Monthly Archives: جون, 2011

میں شرمندہ ہوں!


ہر بار جب پاکستان میں کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا، تو اس سے اگلے دن دفتر جانا مشکل ہوتا۔ اکثر سوچتا کیا عذر پیش کروں ان واقعات کا؟ جب دفتر میں اپنے جاننے والوں‌ سے سامنا ہوتا تو وہی بات چھڑ جاتی، یار ہارون، کیسے لوگ ہیں یہ؟ مسجدوں میں گھس کر نمازیوں کو مارتے ہیں؟ یہ کیسا اسلام ہے؟ میں کبھی اس کو غیر ملکی ایجنسیوں کی کارستانی قرار دیتا، کبھی اس کو چند گمراہ لوگوں کی کارروائی قرار دیتا۔ غرض کسی نہ کسی طرح اپنی جان چھڑا کر نکل جاتا۔ مجھے معلوم ہوتا تھا، میری باتوں سے ان کی تسلی نہیں ہوتی تھی، لیکن میں ڈھیٹ بن کر ان کے ملکوں میں ہونے والے واقعات کا حوالہ دے کر کہتا، یار یہ تو تمہارے ممالک میں بھی ہوتا ہے! اس طرح کے اکا دکا واقعات سے پورے معاشرے کو تھوڑی قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے! آپ بھی کمال کرتے ہیں، پاکستانی ایسے بالکل نہیں۔ اچھے برے تو ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔

اس بار تو حد ہوگئی۔ میں سوچ رہا تھا، کیسے سامنا کروں اپنے غیرملکی دوستوں کا۔ کیا عذر پیش کروں اپنے ملک کے حالات کا۔ کیا مثال دوں ان کے ملکوں کا، کہ یہ تو آپ لوگوں کے ممالک میں بھی ہوتا ہے۔ اس میں بڑی بات کیا ہے؟ چند جرائم پیشہ افراد کی کارروائی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

سوچ رہا تھا، کوئی پوچھے گا تو کہہ دوں گا، میں نے خبر نہیں پڑھی۔ آج کل بہت مصروف ہوں، نیوز دیکھی ہی نہیں۔ لیکن یہ عذر کچھ وزن نہیں رکھتا، آج کل میڈیا کا دور ہے۔ اور اس واقعے کی ویڈیو بھی تو سامنے آگئی ہے۔ تو کیا کروں؟ ٹھیک ہے، کوئی پوچھے گا تو کہہ دوں گا یہ تو چند جرائم پیشہ افراد کی کارروائی تھی، حکومت اس کی تحقیقات کررہی ہے۔ جلد ہی مجرموں کو سزا دی جائے گی۔ لیکن یہ بات بھی کچھ عجیب سی لگ رہی تھی۔ ساری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک سانحہ ہوا ہے، اور مجرموں کو سزا دینے کے لئے تحقیقات ہورہی ہیں؟ ہاں، یہ بات بھی تو ہے۔ پھر خیال آیا، کہہ دوں گا، مہذب معاشروں میں مجرموں کو عدالتیں سزائیں دیتی ہیں، اس لئے وقت تو لگتا ہی ہے نا! لیکن جن ” مجرموں“ کو عوام کی عدالت میں مارا گیا، ان کو سزا پاکستان کی عدالت نے کیوں نہیں دی؟ ارے میں کیا عذر پیش کروں؟ سوچ سوچ کر پریشان ہوگیا۔

بس میں بیٹھ کر عجیب لگ رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا، جیسے سارے لوگ میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ دیکھو، ایک پاکستانی بیٹھا ہوا ہے۔ یہ وہی ہے نا، جس کے ملک میں ”ڈاکوؤں“ کو عوام خود سزا دیتی ہے؟ ہاں، وہی ہے۔

آفس پہنچا تو کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ ابھی میرا کوئی کولیگ آئے گا، اور ہمیشہ کی طرح کہے گا، ہارون! یہ کیا ہورہا ہے پاکستان میں؟ میں کہوں گا، یار تم لوگ بھی تعصب کی انتہا کرتے ہو۔ سارے پاکستانی ایسے تھوڑی ہیں؟ چند افراد کی غلطیوں سے پورے ملک کو بدنام کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

لیکن کسی نے بھی نہیں پوچھا، کہ سیالکوٹ میں کیا واقعہ پیش آیا؟ کسی نے آکر مجھ سے پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات شئیر نہیں کئے۔ کسی انڈین نے مجھے فخر سے یہ نہیں کہا کہ دیکھو، بھارت میں تو ایسا نہیں ہوتا! کسی نے نہیں پوچھا۔ شائد ان کو یقین ہوگیا تھا، شائد ان کو پتا چل گیا تھا، کہ ہم انسانیت کے درجے سے نیچے گر چکے ہیں۔ جو انسانیت پر یقین ہی نہیں رکھتے، ان سے بحث کیسی؟ شائد اس لئے وہ لوگ مجھے اگنور کر رہے تھے۔ میں پسینے میں شرابور ہوکر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، جیسے سب لوگ کہہ رہے ہوں، وہ دیکھو، یہی ہے وہ پاکستانی، جس کے ملک میں‌ ”انصاف“ سستا ملتا ہے۔ جہاں پر لوگ ”ڈاکوؤں“ کو پولیس کی موجودگی میں عوام سزا دیتی ہے!

اپنی زندگی میں شائد پہلی بار مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر افسوس ہوا!

Advertisements
%d bloggers like this: