Tag Archives: مشرف

جمہوری آمریت یا فوجی جہموریت


منتخب عوامی حکومتوں کو گرانے سے ملکوں میں بہتری نہیں آتی، بلکہ انتشار اور انارکی قوم کا مقدر ہوجاتی ہے۔ کم از کم پاکستان کی حد تک ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی منتخب حکومتوں کو ختم کیا گیا، ملک میں سیاسی انتشار، بدامنی اور مہنگائی پہلے کی نسبت بڑھ گئے تھے۔ زیادہ دور نہ جائیں 90 کی دہائی کے حالات دیکھ لیں۔

البتہ ہم پاکستانیوں کو مارشل لاء کی اس قدر عادت ہوچکی ہے کہ جمہوری حکومتوں میں ہمارا دم گھٹتا ہے۔ حالانکہ مارشل لاء کے دور میں (ضیاء اور مشرف) جو مظالم پاکستانی عوام پر ڈھائے گئے، اور جو پالیسیاں بنائی گئیں، ان کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

اجی چھوڑیں، مشرف دور میں ملک ایسا تو نہ تھا، ڈالر کافی سستا تھا، انسان بھی ڈالروں میں بکتے تھے۔

اس لئے عزیز ہم وطنو، جلدی کرو، موجودہ بادشاہت کو ختم کرکے فوجی بادشاہت کی جمہوری اور عوامی حکومت ملک میں نافذ کردو۔

Advertisements

سراب


اپنے دوست کو صبح سویرے مسجد کے باہر اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر پہلے تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ وہ بندہ جو کبھی 9، 10 بجے سے پہلے اٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں بچپن سے ہی جن بھوت سے ڈرتا تھا۔ پہلے تو خیال آیا کہ شائد کوئی جِن میرے دوست کی شکل بنا کر میرے سامنے کھڑا ہے۔ لیکن جب اس نے پاس آکر بات شروع کی، تو یہ وہم ختم ہوگیا۔

"مبارک ہو، نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی ہے۔” اس نے خوشی سے کہا۔
مجھے اس کی بات کا بالکل یقین نہیں آیا۔

پھر اس نے تفصیل سے بتایا۔ یہ 13 اکتوبر 1999ء کی صبح تھی۔ پاکستانی عوام نے حلوے کی دیگیں تقسیم کرکے جنرل مشرف کا استقبال کیا۔ ہر طرف نئی حکومت کی آمد کی خوشی میں عوام پاگل ہو رہی تھی۔ اس وقت مجھے یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ ٹھیک دو سال بعد یہی لوگ سڑکوں پر آکر مشرف حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہوں گے۔

مشرف نے آکر بہت سارے اچھے کام بھی کئے۔ انہوں نے فوجی جوانوں کو سویلین اداروں میں بھی "مدد” کے لئے بھیجا۔ بہت سارے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کئے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان اور اجمل خٹک جیسے لوگ بھی دھوکہ کھا گئے۔ بلاشبہ ابتدائی دنوں میں مشرف نے بد عنوان لوگوں کے خلاف جس طرح کریک ڈاؤن شروع کیا، اس سے یہی لگ رہا تھا کہ پاکستانی قوم کو ایک مناسب لیڈر مل گیا ہے، جو برسوں کی تشنگی دور کرنے کے لئے کافی ہے۔

لیکن معلوم نہیں تھا کہ ہم اپنے مسائل کی صحرا میں سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ 9/11 کے واقعے نے تو پاکستان کی پالیسی کو یوٹرن پر مجبور کردیا۔ وہ لمحے ہمارے لئے ایک بہت ہی نازک مرحلہ تھا، اسکول اور کالج بند کر دیئے گئے۔ عوامی احتجاج کو کچلنے کے لئے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ” سب سے پہلے پاکستان” کے سبز باغ دکھا کر پاکستانیوں سے ان کے خواب چھین لئے گئے۔

سب سے پہلے پاکستان، یہی نعرہ دے کر کیا کچھ نہیں کیا گیا پاکستان کے ساتھ ۔ کچھ بھی فیصلہ ہو، تاویل یہی دی جاتی ہے کہ جناب، یہ فیصلہ وسیع تر قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ ہم نے امریکہ کا ساتھ دے کر کھویا ہی کھویا ہے، پایا کچھ نہیں۔ ہر حکومت کے آنے کے ساتھ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ شاید اس باراچھا ہو۔ شاید اس مرتبہ ہمارے مسائل حل ہوں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اس سیاسی نظام نے آج تک ہمیں کوئی مخلص لیڈر نہیں دیا۔ سارے کے سارے کرپٹ، موقع پرست اور چڑھتے سورج کے پجاری نکلے ہیں۔

آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ کب تک عوام کی خاموش اکثریت، جن کو مشرف اپنا حمایتی سمجھتا تھا، اس ظلم کو برداشت کرتا رہے گا؟ عوام کا باشعور طبقہ کب سامنے آکر ان لٹیروں سے مقابلہ کرے گا؟ شاید ہم سراب کے پیچھے ہی بھاگتے رہیں گے۔

%d bloggers like this: