مولوی کی کلاس


آپ شائد سوچ رہے ہونگے کہ یہ مولوی صاحب کی کلاس کی بات ہورہی ہے جس میں وہ بچوں کو ا، ب پڑھاتے ہیں۔ جی نہیں، یہ وہ کلاس ہے جس میں مولوی‌ صاحب کو پیش کرکے ان کی ‘خاطر تواضع’ کی جاتی ہے۔ یوں تو اس سلسلے میں ایک غیر مربوط کوشش پہلے سے ہی چل رہی ہے لیکن اس کلاس کو منظم کرنے کے لئے سوچ کر آپ کو اس کے اصول و ضوابط سے آگاہ کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ ان قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہے، اس کے بغیر کلاس کو مولوی کی کلاس نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ اس بندے کو مولویوں کا ہمدرد سمجھا جائے گا۔

مولوی کی کلاس لینے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ آپ کو روشن خیال سمجھیں ورنہ آپ کی کلاس بے کار ہوجائے گی اور لوگ سمجھیں گے کہ یہ مذہبی لڑائی ہے۔ روشن خیال بننے کے لئے کچھ آزمودہ طریقے پیش خدمت ہیں۔

سب سے پہلے، اگر آپ مرد ہیں تو داڑھی سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں، داڑھی والا ہمیشہ انتہا پسند ہی ہوتا ہے۔ اس لئے اسمارٹ بنیں اور کلین شیو پر توجہ دیں، پھر ترقی پسندوں کی تصانیف پڑھیں، ان کی تصانیف میں شامل وہ باتیں جن سے کان سرخ ہوتے ہوں، ہر مناسب موقع پر لوگوں کے ساتھ شئیر کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی باتیں کریں، کسی عورت کے ساتھ ظلم ہو تو ریلیاں نکالیں، ان کے پاس جا کر فوٹو سیشن کرائیں اور یہ مطالبہ کریں‌ کہ ذمہ داروں کو جلد از جلد سزا دی جائے۔ لیکن اتنا بھی شور و غوغا نہ کریں کہ حکومت واقعی مجبور ہو، ہتھ ہولا رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر بات میں مولویوں کو کوسیں، امن و امان کا مسئلہ ہو، مہنگائی کا مسئلہ ہو، یا پاکستان کی عالمی ساکھ کا، ہر بات میں مولوی کو گھسیٹیں۔ اس سے آپ کا امیج بہت روشن ہوگا اور آپ خود ہی چند ہفتوں یا مہینوں میں فرق محسوس کریں گے۔

اگر آپ خاتون ہیں، تو مندرجہ بالا طریقوں میں سے داڑھی کی بات چھوڑ کر باقی آپ کے لئے بھی ہیں، البتہ آپ کی صنف کے حساب سے کچھ مزید طریقے ہیں جن کو آزما کر آپ دقیانوسی کی جگہ روشن خیال کہلائیں گی۔ سب سے پہلے حجاب کو خیرباد کہہ دیں، روشن خیالی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا چہرہ بھی روشن رہے۔ اس کے بعد بتدریج دوپٹے کو سر سے سِرکا کر کندھے پر لے آئیں۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دوپٹے کو بھی خیر باد کہہ دیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سارا عمل بہت آہستہ ہو ورنہ مولوی آپ کی کلاس لینا شروع کردے گا۔ اسی طرح کپڑوں میں بتدریج تبدیلیاں لائیں حتیٰ کہ آپ بھی ترقی پسند خواتین کی طرح ان کی رنگ میں رنگ جائیں۔ کلبوں میں جائیں، بوائے فرینڈ ڈھونڈیں، اور ظالم سماج کی زنجیریں توڑنے کا عزم کریں۔ پھر اس کے بعد مولوی کی کلاس لینا شروع کریں، میڈیا پر آپ کو بہت پذیرائی ملے گی اور آپ خود ہی محسوس کریں گی کہ واقعی روشن خیال ہونا کتنی اچھی بات ہے!!!!

اس کے علاوہ کتے پالنے کا شوق رکھیں، صبح کی سیر میں ان کو ساتھ لے کر جائیں تا کہ آپ ماڈرن لگیں۔ اور فوٹو سیشنز میں بھی کتوں کو گود میں بٹھا کر ان سے پیار کریں تاکہ آپ کی بے زبانوں کے ساتھ دوستی مشہورِ عام وخاص ہوجائے۔

لیجئے، اب آپ دل کھول کر مولوی کو گالیاں دیں۔ ان کو معاشرے کا ناسور قرار دیں۔ ان کے رہن سہن، کپڑوں، کھانے (حلوہ ) وغیرہ کی بھی برائی کریں۔ ان کی ایسی خاطر تواضع کریں کہ کوئی بھی مولوی آپ کے سامنے ٹک بھی نہیں سکے۔ ایسا کرنے سے کوئی آپ کو روک نہیں سکے گا کیونکہ آپ کے دماغ میں روشن خیالی کا بلب روشن ہے، جس کا مقابلہ مولوی کے دماغ کی پرانی شمع نہیں کرسکتی۔

نوٹ: میں مولوی نہیں ہوں۔
(میری یہ تحریر 1 فروری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

Advertisements

ماڈریشن


کسی بھی فورم کے لئے ماڈریشن انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے بغیر فورم پر سپیم پیغامات کی بھرمار ہونے کے ساتھ ساتھ فورم کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تھریڈز بھی ہوتے ہیں۔ ہر فورم کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ کچھ کے خیال میں فورم یا ویب سائٹ پر ماڈریشن صرف اسپیم مراسلات کو ختم کرنے کی حد تک ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ فورم کے قوانین کی پاسداری کرنا اور ممبران کو اس کی طرف توجہ دلانا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ماڈریٹر یا انتظامی رکن کو عام ممبران سے زیادہ باخبر ہونا چاہیئے۔ عام طور پر فورم کے اراکین ماڈریٹرز کو اپنے فورم کا ایکسپرٹ سمجھتے ہیں۔ اب یہ ماڈریٹر کا کام ہے کہ اس تاثر کو برقرار رکھے۔ ماڈریٹر کو اپنے فورم سے متعلقہ موضوعات کے بارے میں معلومات ہونی چاہیئے۔ کیونکہ جب تک ماڈریٹر کو اپنے فورم کے موضوعات پر عبور نہ ہو، وہ درست فیصلہ نہیں کرسکتا۔

کسی بھی فورم کے لئے اس کے ممبران اس کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی کے مراسلات کو ماڈریٹ کرنے سے پہلے ماڈریٹر کو اپنے فیصلے کا جائزہ لینا چاہیئے کہ جو پوسٹ ڈیلیٹ یا ایڈیٹ کی جارہی ہے، اس کی اشد ضرورت ہے بھی کہ نہیں؟
فورمز پر ماڈریشن اگر احتیاط سے نہ کی جائے تو اس کے نتائج اس سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں، جو ماڈریشن نہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ حد سے زیادہ اور جارحانہ ماڈریشن سے فورمز کے اراکین بددل ہوجاتے ہیں۔

ماڈریٹر کو کسی بھی رکن کے مراسلات کو ایڈیٹ یا ڈیلیٹ کرنے سے پہلے اس رکن سے بات کرنی چاہیئے۔ اور اس رکن کو قائل کیا جائے کہ اس نے جو مراسلہ پوسٹ کیا ہے، وہ فورم کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اس سے ہزار درجے بہتر ہے کہ کسی رکن کا مراسلہ ایڈیٹ کیا جائے اور وہ اس سے بددل ہو۔ یقین کریں اگر آپ کسی رکن کے مراسلات ختم کرنے کی بجائے اس کو قائل کریں گے تو وہ خود کو فورم کا ایک اہم فرد تصور کرے گا۔ اور فورم پر سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

صرف اس صورت میں کسی رکن کے مراسلات کو ایڈیٹ کیا جائے، جب وہ بار بار سمجھانے پر بھی نہ مانے یا ماڈریٹر کو لگے کہ وہ فورم کے قوانین کی مسلسسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ یا وہ فورم پر دووسرے اراکین کی دل آزاری کا جان بوجھ کر باعث بن رہا ہے۔ ایسی صورت میں انتظامیہ چند مرتبہ سمجھانے کے بعد اس رکن کے خلاف ایکشن لے۔ تاکہ فورم پر ڈسپلن برقرار رہ سکے۔

(یہ مواد انٹرنیٹ پر مختلف آرٹیکلز سے لیا گیا ہے۔ یہ تحریر 25 فروری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی۔)

ابن الوقت


وہ بہت غصے میں دفتر میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرنے کا انداز ظاہر کررہا تھا جیسے کسی سے لڑ جھگڑ کر آیا ہو۔ آتے ہی کہنے لگا، یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم لوگ کیا نئے نئے اصول بناتے ہو؟ ناک میں دم کرکے رکھا ہے۔ یہ رپورٹ دو، وہ رپورٹ لکھو۔ ہم لوگ اپنا بھی کوئی کام کرسکتے ہیں یا پھر صرف آپ جیسے دفتری لوگوں کی فرمائشیں پوری کریں؟’ وہ بولتا ہی چلا گیا۔

ٹیم لیڈر نے اس کی طرف دیکھا، اور کہا، ‘کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟’

اس نے پھر بھنا کر کہا، ‘ارے ایک مسئلہ ہو تو بتاؤں۔ تم لوگ ہر روز نئے نئے مطالبے کرتے ہو۔ کام میں روڑے اٹکاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’ وہ پھر وہی رونا شروع ہوگیا۔

‘ٹھیک ہے، ہم دیکھتے ہیں، کیا مسئلہ ہے۔ آپ ناراض نہ ہوں۔’ ٹیم لیڈر نے اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

‘ارے پریشان ہوتی ہے میری جوتی۔ میں کیوں‌ پریشان ہوں بھلا؟ میں تو تم لوگوں کو یہ بتانے آیا ہوں کہ مجھے اپنا کام کرنے دو، یہ فضول کے نئے نئے طریقہ کار میرے لئے درد سر ہیں۔’

دفتر میں بیٹھے باقی سارے لوگ اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کچھ ادھیڑ عمر پرانے کھلاڑی ایک دوسرے کو اشاروں سے آگاہ کررہے تھے، کہ اب ٹیم لیڈر کی خیر نہیں۔ آفس بوائے بھی سارے کام چھوڑ کر کیبن کے باہر کان لگا کر کھڑا تھا۔ ٹیم لیڈر کے ساتھ بیٹھے معاونین بھی اس نئی صورتحال پر پریشان تھے۔ احتجاج کرنے والا ان کا اپنا ساتھی تھا، لیکن دفتر کے دوسرے سیکشن میں کام کرتا تھا۔

ایک معاون نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، ‘جناب یہ تو نئے سسٹم کا تقاضا ہے۔ اس طرح آپ کمپنی کے اصولوں کے مطابق عمل کرتے ہیں تو سب کا فائدہ ہوتا ہے۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ سب کو کام میں‌ آسانی ہو۔ پھر بھی ہم کوشش کریں گے، آپ کی بات اعلیٰ افسران تک پہنچائیں گے۔’
‘جی بالکل، جناب کی شکایت بجا ہے۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا، کہ اس طرح کام میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔’ دوسرے معاون نے شکایت کنندہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔
‘میں بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اس نئے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔’ تیسرے معاون نے بھی سر کجھاتے ہوئے کہا۔

ٹیم لیڈر بھی بے بس ہوگیا۔ کہا، ‘ٹھیک ہے، ہم آپ کی بات نوٹ کرکے اپنے سینئر افسران کو پہنچادیں‌گے۔’

یہ سن کر شکایت کنندہ نے سب کی طرف دیکھا اور باہر نکل گیا۔

اس کے جانے کے بعد ٹیم لیڈر نے میز پر پڑے ہوئے ٹرے کو ہاتھ سے دھکا دے کر نیچے پھینک دیا۔ ‘ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو؟ بڑا آیا بڑھکیں مارنے والا!’

‘ارے بہت ہی فضول قسم کا بندہ ہے جناب۔ میرا تو دل کررہا تھا، کہ سیدھا دو تین جڑ دوں اس کے منہ پر۔’ پہلے معاون نے غصے سے کہا۔

‘جناب، میں تو اس سے بولنے ہی والا تھا کہ اپنی بکواس بند کرکے دفع ہوجائے لیکن آپ لوگ اس کو سمجھا رہے تھے تو میں نے بھی اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔’ دوسرے معاون نے میز پر پڑے کاغذات کو درست کرتے ہوئے کہا۔

تیسرا معاون اپنی کرسی سے اٹھ کر فرش پر پڑے ٹرے کو اٹھانے لگا جو ٹیم لیڈر نے غصے میں نیچے پھینک دیا تھا، اور کہنے لگا، ‘ اگر وہ دوبارہ آیا تو میں اس کو ایسا جواب دوں گا کہ یاد رکھے گا۔’

میں اس ساری کارروائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ ساری باتیں سن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور پوچھا، ‘ آپ لوگوں نے یہ باتیں اس بندے کے سامنے کیوں‌ نہیں کی؟’

‘ارے تو تم بول دیتے نا۔ منہ میں زبان نہیں تھی کیا؟’ ٹیم لیڈر نے پھنکار کر میری عزت افزائی کی۔

‘یہ کیا بولیں گے جناب، ہم پر طنز کرتا رہتا ہے۔’ پہلے معاون نے حسبِ معمول ہاں میں ہاں ملائی۔

‘بزدل کہیں کا۔’ دوسرے معاون نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا مناسب سمجھا۔

‘ڈرپوک کہیں کا۔’ تیسرے معاون نے بھی مجھے خونخوار نظروں سے دیکھا۔

(میری یہ تحریر 21 جنوری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی۔)

انقلاب زندہ باد!!!


چوک پر حشر بپا تھی۔ لوگ جلوس کی شکل میں جمع ہورہے تھے۔ نعرے لگ رہے تھے، انقلاب زندہ باد، انقلاب انقلاب۔ کچھ نوجوان دیوانہ وار ان نعروں کی پکار سے لوگوں کے جذبات گرما رہے تھے۔ میں نے دیکھا، حدِ نظر تک لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

جلوس آہستہ آہستہ جلسے کی شکل اختیار کرگیا۔ کچھ افراد کو کندھوں پر بٹھا کر چوک میں قائم اسٹیج تک پہنچایا گیا۔ نعروں کا زور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اسٹیج پر عوام کا لیڈر ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہا تھا، جس سے نوجوانوں‌ کا جوش و خروش اور بھی بڑھ رہا تھا۔

اسٹیج کے ایک کونے میں عوامی دولت لوٹنے والے کھڑے تھے، ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ ان کو اپنا انجام صاف نظر آرہا تھا۔ عوامی لیڈر نے اب تقریر شروع کردی تھی۔ لوگ خاموشی سے سن رہے تھے۔ بیچ میں نوجوان نعرے بھی لگاتے۔ عوامی لیڈر نے عوام کی تعریف کی کہ ان کی قربانیوں کی بدولت اتنا بڑا انقلاب آیا ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی جب عوامی لیڈر نے کہا، ‘اب اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہوگا، اب غریب کیک کھائے گا، جاگیردار کھیتوں میں کام کریں گے۔ کوئی بھی قوم کی دولت لوٹ نہیں سکے گا۔ کرپٹ اراکین پارلیمنٹ کو سزا کے طور پر اسلام آباد میں سائیکل رکشہ چلانا پڑے گا اور ان رکشوں میں عوام سفر کرکے ان کرپٹ عناصر کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔’

عوامی لیڈر کچھ اور بھی کہہ رہا تھا، لیکن مجھ سے رہا نہ گیا اور جوش میں آکر نعرے لگانے شروع کردئیے، انقلاب زندہ باد!!! عوامی لیڈر زندہ باد!!! انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں جلوس میں سے کسی نے مجھے زور سے جھنجھوڑا، اور کہا، یار سونے بھی دو، خواب میں بھی نعرے لگاتے رہتے ہو۔

پھر میری آنکھ کھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

(میری یہ تحریر 15 فروری 2011ء کو پاک نیٹ پر شائع ہوئی تھی۔)

گھوڑا اور گدھا


مجھے بہت پہلے سے شک تھا کہ نواز شریف صاحب کو شاید مزاح نگار بننے کا شوق ہے۔ انتہائی مزاحیہ بات بھی اتنی سنجیدگی سے کرتے ہیں جیسے پی ٹی وی کا خبرنامہ۔ ایک دفعہ کہہ رہے تھے کہ مارشل لاء سے پہلے سب مجھ سے کہہ رہے تھے، قدم بڑھاؤ نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن جب پیچھے دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پیچھے کب دیکھا؟

ابھی پچھلے دنوں میاں صاحب نے ایک بہت پتے کی بات کی ہے۔ کہ آمریت گدھا ہے اور جمہوریت گھوڑا۔ ہم کئی روز اس بات پر غوروفکر کرتے رہے، کہ یہ بات مزاحیہ ہے کہ سنجیدہ۔ بہت سوچنے کے بعد ہم پر جو انکشافات ہوئے وہ آپ کو بھی بتاتے ہیں۔

آمریت گدھا ہے اور جمہوریت گھوڑا۔ گدھا چارہ کھاتا ہے، گھوڑا چنے، نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ مربے کھاتا ہے۔ گدھا ہر وقت مالک کے ڈنڈے کے ڈر سے سیدھا ایک ہی راستے پر چلتا ہے، انکساری، قناعت اور صبر کی تصویر بن کر۔ جبکہ گھوڑا اڑیل ہوتا ہے، نخرے کرتا ہے، کبھی کبھار تانگے میں بیٹھے لوگوں کو سفر کے ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے نہر میں ڈبکیاں بھی لگواتا ہے۔ گھوڑے کی طرح گدھے کے لئے کسی شاہی اصطبل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گدھے کی زندگی سادگی سے عبارت ہے۔ اب عوام کس خوشی میں گھوڑے پالیں؟ اور گھوڑے بھی وہ، جو ہر مرتبہ بولی لگنے پر بِک جاتے ہیں۔

اب نواز شریف صاحب کے بیان کی روشنی میں مشہور سیاسی بیان کچھ یوں‌ بنتے ہیں:

بدترین گھوڑا بہترین گدھے سے ہزار درجے اچھا ہے۔

گھوڑا بہترین انتقام ہے۔

گدھے کی بجائے گھوڑے کی حمایت کریں گے۔ ہالبروک

دھرنا دیتے تو گدھے کے آنے کا خطرہ تھا۔ اعتزاز

عدالتوں کے اختیارات محدود کریں گے تو گدھے آتے رہیں گے۔ چیف جسٹس

سیاسی مزاح نگاری میں نواز شریف کو الطاف بھائی سے بیعت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ان کے جوہر اچھی طرح کھل کر سامنے آجائیں۔ بھائی نے کئی مرتبہ زبردست ایکٹنگ کرکے پنجاب والوں کو سلطان راہی کی یاد دلائی ہے۔ جاگیرداروں کو اس شان سے للکارا کہ اداکار بھی حیران رہ گئے ہوں گے۔ ویسے بھی ایم کیو ایم پنجاب میں آرہی ہے تو بھائی کو پنجابی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ خطاب کے لئے کام آئے، خطاب بھی ایسا جس میں ہر دو تین جملوں کے بعد اوئے جاگیردارا! کا پیوند لگا ہو۔

( یہ تحریر 28 جنوری2011ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

لاہور سے وابستہ چند یادیں – آخری حصہ


لاہور میں کچھ ہفتے نوکری کی تلاش میں گزارنے کے بعد بھی جب کچھ بات نہ بنی تو گھٹن سی ہونے لگی۔ حالانکہ لاہور زندہ دل لوگوں کی جگہ ہے، لیکن میری افتادِ طبع کی وجہ سے میں ایسے ماحول میں آسانی سے ایڈجسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کچھ دنوں بعد کراچی جانے کا ارادہ کرلیا اور جون 2004ء کے اواخر میں کراچی روانہ ہوگیا۔

اس سے پہلے بھی کراچی جا چکا تھا۔ لیکن پشاور سے کراچی بذریعہ بس سفر کیا تھا۔ پشاور سے کراچی تک کا راستہ بس کے ذریعے 22 گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ لاہور نسبتاً کراچی کے زیادہ قریب ہوگا۔ اس لئے اس حساب سے کرایہ بھی کم ہوگا۔

یہی سوچ کر میں لاری اڈہ پہنچا، جو کہ مینار پاکستان کے قریب تھا۔ شام کا وقت ہورہا تھا۔ میں اپنے جس کزن کے پاس لاہور میں ٹھہرا تھا، انہوں نے کچھ پیسے دیئے لیکن میں نے یہ سوچ کر، کہ اتنا کرایہ نہیں ہوگا، واپس کردیئے۔ اگرچہ اس نے زبردستی کچھ رقم دے دی، لیکن مجھے حیرت تھی، کہ میرے پاس کافی رقم (700 روپے) موجود ہے، پھر بھی یہ پیسے دے رہے ہیں کہ ضرورت پڑے گی۔ خیر، لاری اڈہ پہنچ کر کراچی جانے والی بس ڈھونڈنے لگا۔ ایک جگہ ایک بس کھڑی نظر آگئی جس پر کراچی کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس سے پوچھا، کراچی کا ٹکٹ کتنے روپے کا ہے؟ اس نے کہا، 660 روپے کا ہے۔

یہ سن کر میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میں نے کہا، بھائی، اتنا زیادہ؟ بولا، 660 سے کم میں نہیں ملے گا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں کسی اور بس میں چلا جاتا ہوں۔ یہ سن کر اس بندے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ مجھے تھوڑی حیرت ہوئی، لیکن اس کو نظرانداز کرکے وہاں سے نکل پڑا۔ پورا لاری اڈہ چھان مارا لیکن کہیں سے بھی کراچی کی دوسری بس نہ مل سکی۔ تھکا ہارا واپس اسی جگہ پہنچا تو دیکھا، اب اسی جگہ پر صادق آباد جانے والی بس کھڑی ہے۔

اب کی بار اس سے پوچھا، بھائی یہاں پر کراچی جانے والی بس تھی۔ کہنے لگا، وہ تو چلی گئی، لیکن اگر تمہیں کراچی جانا ہے تو یہ بس صادق آباد کے بعد کراچی جائے گی۔ ٹکٹ وہی 660 روپے ہوگا۔ میں مجبوراً راضی ہوگیا۔ اور پیسے دے کر ٹکٹ لی اور بس میں بیٹھ گیا۔ رات کے تقریباً بارہ بجے لاہور سے نکلے۔ راستے میں بہت سارے علاقے اور شہر آئے، جو کہ اب یاد نہیں۔ البتہ صبح کی نماز کے وقت بہاولپور پہنچے۔

جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں میرے پاس 700 روپے تھے جو کہ کرایہ ادا کرنے کے بعد 40 روپے رہ گئے تھے، اس لئے ناشتہ ہلکا پھلکا سا کیا۔ تھوڑی دیر بعد بس وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بہاولپور سے آگے سڑک خراب تھی، لیکن ڈرائیور جیسے Desert Safari کے موڈ میں تھا۔ بس کو ایسے بھگا رہا تھا کہ کئی مقامات پر حادثات سے بال بال بچے۔

صبح 10 بجے کے قریب رحیم یار خان پہنچے، پھر وہاں سے صادق آباد روانہ ہوگئے۔ صادق آباد پہنچ کر بس ساری کی ساری خالی ہوگئی۔ میں اور دیگر 3 مسافر رہ گئے جو کراچی جانے والے تھے۔ بس کنڈکٹر نے ہم سے کہا، ہم آپ کو دوسری بس میں بٹھا دیتے ہیں۔ باقی مسافر نہ مانے اور انہوں نے بس والوں سے پیسے لے لئے۔ میں نے سوچا، دوسری بس مل رہی ہے تو پیسے لے کر کیا کرنا۔ تھوڑا آگے جاکر بس رکی، کنڈکٹر نے مجھے اور باقی مسافروں کو اترنے کو کہا، میں یہ سمجھ رہا تھا، کہ بس کنڈکٹر ہمارے ساتھ جائے گا۔ کیونکہ وہ بس سے نیچے اترگیا تھا، اور بس ڈرائیور سے پنجابی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ لیکن اچانک بس روانہ ہوگئی اور کنڈکٹر بھی بھاگم بھاگ بس میں سوار ہوکر وہاں سے چلا گیا۔

میں پریشان ہوگیا۔ 40 روپے سے تو ایک وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں، سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر کھڑے ہوکر کیا کریں؟ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ پھر سامنے بس اڈہ میں ایک دوسری بس سروس والوں کے آفس میں جا کر کراچی کا ٹکٹ دکھایا، اور ان سے پوچھا کہ یہ ٹکٹ جس بس سروس کا ہے، ان کا آفس کدھر ہے؟ انہوں نے پوچھا، کیا کام ہے؟ میں نے پوری بات بتادی۔ کہنے لگا، یہ ٹکٹ ہمیں دے دو، اس کے بدلے ہم تمہیں کراچی کا ٹکٹ دے کر اپنی بس میں بھیج دیں گے۔ میں نے کہا، میرے پاس پیسے نہیں۔ کہنے لگے، پیسے نہیں چاہیئے، یہ ٹکٹ دے دو، اس کے ذریعے ہم ان بس والوں سے پیسے لے لیں گے۔

میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ فوراً ان کو ٹکٹ دے کر دوسری ٹکٹ لے لی۔ پوچھا، بس کتنے بجے روانہ ہوگی، کہنے لگے، یہی کوئی 2 گھنٹہ بعد۔ 2 گھنٹے کی بجائے بس 10 گھنٹے بعد روانہ ہوگئی۔ اس دوران جو 40 روپے جیب میں تھے، وہ بھی گرمی کی وجہ سے کبھی پانی کبھی جوس پی کر ختم شد۔

بس شام 7 بجے کے قریب صادق آباد سے روانہ ہوگئی۔ صبح کے تقریباً 6 بجے کراچی پہنچے۔ سہراب گوٹھ کے قریب بس سے اترا۔ اب آگے جانے کے لئے جیب میں صرف 5 روپے تھے۔ میں بس سے اتر کر سوچ رہا تھا کہ کیا کروں؟ اتنے میں ایک ٹیکسی والا آیا اور پوچھا، کہاں جانا ہے؟ میں نے ایڈریس بتایا۔ کہنے لگا، چلو۔ میں نے کہا میرے پاس ابھی پیسے نہیں۔ گھر پہنچ کر دیتا ہوں۔ کہنے لگا، کوئی بات نہیں، تم نہ بھی دو تو میں نہیں مانگتا۔

میں نے صرف ملیر کا نام سنا تھا۔ میرے پاس اپنے رشتہ داروں کا فون نمبر تھا۔ اس ٹیکسی والے نے فون کرکے جگہ کا پتا کیا اور مجھے وہاں‌ تک لے کر گیا۔ بعد میں بڑی مشکل سے اس کو پیسے لینے پر راضی کیا۔

میں سوچ رہا تھا، اگر کراچی میں لسانی اور سیاسی مفادات کی جنگ لڑنے والے ہم لوگوں پر رحم کریں تو کراچی پاکستانیوں کے لئے کسی جنت سے کم نہیں۔

( یہ تحریر 19 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

لاہور سے وابستہ چند یادیں – دوسرا حصہ


مینارِ پاکستان سے سیدھا بادشاہی مسجد پہنچا۔ مسجد کے ساتھ علامہ اقبال کا مزار دیکھ کر پہلے وہاں جانے کا سوچا۔ مزار کے احاطے میں داخل ہو کر فاتحہ پڑھا، دعا کی۔ اس کے بعد کچھ دیر کھڑے ہو کر اس عظیم ہستی کی قبر کی طرف دیکھتا رہا۔ کیسے کیسے لوگ یہ زمین نگل گئی ہے؟ وہ لوگ جو کسی قوم کا سرمایہ افتخار ہوتے ہیں، جو غلامی کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر اپنے ہم وطنوں کو منزل کی طرف گامزن رہنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس شمع کی طرح، جو خود اپنے وجود کو ختم کرکے روشنی پیدا کرتی ہے۔

ان خیالات میں بھٹکتا بھٹکتا 1940ء کے اس دن کو تصور میں دیکھنے لگا، جب اقبال کے مزار کے سامنے پاکستان کا مطالبہ ہورہا تھا۔ میں تصور میں دیکھ رہا تھا، اقبال کی روح کتنی خوش ہورہی تھی۔ مسلمانانِ ہند کے لئے اس نے جو خواب دیکھا تھا، آج اس کی تعبیر میں پہلا قدم اٹھایا جارہا تھا۔

مزار اقبال سے نکل کر بادشاہی مسجد گیا۔ مسجد کے اندر داخل ہو کر اس کی قدامت کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔ اگرچہ صفائی کا خیال رکھا گیا تھا، البتہ جو تصور میرے ذہن میں تھا، مسجد اس سے بہت خستہ حالت میں لگ رہی تھی۔ یا پھر یہ میرے تصور کی خامی تھی۔ مسجد میں ملک بھر سے آئے ہوئے لوگوں کا رش تھا۔ کوئی تصاویر کھینچ رہا تھا، کوئی مسجد کے دالان میں تپتی دھوپ میں کھڑا اپنے دوستوں سے کہہ رہا تھا، خیال رکھنا، تصویر میں گنبد نظر آنی چاہیئے۔

بادشاہی مسجد سے نکل کر گرمی میں کہیں اور جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں اگر چہ تنہائی پسند ہو لیکن گھومنے پھرنے میں اکیلے اکتاہٹ محسوس کرتا ہوں۔ اس لئے باہر نکل کر سڑک کے کنارے لگے اسٹال سے گنے کا جوس پیا، اور گاڑی میں بیٹھ کر گھر روانہ ہوگیا۔

گاڑی سے اتر کر پھر پیاس لگی، سامنے ایک جگہ ”آم کا جوس“ لکھا دیکھ کر وہاں گیا۔ ایک ادھیڑ عمر کا شخص جوس بنا رہا تھا۔ مجھ سے پہلے دو افراد کھڑے جوس بننے کا انتظار کررہے تھے۔ جوس والے نے جوس بناتے ہوئے نیچے سے ایک ڈبا نکالا اور جوسر میں پڑے آم کے ساتھ ڈبے والا جوس بھی ڈال دیا۔ وہ لوگ جو کہ انتظار کررہے تھے، یہ دیکھ کر اس باباجی سے الجھ پڑے، کہ یہ تو آپ ٹھیک نہیں کررہے۔ آم کے جوس کے نام پر ڈبے کا جوس پلا رہے ہو۔ بابا جی بھی اپنی صفائیاں دے رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے اپنا ارادہ بدل دیا، اور وہاں سے چل پڑا۔

(جاری ہے)

( یہ تحریر 18 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

لاہور سے وابستہ چند یادیں


بسم اللٰہ الرحمٰن الرحیم

2004ء میرے لئے ایک نہایت اہم سال تھا۔ میں روزگار کی تلاش میں کئی شہروں کا سفر کررہا تھا۔ جگہ جگہ نوکری کے لئے درخواستیں دیتا رہا۔ لیکن مطلوبہ تجربہ نہ ہونے کی بناء پر انکار کا سامنا کرنا پڑتا۔ مسلسل ڈیڑھ سال تک کوشش کرنے کے بعد بھی جاب نہ ملنے پر اگرچہ بہت مایوس تھا، لیکن اس کوشش کے دوران پاکستان کے کئی شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا۔

پہلی مرتبہ لاہور 2003ء کے اواخر میں گیا تھا۔ لیکن وہ ایک مختصر سفرتھا۔ شہر کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ دوسری مرتبہ 2004ء کی گرمیوں میں گیا تھا۔ اس بار ارادہ کیا تھا، کہ مصروفیات سے وقت نکال کر شہر کی ایک جھلک دیکھ لی جائے۔ ویسے بھی یار لوگ کہتے ہیں، جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ تو یہ شرط پوری کرنے کے لئے لاہور کی ایک مختصر سیر کا ارادہ کیا۔ ”لاہور کا جغرافیہ“ پڑھ کر دل میں خواہش تو ضرور تھی، لیکن فی الوقت لاہور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا ارادہ تھا۔

چنانچہ سب سے پہلے مینار پاکستان جانے کا ارادہ کیا۔ میں اپنے کزن کے پاس ٹھہرا تھا، جن کی رہائش قصور روڈ پر تھی۔ وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر مینارِ پاکستان کی طرف روانہ ہوگیا۔ مینارِ پاکستان پہنچ کر پہلے تو پارک میں اِدھر اُدھر ٹہل کر محظوظ ہوتا رہا۔ پارک کے اس طرف بادشاہی مسجد کے مینار نظر آرہے تھے۔ سڑک پر رواں گاڑیوں کا دھواں اگرچہ منظر کو دھندلا کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن بادشاہی مسجد کے مینار جیسے فخر سے سر اٹھائے مینار پاکستان کی طرف دیکھتے ہوئے اس لمحے کی یاد تازہ کررہے تھے، جب قراردادِ پاکستان منظور ہوئی تھی۔

کچھ دیر بعد مینار پاکستان کے پاس گیا۔ پتا چلا، مینار کے اوپر جانے کے لئے 10 روپے کا ٹکٹ ہے۔میں نے پوچھا، ٹکٹ کس لئے؟ جواب ملا، لفٹ استعمال ہوتا ہے اس لئے۔ خیر، ٹکٹ لے کر لفٹ کے پاس گیا، تو دیکھا سارے لوگ سیڑھیوں سے اوپر جارہے تھے۔ یعنی لفٹ کام نہیں کررہی تھی۔ اس لئے ہم بھی چاروناچار سیڑھیوں کے ذریعے اوپری منزل پر جانے لگا۔ اوپر بالکونی میں شہر کا نظارہ بہت ہی عجیب تھا۔ لوگوں کا کافی رش تھا۔ کچھ دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد واپس نیچے آیا۔

پارک میں جگہ جگہ فوٹوگرافر کھڑے ہو کر سیاحوں کو تصاویر کھینچنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ایک فوٹوگرافر میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا، ہاں بھئی تصویر کھنچوانی ہے؟ میں نے پوچھا، کتنے روپے لگیں گے؟ بے روزگار بندے کو ویسے بھی پوچھنا پڑتا ہے۔ اس نے کہا، 1 فوٹو کے 10 روپے۔ میں نے کہا، ایک فوٹو کے؟ کہنے لگا ہاں۔

میں نے سوچا، مینارِ پاکستان آنے کی کوئی یادگار تو ہونی چاہیئے۔ اس لئے ایک تصویر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس نے ایک تصویر کھینچی۔ میں نے جیب سے 10 روپے نکال کر اس کو دئیے۔ کہنے لگا، بھائی ابھی تو 9 تصویریں باقی ہیں۔ میں حیران ہوگیا، یہ کیا چکر ہے؟ میں نے کہا، بھائی آپ نے تو ایک تصویر کا کہا تھا، کہنے لگا، ہاں کہا تھا، لیکن ایک تصویر کےلئے میں باقی 9 تصاویر کا کیا کروں؟؟

مجبوراً باقی تصاویر بھی کھینچ لیں۔ اور اس کو 100 روپے دے کر اپنے آپ کو کوستا ہوا چل پڑا۔ فضول میں 100 روپے ضائع ہوگئے۔ آج جب بھی وہ تصاویر دیکھتا ہوں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ واقعی لاہور والے بڑے زندہ دل ہیں۔

(جاری ہے)

( یہ تحریر 17 دسمبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

گدھوں کا اجلاس اور حاسدین کا پروپیگنڈا


ہم نے گدھوں کے اجلاس کی کارروائی کیا نشر کردی، ایسے لگتا ہے یار لوگوں کو ایک موقع مل گیا اس بندہ ناچیز کو پھنسانے کا۔ کوئی کہتا ہے ایسے لگ رہا ہے جیسے ہم نے پاکستانی پارلیمنٹ کی بات کی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔۔۔ کسی صاحب کو لگ رہا ہے کہ گدھوں کے اجلاس میں گدھے ہی جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لئے ایک معاصر اردو فورم پر میری اس تحریر پر تبصرے میں مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ وہاں کیا کرنے گئے تھے؟ رپورٹنگ کے لئے یا دعوتِ خاص تھی؟

ہمیں پہلے ہی شک تھا کہ لوگ ہماری صلاحیتوں سے جلتے ہیں، اس لئے معصومانہ انداز میں یہ مشورے بھی دئیے گئے کہ گدھوں پر لکھی گئی تحریر میں پاکستانی سیاستدانوں کو بھی تھوڑی سی جگہ دی جائے۔ یعنی تحریر نہ ہوئی کسی غریب کی میت ہوگئی، جس کی قبر کے لئے تھوڑی سی جگہ کی درخواست کی جاتی ہے۔ ویسے یہ بھی اچھا طریقہ ہے کسی سیدھے سادے بندے کو پھنسانے کا۔ ہم اپنی تعریف دیکھ کر خوش ہوجائیں گے اور ایک اور تحریر لکھ ماریں گے۔ پھر کیا ہوگا؟ اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودنا ہے یہ تو۔

ہم نے لاکھ سمجھایا، کہ بھئی ہمیں‌ ‘باخبر اور باوثوق ذرائع’ سے اطلاع ملی ہے، لیکن کوئی یقین کرنے کو تیار ہی نہیں۔ الٹا کہتے ہیں باخبر ذرائع ہمیشہ جھوٹ ہی نکلتے ہیں۔ اب اس کا ایک ہی حل ہے کہ شک کرنے والوں کو بنفس نفیس اگلے اجلاس کی کارروائی کی کوریج کرنے کے لئے بھیج دیا جائے، تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ گدھوں کے اجلاس میں کیا ہوتا ہے!

ہمیں جن باوثوق ذرائع سے اس اجلاس کی کارروائی کی خبر ملی تھی، اس میں یہ بات بھی صد فی صد یقینی ہے کہ اجلاس کے بعد فیقے کے کھیت کا چارہ بطورِ تواضع گدھوں کے لئے پیش کیا گیا تھا، کیونکہ گدھے چارے کی لالچ کے بغیر کوئی کام نہیں‌ کرتے۔ اس پر یار لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں، جو ہمیں اپنے ذرائع سے پہنچ جاتی ہیں۔ ہمیں تو اس پر یہی کہنا ہے کہ ایسے لوگ شائد فیقے سے ہمدردی رکھتے ہیں، اس لئے ‘خاطر تواضع’ کا سن کر ان کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔

ہمیں پتا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں میں جاگیردار ملوث ہیں، کیونکہ وہ فیقے کے برادری کے لوگ ہیں۔ ہم اس تحریری نوٹس کے ذریعے اپنے ان حاسدین کو متنبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی حرکتوں سے باز آجائیں، بصورتِ دیگر گدھوں کے اگلے اجلاس کے بعد سارے گدھے جلوس کی شکل میں خاطر تواضع کے لئے ان جاگیرداروں کے کھیتوں کا رخ کرسکتے ہیں۔ جاگیردار سن لیں! اب ان کی من مانی نہیں چلے گی۔ بس ایک اجلاس کی دیر ہے!

( یہ تحریر 28 اکتوبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

گدھوں کا اجلاس


‘ ڈھینچوں ڈھینچوں ۔۔۔۔۔۔ بستی کے سارے گدھے متوجہ ہوں! ایک ضروری اعلان ہے۔ کل دوپہر بستی کے سارے گدھے ایک نہایت اہم معاملے پر منعقد کی جانے والی اجلاس میں حصہ لینے کے لئے ہائی اسکول کے پچھواڑے میں واقع کھیت میں پہنچ جائیں۔ یاد رہے سب کی شرکت لازمی ہے۔ غیر حاضری کی کوئی گنجائش نہیں۔ بغیر کسی عذر کے غیرحاضر رہنے والے گدھے کو بطور سزا گامے کمہار کے حوالے کرکے باربرداری کی سخت مشقت میں ڈالا جائے گا! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈھینچوں ڈھینچوں ۔۔۔ نیز اجلاس کے بعد شرکاء کی خاطر تواضع فیقے چاچا کی کھیت کے تازہ چارے سے کی جائے گی۔’
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــ

اجلاس کا آغاز نہایت گھمبیر ماحول میں ہوا۔ بستی کے تقریباً سارے گدھے مقررہ وقت پر پہنچ گئے تھے۔ آج کا اجلاس ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا۔ اس میں بہت سارے مسائل پر بحث ہونی تھی۔ گدھوں کا سردار نہایت سنجیدہ موڈ میں بیٹھا ہوا تھا۔

سیکرٹری گدھے نے ایجنڈا پڑھ کر سنایا۔ پہلا موضوع بحث جدید ٹرانسپورٹ اور مشینوں کی وجہ سے گدھوں کی بے روزگاری کا تھا۔ صدر مجلس کی اجازت سے گدھوں نے باقاعدہ بحث شروع کی۔

‘معزز گدھو! آج یہ مسئلہ نہایت گھمبیر صورت اختیار کرچکا ہے۔ ہمارے ہنر مند اور جوان گدھے موجودہ دور کے ہر ہنر کے باوجود بے روزگار ہورہے ہیں۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ جدید مشینی دور نے ہم سے ہمارا روزگار چھین لیا ہے۔ نئی نسل بے روزگاری کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے۔ اور آج کل کھیتوں پر ڈاکے ڈال کر فصل کی ایسی تیسی کردیتے ہیں۔
ہم انسان سے پوچھنا چاہتے ہیں، آخر ہم لوگوں کے ٹیلنٹ میں ایسی کیا کمی ہے کہ مشینوں کو ہم پر فوقیت دی جارہی ہے؟ کیا ہم وفادار نہیں؟ ایک بار جس راستے پر مالک لے جائے، دوبارہ اس کے ڈنڈے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم سے روزی روٹی چھین کر انسان خوش رہ سکے گا کیا؟ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’ ابھی گدھا جوش خطابت میں مزید کچھ کہنا چاہتا تھا کہ صدر مجلس نے اشارے سے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کردیا۔
‘ایجنڈے کے دوسرے نکتے پر بحث شروع کی جائے!’ گدھوں کے سردار نے کہا، جو کہ ایک ایک ضعیف العمر اور جہان دیدہ گدھا تھا۔

‘جناب، اس اجلاس کا اہم نکتہ جس پر ہم سب گدھوں کو نہایت تشویش ہے، وہ یہ ہے کہ آج کل انسان اپنی آپس کی دشمنیاں نکالنے، دوسرے انسانوں کا مذاق اُڑانے اور ان کو نیچا دکھانے کی خاطرایک دوسرے کو گدھا کہہ کر بلاتے ہیں۔ ہم اس نا انصافی پر شدید احتجاج کرتے ہیں اور انسانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی جملہ بازی سے گدھوں کی عزت نفس مجروح نہ کریں۔
اور تو اور، پچھلے دنوں تو حد ہوگئی۔ انسانوں نے کرکٹ کھلاڑیوں سے نفرت اور غصے کا اظہار کرنے کی خاطر ہمارے چند بھائیوں کو پکڑ کر ان کے نام ان کرکٹرز کے ناموں پر رکھ کر گدھوں کی پوری برادری کی توہین کی ہے۔ ہم اس بات پر شدید احتجاج کی اپیل کرتے ہیں، اور صدر مجلس سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کو مناسب فورم پر اٹھایا جائے۔’ ایک جوشیلے گدھے نے اپنی تقریر ختم کرکے باقی گدھوں‌کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھا۔ سارے گدھوں نے ڈھینچوں ڈھینچوں کرکے اس کی تائید کی۔

اس کے بعد ان گدھوں کو اجلاس میں پیش کیا گیا، جن کو کرکٹ شائقین نے احتجاج کے دوران پکڑ کر ریلی نکالی تھی۔ صدر مجلس نے ان کی طرف خونخوار نگاہوں سے دیکھا اور کہا، ‘ ارے گدھو! تم نے ہماری ناک کاٹ ڈالی۔ گدھوں کی عزت کا ذرا بھی خیال نہیں کیا تم لوگوں نے؟ کم از کم اپنی دولتی مار کر تو اپنے غصے کا اظہار کرسکتے تھے۔ انسان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بننے سے پہلے سوچا تو ہوتا۔ ارے ان بدنام انسانوں کا کردار نبھا کر آگئے تم لوگ؟ تم لوگوں کو معلوم نہیں ہے گدھے کی عزت نفس کیا ہوتی ہے؟ گدھا کبھی بے وفائی نہیں کرتا۔ مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا۔چاہے مالک کتنا بھی مارے پیٹے۔ یہ انسان اس درجے تک کب پہنچ سکتے ہیں؟’

وہ گدھے معصوم سی صورت بنا کر کھڑے دُم ہلا رہے تھے۔ ایک گدھے نے دوسرے کے کان میں سرگوشی کی اور کہا، ‘یار یہ بڈھا تو بہت بول رہا ہے۔ ہم کو اگر کرکٹرز کی جگہ گھمایا جاسکتا ہے تو ان کو بھی تو اس ریلی میں کوئی رول ملنا چاہیئے تھا نا!’ دوسرا گدھا الجھن میں پڑ گیا، ‘ لیکن کیا رول دینا چاہیئے تھا؟’ ارے یار، ان کرکٹرز کا کوئی بڑا بھی ہوگا نا ہمارے اس بڑے گدھے کی طرح، جو صرف باتیں بنانا جانتا ہے۔’

اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی، جس کے اہم نکات مندرجہ ذیل تھے:
1۔ اس مشینی دور میں گدھوں کی بے روزگاری کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان گدھوں کے لئے خصوصی امداد کا اعلان کرے اور گدھوں کے لئے مفت چارے کا بندوبست کیا جائے۔
2۔ انسان اپنی آپس کی رنجشوں میں گدھوں کو نفرت کا نشانہ نہ بنائے۔ گدھے اس مذموم فعل پر احتجاج کرتے ہیں اور اگر اس طرح کی حرکتیں بند نہ کی گئیں تو گدھے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کھڑی فصلوں کو اپنا نشانہ بنائیں گے۔ پھر سارے فساد کی ذمہ داری انسانوں پر عائد ہوگی۔

اس کے بعد اجلاس برخاست کیا گیا۔ حسبِ روایت اس بار بھی گدھوں کی تواضع فیقے چاچا کی کھیت میں کھڑے فصل سے کی گئی۔ ابھی یہ پارٹی جاری تھی کہ فیقا دور پگڈنڈیوں پر دوڑتا ہوا نظر آیا۔ گدھوں کے سردار نے ڈھینچوں ڈھینچوں کرکے سارے گدھوں کو خطرے سے آگاہ کیا۔ فیقا ان کو گالیاں بک رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں ڈنڈا اس بات کا اشارہ تھا کہ اس کے ہاتھ لگنے والے گدھے کا آج بہت برا حشر ہوگا۔

( یہ تحریر 23 اکتوبر 2010ء کو میرے ورڈ پریس پی کے بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ ورڈپریس پی کے بند ہونے کے بعد یہاں پر شائع کررہا ہوں۔)

%d bloggers like this: