Tag Archives: احتجاج

احتجاج


میرا منیجر ہر وقت مجھے ڈانٹتا رہتا ہے۔ میرے کام میں کچھ نہ کچھ نقص نکالتا رہتا ہے۔ یہ کردیا تو وہ کیوں نہیں کیا، وہ کام کیا تو ٹھیک سے کیوں نہیں کیا۔ غرض یہ کہ تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال بنتی جارہی ہے۔

آج تو حد ہوگئی۔ فیکٹری میں سارے ساتھیوں کے سامنے بہت برا بھلا کہا۔ کہنے لگے، اعجاز! میں نے کہا تھا کہ یہ کام وقت پر مکمل ہونے چاہیئے، تمہیں کچھ احساس ہے کہ نہیں۔ میں ہمیشہ کی طرح سر جھکائے کھڑا سنتا رہا۔ صفائی دینے کی کوشش کی تو کہنے لگے، یہ بہانے اپنے پاس رکھو۔

دوپہر کو لنچ بریک کے دوران میں سوچوں میں گم تھا۔ سوچا، اب میں چپ نہیں رہوں گا۔ اپنی آواز باقی لوگوں تک پہنچاؤں گا۔ میرے بھی کچھ حقوق ہیں، میں اب اپنی حق تلفی برداشت نہیں کروں گا۔ اب اس نا انصافی اور جانبدارانہ سلوک کے خلاف احتجاج کروں گا۔

اپنے دل میں فیصلہ کرکے میں کام پر واپس جانے کی بجائے سیدھا فیکٹری کے سامنے سڑک پر جا کر کھڑا ہوگیا۔ اور گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے شروع کردیئے، میرا منیجر! ہائے ہائے، میرا باس مردہ باد، ظلم کے ضابطے میں نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں جا رہی تھیں، لوگ مجھے دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور آہستہ آہستہ ہجوم بڑھتا گیا۔ ہماری فیکٹری کے ساتھی بھی میرے ساتھ آ کر کھڑے ہوگئے اور نعرے لگانے میں میرا ساتھ دینے لگے۔ پھر میں نے دیکھا، پریس والے کیمرے ہاتھ میں لئے ہماری طرف آرہے تھے؛ ان کو دیکھ کر میں نے اور زور سے نعرے لگانے شروع کردئیے۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ میرا منیجر فیکٹری سے نکل کر ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگنے آئے گا اور کہے گا، میں اپنے رویئے پر بہت شرمندہ ہوں، مجھے معاف کردو۔

ہجوم میں سے کوئی مجھے آواز دے رہا تھا، اعجاز! اعجاز! چلو کام پر جانے کا وقت ہوگیا ہے۔ میں نے کہا، اب تو میں فیکٹری تب جاؤں گا، جب وہ گنجا یہاں آکر مجھ سے معافی مانگے گا۔ یہ کہنا تھا کہ کسی نے مجھے کندھے سے جھنجھوڑ کر کہا، ارے نالائق! معافی مانگے میری جوتی! تم ابھی تک یہیں بیٹھے ہوئے ہو؟ کام چور!

میں نے آس پاس دیکھا تو کیفے ٹیریا خالی ہوچکا تھا، اور میرا منیجر میرے سامنے کھڑا غصے سے لال پیلا ہورہا تھا۔

Advertisements
%d bloggers like this: