Tag Archives: پاکستان

جمہوری آمریت یا فوجی جہموریت


منتخب عوامی حکومتوں کو گرانے سے ملکوں میں بہتری نہیں آتی، بلکہ انتشار اور انارکی قوم کا مقدر ہوجاتی ہے۔ کم از کم پاکستان کی حد تک ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی منتخب حکومتوں کو ختم کیا گیا، ملک میں سیاسی انتشار، بدامنی اور مہنگائی پہلے کی نسبت بڑھ گئے تھے۔ زیادہ دور نہ جائیں 90 کی دہائی کے حالات دیکھ لیں۔

البتہ ہم پاکستانیوں کو مارشل لاء کی اس قدر عادت ہوچکی ہے کہ جمہوری حکومتوں میں ہمارا دم گھٹتا ہے۔ حالانکہ مارشل لاء کے دور میں (ضیاء اور مشرف) جو مظالم پاکستانی عوام پر ڈھائے گئے، اور جو پالیسیاں بنائی گئیں، ان کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

اجی چھوڑیں، مشرف دور میں ملک ایسا تو نہ تھا، ڈالر کافی سستا تھا، انسان بھی ڈالروں میں بکتے تھے۔

اس لئے عزیز ہم وطنو، جلدی کرو، موجودہ بادشاہت کو ختم کرکے فوجی بادشاہت کی جمہوری اور عوامی حکومت ملک میں نافذ کردو۔

2060: ملالہ کا پاکستان


معاشرتی علوم کی کلاس کا ایک منظر

پیارے بچوں، آج کی سبق کا عنوان ہے، "ملالہ کی جدوجہد”۔  معاشرتی علوم کے استاد نے چھٹی جماعت کے طلبہ کو کلاس کے آغاز میں بتایا۔

"اچھا تو آپ ملالہ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟” استاد نے طلبہ سے مخاطب ہو کر سوال پوچھا۔

"سر، ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لئے جدوجہد کی۔ اس وقت ملالہ کو طالبان نے اسکول جانے کی وجہ سے گولی ماری، لیکن ملالہ بچ گئی اور پھر اس نے دن رات ایک کرکے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے مہم شروع کی۔” افضال نے ایک ہی سانس میں تفصیل بتاتے ہوئے داد طلب نظروں سے استاد کی طرف دیکھا۔ استاد نے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور شاباشی دی۔

"اس کے علاوہ کسی کو کچھ معلوم ہے ہماری اس لیڈر کے بارے میں؟” استاد نے پھر اپنا سوال دہرایا۔

"سر، ملالہ پاکستان کی وزیر اعظم رہی ہیں۔” اسد نے کھڑے ہوکر استاد کی معلومات میں اضافہ کیا۔

"ٹھیک ہے، آپ لوگ ملالہ کے نام سے واقف ہیں۔ اب اس کی خدمات اور کارناموں کے بارے میں تفصیل سے پڑھتے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی پاکستان کی ایک معروف اور مشہور انسانی حقوق کی کارکن تھیں۔ ان کو زمانۂ طالبعملی میں ہی لڑکیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی بناء پر طالبان نے گولی مار دی۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گئیں اور اس کے بعد انہوں نے اور بھی تندہی سے لڑکیوں کے حق کے لئے آواز بلند کی۔

اس وقت پاکستان پر انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور جہادی ذہن رکھنے والے قدامت پسندوں کی سوچ رکھنے والے لوگوں کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ اگرچہ حکومت میں نہیں تھے، لیکن معاشرے میں ان کی سوچ کافی حد تک سرایت کرچکی تھی۔ یہ لوگ پاکستان کو پتھر کے دور کے قوانین اور رسوم و رواج کی طرف لے جانے کے لئے کوشاں تھے۔

ان حالات کی وجہ سے ملالہ کو پاکستان میں لڑکیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن بھلا ہو ہمارے مغربی دوست ممالک کا، جنہوں نے میڈیا کے ذریعے ملالہ کی مہم کو پذیرائی بخشی اور کئی سال تک ملالہ یورپ میں مقیم رہنے کے بعد واپس پاکستان آئیں۔

پاکستان آکر انہوں نے الیکشن میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے انتخاب جیتنے کے بعد ملک کی دوسری خاتون وزیراعظم بن گئیں۔ انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد سب سے پہلے لڑکیوں کی تعلیم کو لازمی قرار دیا۔”

"سر، اس سے پہلے لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کرسکتی تھیں؟” آصف نے استاد سے سوال کیا۔

” ملالہ کی حکومت سے پہلے پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اور کچھ جگہوں پر جب لڑکیوں کے اسکول بنے تو وہاں پر طالبان نے پابندی لگائی تھی۔ اسی لیے تو ملالہ کو گولی ماری گئی۔ لیکن ملالہ کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر لڑکی تعلیم حاصل کرے تاکہ ملک ترقی کرے۔

اس کے علاوہ دقیانوسی خیالات رکھنے والے لوگوں کی بنائی ہوئی قوانین کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے 2050ء میں دو تہائی اکثریت سے ختم کردیا۔ 1500 سال پہلے کے معاشرے کی قوانین کو اس جدید دور میں لاگو کرنے کے حامی اس اقدام پر بہت سیخ پا ہوگئے اور ملالہ کی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کردئیے، لیکن حکومت نے ایسے شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کا ارادہ کیا تھا اور ان کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیا۔

ان قوانین کی جگہ ترقی یافتہ دور سے مطابقت رکھنے والے قوانین پاس کئے گئے۔ سب سے پہلے پردے پر پابندی لگادی گئی۔ کیونکہ اس کی وجہ سے لڑکیوں کو پسماندہ رکھا جارہا تھا۔ اس کے بعد نصاب سے جہاد سے متعلق تمام آیات نکال دی گئی۔ انتہا پسندوں نے اپنے نظریات نصاب میں شامل کرکے پوری قوم کو دہشت گرد بنانے کی بھر پور کوشش کی تھی، جس کو ملالہ نے ناکام بنادیا۔

اس کے بعد تمام سرکاری اداروں کے ملازمین پر داڑھی رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ کیونکہ اس سے پاکستان کا امیج ایک قدامت پسند ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ اس لئے ملک کے وسیع تر مفاد میں داڑھی رکھنے پر پابندی لگادی گئی۔

اس کے بعد بھی ملالہ اور تعلیم کے دشمن اپنے پروپیگنڈے سے باز نہیں آئے اور انہوں نے سرے سے اس بات کا انکار ہی کردیا کہ ملالہ پر کبھی حملہ ہوا تھا۔ یہ سازشی نظریات والے لوگ تھے، جن کا مقصد لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنا تھا۔ اس لئے پاکستانی پارلیمنٹ نے وسیع تر قومی مفاد میں ایک قانون پاس کیا جس کی رو سے جو شخص ملالہ پر حملے کے واقعے سے انکار کرے گا، اس کو پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا اور اس فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

اس کے علاوہ بھی ملالہ نے پاکستان میں خواتین کی ترقی کے لئے بہت منصوبے شروع کئے۔ انہی خدمات کی بناء پر پاکستانی پارلیمنٹ اب ملالہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک قرارداد پر غور کررہی ہے۔ اس قرارداد کی چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ پاکستان کا نام تبدیل کرکے ملالستان رکھا جائے، کیونکہ پاکستان کے نام سے انتہا پسندی کی بو آتی ہے۔

2۔ ملالہ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستانی کرنسی سے قائد اعظم کی تصویر ہٹا کر ملالہ کی تصویر شامل کی جائے۔

3۔ تمام سرکاری اداروں میں ملالہ کی تصاویر آویزاں کی جائیں۔

4. دینی مدرسوں اورعربی زبان کی تعلیم پر پابندی لگادی جائے کیونکہ جن لوگوں نے ملالہ کو گولی ماری تھی، وہ مدرسے میں پڑھتے رہے تھے۔

5۔ اسلامی نام رکھنے پر پابندی لگادی جائے۔ اب سارے نام پشتو، اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کے ہونے چاہیئے۔

6۔ اردو میں عربی زبان کافی حد تک سرایت کرچکی ہے۔ اس لئے ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو عربی الفاظ کا متبادل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ عربی رسم الخط کا متبادل بھی بناکر پیش کرے۔

امید ہے کہ ملالہ کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے قومی اسمبلی اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرے گی۔”

"تو پیارے بچوں، یہ تھا آج کا معاشرتی علوم کا سبق۔ کل اس سبق سے متعلق ٹیسٹ لیا جائے گا۔ سارے بچے ہوم ورک کر کے آئیں۔” استاد نے کلاس کے اختتام پر طلبہ کو بتایا۔

احتجاج


میرا منیجر ہر وقت مجھے ڈانٹتا رہتا ہے۔ میرے کام میں کچھ نہ کچھ نقص نکالتا رہتا ہے۔ یہ کردیا تو وہ کیوں نہیں کیا، وہ کام کیا تو ٹھیک سے کیوں نہیں کیا۔ غرض یہ کہ تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال بنتی جارہی ہے۔

آج تو حد ہوگئی۔ فیکٹری میں سارے ساتھیوں کے سامنے بہت برا بھلا کہا۔ کہنے لگے، اعجاز! میں نے کہا تھا کہ یہ کام وقت پر مکمل ہونے چاہیئے، تمہیں کچھ احساس ہے کہ نہیں۔ میں ہمیشہ کی طرح سر جھکائے کھڑا سنتا رہا۔ صفائی دینے کی کوشش کی تو کہنے لگے، یہ بہانے اپنے پاس رکھو۔

دوپہر کو لنچ بریک کے دوران میں سوچوں میں گم تھا۔ سوچا، اب میں چپ نہیں رہوں گا۔ اپنی آواز باقی لوگوں تک پہنچاؤں گا۔ میرے بھی کچھ حقوق ہیں، میں اب اپنی حق تلفی برداشت نہیں کروں گا۔ اب اس نا انصافی اور جانبدارانہ سلوک کے خلاف احتجاج کروں گا۔

اپنے دل میں فیصلہ کرکے میں کام پر واپس جانے کی بجائے سیدھا فیکٹری کے سامنے سڑک پر جا کر کھڑا ہوگیا۔ اور گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے شروع کردیئے، میرا منیجر! ہائے ہائے، میرا باس مردہ باد، ظلم کے ضابطے میں نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں جا رہی تھیں، لوگ مجھے دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور آہستہ آہستہ ہجوم بڑھتا گیا۔ ہماری فیکٹری کے ساتھی بھی میرے ساتھ آ کر کھڑے ہوگئے اور نعرے لگانے میں میرا ساتھ دینے لگے۔ پھر میں نے دیکھا، پریس والے کیمرے ہاتھ میں لئے ہماری طرف آرہے تھے؛ ان کو دیکھ کر میں نے اور زور سے نعرے لگانے شروع کردئیے۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ میرا منیجر فیکٹری سے نکل کر ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگنے آئے گا اور کہے گا، میں اپنے رویئے پر بہت شرمندہ ہوں، مجھے معاف کردو۔

ہجوم میں سے کوئی مجھے آواز دے رہا تھا، اعجاز! اعجاز! چلو کام پر جانے کا وقت ہوگیا ہے۔ میں نے کہا، اب تو میں فیکٹری تب جاؤں گا، جب وہ گنجا یہاں آکر مجھ سے معافی مانگے گا۔ یہ کہنا تھا کہ کسی نے مجھے کندھے سے جھنجھوڑ کر کہا، ارے نالائق! معافی مانگے میری جوتی! تم ابھی تک یہیں بیٹھے ہوئے ہو؟ کام چور!

میں نے آس پاس دیکھا تو کیفے ٹیریا خالی ہوچکا تھا، اور میرا منیجر میرے سامنے کھڑا غصے سے لال پیلا ہورہا تھا۔

جوتا گردی


دن بھر کی تازہ ترین خبروں کے ساتھ گلفام خان حاضر ہے۔ سب سے پہلے ایک نظر آج کی اہم ترین خبر پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج ایک پرہجوم جلسے کے دوران جناب لاچاری پر ایک جوتا کش حملہ ہوا، جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ حملہ آور، جس کی عمر تقریباً 50 سال بتائی جارہی ہے، سندھی ٹوپی پہنے ہوئے تھا، اور اس کی ہلکی سی داڑھی بھی تھی۔ اس حملے کے بعد انسداد جوتا گردی فورس فوراً حرکت میں آئی اور مجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اس خبر پر تبصرہ کرنے کے لئے ہمیں جوائن کیا ہے، وفاقی وزیر برائے انسداد جوتاگردی جناب پریشان ملک صاحب نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشان صاحب، کیا کہئے گا اس جوتا کش حملے پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘دیکھئے، ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا، کہ اس طرح کا بزدلانہ حملہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب دیکھئے نا، ہماری بات صحیح نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوتا گردوں نے اس بار بھی ایک پرامن محفل کو نشانہ بنایا۔۔۔۔ ہم اس معاملے کی مکمل تحقیقات اقوام متحدہ سے کروائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ جوتا گرد سن لیں۔۔۔۔۔۔۔وہ ہمیں ان ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم آخری سانس تک جوتا گردی کے خلاف لڑیں گے، کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم قربانیوں سے نہیں ڈرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے پہلے بھی بہت جوتے کھائے ہیں، ممم مطلب قربانیاں دی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری تاریخ ایسی قربانیوں‌ سے بھری پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ ہم نے ان جوتا گرد حملوں کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل سے پورے پاکستان میں اس حوالے سے خصوصی سرچ آپریشن کئے جائیں گے۔

‘پریشان ملک صاحب، کچھ تفصیل بتائیں گے، حکومت کیا اقدامات کرنے جارہی ہے اس حوالے سے؟

‘جی، اس حوالے سے انسدادِ جوتا گردی کمیٹی میں تین نکاتی لائحہ عمل پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے مرحلے میں ملک بھر سے رضاکارانہ طور پر جوتے اکٹھے کئے جائیں‌ گے، جو کہ غیر قانونی طور پر لوگوں کے پاس ہیں۔۔۔۔۔ اس کام کے لئے میڈیا پر عوام سے اپیل کی جائے گی، کہ وہ تحصیل کی سطح پر اس حوالے سے قائم کیمپوں میں اپنے زیرِ استعمال غیر قانونی جوتے جمع کروائیں۔ امید ہے، عوام اس سلسلے میں‌ ہم سے تعاون کرے گی، کیونکہ یہ ایک قومی اہمیت کا حامل ایشو ہے۔ اس مہم کے اختتام پر دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔ اس میں چھاپہ مار ٹیمیں غیر قانونی جوتوں کو اپنے قبضے میں لیں گی۔ نیز ماہر جوتا چوروں کی خصوصی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی، جو مسجدوں کے باہر سے بڑے پیمانے پر جوتے اکٹھے کرکے ملک کو ان غیرقانونی جوتوں سے نجات دلائیں گے۔ نیز قانون توڑنے والے کو بطورِ سزا بغیر جوتوں کے گھر جانا پڑے گا۔

‘ لیکن پریشان ملک صاحب، اس طرح تو لوگ جوتوں سے محروم ہوجائیں گے۔ آپ نے متبادل کا انتظام کیا ہے؟ یا پھر عوام بغیر جوتوں کے گھومتے پھریں گے؟ اس طرح تو ہم پتھر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معاف کیجئے گا، جنگلی دور میں‌ واپس چلیں جائیں گے۔

‘میرے بھائی، میڈیا والوں کی یہی خرابی ہوتی ہے۔ بات مکمل کرنے نہیں دیتے۔ میری بات سنیں۔ ہم نے پہلے ہی نادرا کا ایک ذیلی ادارہ تشکیل دیا ہے، جو لوگوں کو قانونی طور پر جوتے فراہم کرے گا۔ اس سلسلے میں چارسدہ اور کوہاٹ کے جوتا بنانے والے کاریگروں کا انتخاب جاری ہے۔۔۔۔۔۔ ہر شخص کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر ایک جوڑا جوتے کے لئے لائسنس فراہم کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد جوتا فراہم کیا جائے گا، جس میں‌ بار کوڈنگ کے ذریعے اس بندے کی تمام معلومات فیڈ کی جائیں گی۔۔۔۔۔ نیز اس میں‌ خفیہ سینسر بھی لگائے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی جوتا ہاتھ میں آئے گا، جوتے میں لگا سینسر اس تبدیلی کو نوٹ کرکے جوتے میں لگا ایک خفیہ الارم بجانا شروع کردے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح جوتا کش حملے بڑی حد تک روکے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ ایسی ٹیکنالوجی بھی زیرِ غور ہے، جس میں‌ جوتے سے پاؤں نکالتے ہی جوتے میں لگا الارم بجنا شروع ہوجائے، لیکن ابھی اس میں وقت لگے گا۔

‘پریشان صاحب، وہ تیسرا مرحلہ بھی بتادیں ہمارے ناظرین کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
‘تیسرے مرحلے میں غیرقانونی جوتے رکھنے والوں‌ کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھئے ہم سیاسی طور پر مسائل کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جہاں‌ پر‌حکومتی رِٹ کو چیلنج کیا جائے گا، وہاں جوتے کا جواب فوجی بُوٹ سے دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔

‘پریشان ملک صاحب، آپ کا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں اس معاملے پر حکومتی موقف سے آگاہ کیا۔’

ناظرین، اب وقت ہوا ہے ایک بریک کا، بریک کے بعد بات کریں گے ہمارے ایڈیٹر انوسٹی گیشن غمگسار عباسی سے، جو اس معاملے کو میڈیا میں کور کررہے ہیں۔

‘ویلکم بیک ناظرین، ہمارے ساتھ ایڈیٹر انوسٹی گیشن غمگسار عباسی صاحب موجود ہیں۔ غمگسار صاحب، کیا کہئے گا، آج کے تازہ ترین جوتا کش حملے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکومتی دعوؤں کے برعکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوتا گردی میں کمی نہیں آرہی۔۔۔ کیا وجہ ہے؟

‘ جی، میں تو پہلے سے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ حکومت ہی نکمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے پہننے کے جوتے اور ہیں نمائش کے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور، کھانے کے اور۔۔۔ انہوں نے ابھی تک کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی جوتا گردی کو ختم کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ پورے ملک میں غیر قانونی جوتے سر عام بک رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بنے گا اس ملک کا؟ خدا را ہوش کے ناخن لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کیا مستقبل دے رہیں اپنے بچوں کو؟

‘غمگسار صاحب، آپ کا بہت شکریہ، کہ آپ نے اپنے قیمتی خیالات ہم سے شئیر کئے۔

‘ناظرین، ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ انسداد جوتا گردی فورس نے کراچی میں ایک غیر قانونی جوتوں کی فیکٹری پر چھاپہ مار کر بڑی تعداد میں جوتے برآمد کئے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق، فیکٹری میں کام کرنے والے افراد کو حراست میں لے کر فیکٹری کو سیل کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کرنے کے لئے ہمارے ساتھ ٹیلی فون لائن پر لندن سے جناب بیتاب حسین صاحب موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیتاب صاحب، کراچی میں یہ کارروائی ہوئی ہے، آپ کا ردِ عمل کیا ہے؟’

‘دیکھئےےےےےے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس خطرے سے حکومت اور عوام کو بہت پہلے آگاہ کیا تھا، کہ کراچی جوتا گردوں کے قبضے میں‌ جارہا ہے، یہاں پر جوتا گردوں نے اپنے محفوظ ٹھکانے بنالئے ہیں، ان کو زیادہ تر خیبر پختونخواہ سے آنے والے لوگ پناہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہمیں الٹا تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج دیکھ لیں، ہماری بات سچ ثابت ہوئی نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سوٹ بوٹ والے شریف لوگ جوتا گردوں کے نرغے میں جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں جوتا گردی کے خلاف آپریشن کیا جائے، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔

‘ بیتاب حسین صاحب، آپ کا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں‌ اس حوالے سے کراچی کی نمائندہ تنظیم کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔’

ناظرین، اس کے ساتھ ہی ہمارے پروگرام کا وقت ختم ہوتا ہے۔ اپنا خیال رکھئے گا، اور آس پاس کے ماحول پر نظر رکھئے گا، اپنی حفاظت کیجئے اور جوتا گردی کے خلاف جنگ میں‌ اپنا حصہ ڈالئے۔ اپنے میزبان گلفام خان کو اجازت دیجئے۔

اللٰہ حافظ

نوٹ: اس مراسلے میں‌ بیان کئے گئے تمام کردار فرضی ہیں، کسی قسم کی مشابہت پڑھنے والے کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔ لکھنے والا اس سے بری الذمہ ہوگا۔

سراب


اپنے دوست کو صبح سویرے مسجد کے باہر اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر پہلے تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ وہ بندہ جو کبھی 9، 10 بجے سے پہلے اٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں بچپن سے ہی جن بھوت سے ڈرتا تھا۔ پہلے تو خیال آیا کہ شائد کوئی جِن میرے دوست کی شکل بنا کر میرے سامنے کھڑا ہے۔ لیکن جب اس نے پاس آکر بات شروع کی، تو یہ وہم ختم ہوگیا۔

"مبارک ہو، نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی ہے۔” اس نے خوشی سے کہا۔
مجھے اس کی بات کا بالکل یقین نہیں آیا۔

پھر اس نے تفصیل سے بتایا۔ یہ 13 اکتوبر 1999ء کی صبح تھی۔ پاکستانی عوام نے حلوے کی دیگیں تقسیم کرکے جنرل مشرف کا استقبال کیا۔ ہر طرف نئی حکومت کی آمد کی خوشی میں عوام پاگل ہو رہی تھی۔ اس وقت مجھے یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ ٹھیک دو سال بعد یہی لوگ سڑکوں پر آکر مشرف حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہوں گے۔

مشرف نے آکر بہت سارے اچھے کام بھی کئے۔ انہوں نے فوجی جوانوں کو سویلین اداروں میں بھی "مدد” کے لئے بھیجا۔ بہت سارے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کئے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان اور اجمل خٹک جیسے لوگ بھی دھوکہ کھا گئے۔ بلاشبہ ابتدائی دنوں میں مشرف نے بد عنوان لوگوں کے خلاف جس طرح کریک ڈاؤن شروع کیا، اس سے یہی لگ رہا تھا کہ پاکستانی قوم کو ایک مناسب لیڈر مل گیا ہے، جو برسوں کی تشنگی دور کرنے کے لئے کافی ہے۔

لیکن معلوم نہیں تھا کہ ہم اپنے مسائل کی صحرا میں سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ 9/11 کے واقعے نے تو پاکستان کی پالیسی کو یوٹرن پر مجبور کردیا۔ وہ لمحے ہمارے لئے ایک بہت ہی نازک مرحلہ تھا، اسکول اور کالج بند کر دیئے گئے۔ عوامی احتجاج کو کچلنے کے لئے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ” سب سے پہلے پاکستان” کے سبز باغ دکھا کر پاکستانیوں سے ان کے خواب چھین لئے گئے۔

سب سے پہلے پاکستان، یہی نعرہ دے کر کیا کچھ نہیں کیا گیا پاکستان کے ساتھ ۔ کچھ بھی فیصلہ ہو، تاویل یہی دی جاتی ہے کہ جناب، یہ فیصلہ وسیع تر قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ ہم نے امریکہ کا ساتھ دے کر کھویا ہی کھویا ہے، پایا کچھ نہیں۔ ہر حکومت کے آنے کے ساتھ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ شاید اس باراچھا ہو۔ شاید اس مرتبہ ہمارے مسائل حل ہوں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اس سیاسی نظام نے آج تک ہمیں کوئی مخلص لیڈر نہیں دیا۔ سارے کے سارے کرپٹ، موقع پرست اور چڑھتے سورج کے پجاری نکلے ہیں۔

آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ کب تک عوام کی خاموش اکثریت، جن کو مشرف اپنا حمایتی سمجھتا تھا، اس ظلم کو برداشت کرتا رہے گا؟ عوام کا باشعور طبقہ کب سامنے آکر ان لٹیروں سے مقابلہ کرے گا؟ شاید ہم سراب کے پیچھے ہی بھاگتے رہیں گے۔

%d bloggers like this: