کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ترکی کے اسلام پسند جمہوریت کے ذریعہ سیکولر قوتوں کو شکست دے سکتے ہیں تو یہ پاکستان میں ممکن کیوں نہیں؟ آزمائش شرط ہے لیکن ذرا صبر کے ساتھ۔

Advertisements
%d bloggers like this: